جب کوئی انسان اپنے معاشرے اورملک کی فلاح و بہبود کے لیے بلا معاوضہ کام کرنے کا جذبہ رکھتا ہو اور فقط اللہ کی رضا کے لیے ایسے کارِ خیرمیں حصہ لیتا ہے جس سے عوام الناس کو فائدہ ہوایسے جذبے کو رضاکارانہ مددکا جذبہ اور ایسے شخص کو والنٹیئر یا رضا کار کہا جاتا ہے۔ کسی بھی والنٹیئر کی کوششیں کبھی رائیگاں نہیں جاتیں بلکہ والنٹیئر کی کوششیں نہ صرف معاشرے میں اس والنٹیئر کو با اعتماد بناتی ہیں بلکہ ان کوششوں کی وجہ سے کمیونٹی میں سماجی ہم آہنگی کو فروغ ملتا ہے اور والنٹیئرز مل جل کر علاقے کی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔ والنٹیئرز کے عالمی دن جو کہ 5دسمبر کو منایا جاتا ہے، کے موقع پر میں ان تمام والنٹیئرز کو خراج تحسین پیش کرتی ہوں جنہوں نے علاقائی اور ملکی سطح پر قدرتی آفات اور مختلف حادثات کے تدارک کے لیے اپنا وقت اور خدمات خالصتاً اللہ کی خوشنودی اور کمیونٹی کی فلاح و بہبود کے لیے انجام دیں۔
1985 سے ہر سال 5 دسمبرکو والنٹیئرز کا عالمی دن منایا جاتا ہے اس سال بھی یہ دن والنٹیئرز کے ساتھ یکجہتی کے عزم کے ساتھ منایا جا رہا ہے جس کا مطلب والنٹیئرز کے کاموں کو سماجی سطح پر اجاگر کر کے شہریوں کے رویہ میں تبدیلی لانا اور وطن عزیز میں والنٹیئرزم کے جذبے کو فروغ دینا ہے تاکہ ہر شخص والنٹیئر کے طور پر کام کرنا اپنے لیے باعث فخر سمجھے اور معاشرے کو بہتر بنانے میں اپنا عملی کردار ادا کر سکے۔
پاکستان جیسے ملک میں جہاں پر لوگوں کا تما م تر وقت اپنی بنیادی ضرورتوں کو پورا کرنے کی کو شش میں ہی صرف ہو جاتا ہے اس کے باوجود یہاں پر ہر شخص جذبہ خدمت سے سرشار ہے وہ اپنے علاقے کی بہتری کے لیے کام کرنا چاہتا ہے، اور دوسروں کی مدد میں بڑھ چڑھ کر حصہ بھی لیتا ہے۔ اس کی مثال کئی حادثات و سانحات میں ملتی ہے جیسے 2005 کا زلزلہ، کورونا کی وبا اور حالیہ بدترین سیلاب جس کے دوران اور بعد قوم یکجا ہو کر متاثرین کی مدد کے لیے پیش پیش رہی۔ ایسے سانحات میں کام کرتے ہوئے کہیں کہیں یہ بھی محسوس ہوتا ہے کہ ہماری نوجوان نسل خاص طور پر والنٹیئرز کو بسا اوقات ان پلیٹ فارمز یا اداروں کی آگاہی نہیں ہوتی جن کے ساتھ ملکر وہ اپنے علاقے کے لیے زیادہ بہتر طریقے سے کام کر سکیں۔
جنوبی ایشیا کی سب سے بڑی اور مربوط ماڈل کی حامل ایمرجنسی سروس، ریسکیو 1122 نہ صرف ہنگامی حالات میں فوری امداد فراہم کرتی ہے بلکہ شہریوں کو کمیونٹی کی سطح پر ایمرجنسی ریسپانس کا فعال حصہ بنانے کے لیے بھی اہم اور مؤثر اقدامات کر رہی ہے۔ ریسکیو 1122 نے اپنے کمیونٹی سیفٹی پروگرام کے تحت تمام والنٹیئرز کو ریسکیو سکاؤٹس کی حیثیت سے منظم کیا ہے تاکہ وہ اپنے علاقوں میں ایمرجنسیز سے نمٹنے، سیفٹی کلچر کے فروغ اور عوامی خدمت میں ادارے کے شانہ بشانہ کردار ادا کر سکیں۔ اس پروگرام کے تحت شہریوں کو تین مختلف لیولز پر عملی تربیت فراہم کی جاتی ہے، جن میں Level-1 پاک لائف سیور پروگرام شامل ہے جو وزیراعظم پاکستان کی ہدایات پر شروع کیا گیا اور جس کا مقصد عام شہریوں کو زندگی بچانے کی بنیادی مہارتیں مثلاً سی پی آر اور خون بہا کو روکنے کی مہارتیں سکھانا ہے تاکہ روڈ ٹریفک حادثات سمیت دیگر ہنگامی حالات میں قیمتی جانیں بچائی جا سکیں۔ Level-2 ریسکیو سکاؤٹ کور کے تحت والنٹیئرز کو فائر سیفٹی، روڈ سیفٹی، بنیادی طبی امداد، ماحول کی صفائی اور محفوظ کمیونٹی کے فروغ جیسی مہارتیں سکھائی جاتی ہیں، جبکہ Level-3 کمیونٹی ایکشن فار ڈیزاسٹر ریسپانس (CADRE) کے ذریعے شہریوں کو سیلاب، زلزلے اور دیگر قدرتی آفات کے دوران مؤثر انداز میں ریسپانس دینے کے قابل بنایا جاتا ہے۔ نومبر 2025 تک کے اعداد و شمار کے مطابق صوبہ پنجاب میں 3 لاکھ سے زائد لائف سیورز، 1 لاکھ 50 ہزار سے زیادہ ریسکیو سکاؤٹس اور پنجاب کی تمام یونین کونسلز میں 5 ہزار سے زائد کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیمیں (CERTs) قائم کی جا چکی ہیں۔ یہ کامیابیاں ثابت کرتی ہیں کہ ریسکیو 1122 پاکستان کا ایسا جامع اور معیاری ادارہ ہے جو نہ صرف ملک کے تمام صوبوں کے ایمرجنسی اہلکاروں کو تربیت فراہم کرتا ہے بلکہ بڑی تعداد میں والنٹیئرز کو بھی جدید ایمرجنسی مہارتیں سکھا کر معاشرے کو محفوظ، مستحکم اور قدرتی آفات کے مقابلے کے لیے زیادہ Resilient بنایا جا رہا ہے۔
ریسکیو 1122 کا ریسکیو سکاؤٹس کور پروگرام این سی سی کے طرز پر پنجاب کے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے طلبہ و طالبات کو تربیت فراہم کرتا ہے۔ اس پروگرام میں والنٹیئرز طلبہ ریسکیو سکاؤٹس موبائل ایپ پر رجسٹریشن کے بعد آن لائن کورس کے بعد عملی تربیت حاصل کر کے سرٹیفیکیشن حاصل کرتے ہیں اور پھر کمیونٹی ایمرجنسی ریسپانس ٹیموں کا حصہ بن کر اپنے علاقوں میں ایمرجنسی ریسپانس، سیفٹی آگاہی اوردوسرے شہریوں کو زندگی بچانے کی عملی مہارتوں پر تربیت بھی فراہم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر حادثات کی روک تھام کو فروغ مل رہا ہے۔ اس وقت پنجاب کی تمام یونین کونسلز میں فعال CERT ٹیمیں قائم ہو چکی ہیں جنہوں نے حالیہ سیلاب کے دوران ریسکیو سروس کی رہنمائی میں لاکھوں لوگوں اور جانوروں کو محفوظ مقامات تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر CERT ممبر کو بین الاقوامی معیار کے CADRE کورس پر تربیت دی جاتی ہے جس میں حادثات پر ریسپانس، انسیڈنٹ کمانڈ، زخمیوں کی دیکھ بھال، پانی اور آگ کے حادثات سے نمٹنے کی عملی مہارتیں شامل ہیں، جبکہ یہ ٹیمیں اپنے علاقے کے خطرات کی نشاندہی پر مبنی رپورٹ ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر کے ذریعے ڈسٹرکٹ ایمرجنسی بورڈ میں پیش کرتی ہیں، جہاں ڈپٹی کمشنر کی سربراہی میں ان مسائل کے حل کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔ اس طرح ریسکیو کی والنٹیئر ٹیمیں حکومت اور عوام کے درمیان ایک مضبوط پل کا کردار ادا کر رہی ہیں اور اپنے علاقوں کو حادثات سے پاک اور محفوظ بنانے میں نمایاں خدمات انجام دے رہی ہیں۔
یہ ایک حقیقت ہے کہ والنٹیئرز کو دیر تک بلامعاوضہ اپنے ساتھ منسلک رکھنا بہت مشکل کام ہے لیکن ایمرجنسی سروسز اکیڈمی لاہور میں ہر سال انٹرنیشنل والنٹیئر ڈے سرٹ چیلنج کا انعقاد درحقیقت عوام الناس میں ریسکیو سروس اور والنٹیئرز کے مابین پُر اعتماد تعلق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی یہ چیلنج 1 سے 5 دسمبر تک جاری رہے گا جس میں پاکستان کے دوست ملک چائنہ سے بھی والنٹیئر کی 2 ٹیمیں شرکت کر رہی ہے۔ چیلنج کے آخر میں بہترین کارکردگی کے حامل ٹیموں کو انعامات اور تعریفی اسناد سے نوازا جائے گا۔ آخر میں انٹرنیشنل والنٹیئر ڈے CERT چیلنج میں شرکت کرنے والے تمام والنٹیئرز کا شکریہ جن کا رضا کارانہ کام پاکستان میں صحت مند اور محفوظ معاشرے کے قیام کا اہم جز ہے۔ اللہ ہمیں والنٹیئرزم کے اسی جذبے کے تحت وطن عزیز کے لیے کام کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین
(کالم نگار ہیڈ آف کمیونٹی سیفٹی اینڈ انفارمیشن ریسکیو1122پنجاب ہیں۔)
5 دسمبر۔ والنٹیئرز کا عالمی دن
09:15 AM, 5 Dec, 2025