پطرس بخاری کو ہم سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے

02:40 PM, 5 Dec, 2025

لاہور : آج پطرس بخاری کو ہم سے رخصت ہوئے 67 برس بیت گئے۔ پطرس بخاری، جو ایک عظیم مزاح نگار، افسانہ نگار اور شاعر تھے، اپنی زندگی میں کئی اہم عہدوں پر فائز رہے اور اپنے کاموں سے اردو ادب اور ملک کی خدمت کی۔

پطرس بخاری 1 اکتوبر 1898 کو پشاور میں پیدا ہوئے، اور ان کا اصل نام سید احمد شاہ تھا۔ انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے ابتدائی تعلیم حاصل کی، پھر اعلیٰ تعلیم کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا، جہاں کیمبرج یونیورسٹی سے انگریزی ادب میں اول درجے میں ڈگری حاصل کی۔

ان کی ادبی زندگی کا آغاز سول اینڈ ملٹری گزٹ کے ذریعے ہوا۔ 1947 میں انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور کے پرنسپل کا عہدہ سنبھالا، اور اس دوران کالج کی تعلیمی اور ثقافتی سرگرمیوں میں نمایاں بہتری آئی۔ اس کے علاوہ، پطرس بخاری کی ایک اور اہم کامیابی ریڈیو پاکستان سے جڑی ہوئی ہے۔ وہ ریڈیو کے ابتدائی دنوں میں اس ادارے کے انتظامی اور فنکارانہ شعبے میں فعال رہے اور اس کو نئی سمت دی۔

پطرس بخاری کو 1949 میں اقوام متحدہ میں پاکستان کا مستقل مندوب مقرر کیا گیا، جہاں انہوں نے پاکستان کے مفادات کی بھرپور نمائندگی کی۔ ان کی قیادت میں پاکستان کی عالمی سطح پر آواز زیادہ مضبوط ہوئی۔

پطرس بخاری کے مزاح نگاری کے انداز نے اردو ادب میں ایک نئی ہوا چلائی۔ ان کی تحریریں نہ صرف مزاح سے بھرپور تھیں بلکہ ان میں گہری سماجی اور سیاسی بصیرت بھی چھپی ہوتی تھی۔ انہوں نے زندگی کے مختلف پہلوؤں کو ہنسی مذاق میں پیش کیا، لیکن ان کی تحریروں کا پیغام ہمیشہ سنجیدہ اور اثر انگیز ہوتا تھا۔

پطرس بخاری کی زندگی کا مقصد صرف ادب تک محدود نہیں تھا۔ ان کی خدمات کے اعتراف میں حکومت پاکستان نے انہیں 2003 میں ہلالِ امتیاز سے نوازا۔ پطرس بخاری نے 5 دسمبر 1958 کو نیویارک میں وفات پائی، لیکن ان کا کام اور ان کی تحریریں آج بھی ہمارے دلوں میں زندہ ہیں۔

آج ان کی برسی پر ہم انہیں یاد کرتے ہیں اور ان کی عظیم خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ پطرس بخاری نہ صرف ایک لائقِ فخر ادیب تھے بلکہ ایک کامیاب منتظم، سفارتکار اور قومی مفادات کے پاسبان بھی تھے۔ ان کی شخصیت ہمیشہ ایک مثال کے طور پر جیتی رہے گی۔

مزیدخبریں