بھارت نے گزشتہ 78 برسوں میں پاکستان کے خلاف جتنے بھی من گھڑت اور گھٹیا الزامات لگائے ان کی تفصیل بڑی طویل ہے۔ بھارتی لیڈر شپ نے روزِ اول سے دو قومی نظریہ کو تسلیم نہ کرتے ہوئے دل سے پاکستان کے وجود کو قبول نہیں کیا۔بھارت کے موجودہ وزیرِ اعظم نریندر مودی بھی نہ صرف اپنے پیش رو پنڈت نہرو کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بلکہ بھارتی سیاست کے قدیم بانی فلاسفر چانکیہ کی حکمتِ عملی پر عمل کرتے ہوئے بھارتی گجرات میں مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلنے کے بعد نئی دہلی میں وزیرِ اعظم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد مسلمانوں کی نسل کشی کے ساتھ ساتھ آئے روز پاکستان کی طرف سے سرجیکل سٹرائیک کے من گھڑت ڈرامے رچا کراس شد و مد کے ساتھ پوری دنیا کو بیوقوف بنانے کی کوشش کرتے رہے ہیں کہ جرمنی کے سابق ڈکٹیٹر ہٹلر کے پروپیگنڈا وزیر گوبلز کو بھی اپنی قبر میں خوشی ہوتی ہو گی کہ 21 ویں صدی میں گوبلز کے جانشین نے دروغ گوئی کے تمام عالمی ریکارڈ توڑ دئیے ہیں۔ تازہ ترین پہلگام کے من گھڑت اور بے بنیاد سرجیکل سٹرائیک کے غبارہ پھٹ جانے کا منطقی انجام ساری دنیا کے سامنے روزِ روشن کی طرح ظاہر ہو چکا ہے اور پاکستانی افواج سے منہ کی کھا کر بھارت کی سول اور فوجی قیادت کھسیانی بلی کی طرح فیس سیونگ کے لئے بہانے ڈھونڈتے پھرتی ہے۔ ماضی میں بھارتی سازشوں کو درپردہ شہ دینے والی مغربی طاقتیں بھی لاجواب ہو کر اب اپنا قبلہ تبدیل کر رہی ہیں۔
اب تو ثابت ہو گیا ہے کہ پہلگام کی سرجیکل سٹرائیک کا ڈرامہ افغانستان اور بھارت کی ملی بھگت سے سوچی سمجھی سازش تھی جس کے مطابق بھارت پاکستانی افواج کو الجھا کر افغانستان کو کھلی چھٹی دے گا جو پاکستان کے اندرونی حالات میں افراتفری پیدا کر سکے۔ پاکستان کے اندر دہشت گردی کے واقعات کر کے اور بھارت کی طرف سے طبلِ جنگ بجا کر پاکستانی افواج کو اشتعال انگیزی کے نتیجہ میں ردِ عمل اور جوابی کارروائی پر مجبور کر کے دونوں ممالک کے درمیان تناؤ میں شدت پیدا کرنا اور عالمی سطح پر پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات لگا کر عالمی سطح پر پاکستان کو تنہا کرنے کی نہایت گھٹیا سازش تھی۔لیکن پاکستان کے نہایت متوازن اور ذمہ دارانہ جوابی کارروائی کے نتیجہ میں بھارتی اور افغان سازش اور ان کے سرپرستوں کی منصوبہ بندیاں بری طرح ناکام ہو کر پاکستان عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور باوقار با اعتماد ایٹمی طاقت ثابت ہو کر سر بلند اور سرخرو ہو کر اس امتحان سے نکلا ہے۔
طالبان حکومت کا طرزِ عمل انتہائی افسوسناک ہے۔ اقتدار میں واپسی کے بعد طالبان نے ابتدائی طور پر پاکستان کے ساتھ امن اور تعاون کا وعدہ کیا لیکن جلد ہی دہشت گرد گروہوں کی حمایت اور سہولت کاری کر کے اور سفارتی وعدوں کو توڑ کر تضادات کا نمونہ پیش کیا۔ افغانستان کے لئے کئی دہائیوں کی بے مثال قربانیوں اور حمایت کے باوجود پاکستان کو دھوکا دہی کا سامنا کرنا پڑا ہے کیونکہ طالبان کی فرار کی پالیسیوں سے اعتماد ختم ہو رہا ہے۔ افغان عوام کے لئے پاکستان کی بے پناہ اور غیر متزلزل حمایت کا بیانیہ وسیع تاریخی ریکارڈ قربانیوں کا معاملہ ہے، جو اس کی امداد سوویت مخالف مزاحمت میں اس کے اہم کردار سے لے کر کئی دہائیوں تک چار ملین سے زیادہ افغان مہاجرین کی میزبانی میں اس کے بے مثال انسانی ہمدردی کے عزم تک کو بنیادی طور پر حقیقی خیر سگالی، گہری قومی قربانی اور برادرانہ ذمہ داری کے گہرے احساس کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اپنے پڑوسی کے لئے پاکستان کی ٹھوس اور دستاویزی حمایت کی فہرست وسیع ہے اور اس کا دائرہ کار یا مدت بھی خاصی طویل ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ اس کئی دہائیوں کی خدمت کے بدلے میں جو معاوضہ پاکستان کو ملا ہے اسے مسلسل زبردست منفی اور شدیدغیر مستحکم کرنے والا قرار دیا جاتا ہے۔ یکے بعد دیگرے افغان انتظامیہ اور سب سے زیادہ خاص طور پر موجودہ طالبان کے زیرِ قیادت حکومت پر الزام ہے کہ وہ دہشت گرد گروہوں کی فعال طور پر حمایت کر رہی ہے جن کا بنیادی اور واضح مقصدپاکستان کی خود مختار سرحدوں کے اندر دہشت گردی اور پرتشدد کارروائیاں کرنا ہے۔ ان مخالف گروہوں کے خلاف ضروری اور فیصلہ کن کارروائی کرنے کی بجائے افغان طالبان کی زیرِ قیادت حکومت کو فتنہ الہند اور فتنہ الخوارج کے طور پر وسیع پیمانے پر بیان کئے جانے والے عناصر کے ساتھ پاکستان کو نشانہ بنانے والے سرحد پار حملوں کو فعال کرنے اور آسان بنانے میں براہِ راست ملوث قرار دیا گیا ہے۔
بھارت اور افغانستان شروع دن سے ہی پاکستان کے لئے مسائل کا باعث چلے آ رہے ہیں۔ بھارت کے ساتھ پاکستان کی کئی جنگیں لڑ چکا ہے، ادھر افغانستان کا یہ حال ہے کہ اس نے قیامِ پاکستان کے بعد اقوامِ متحدہ میں پاکستان کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ پاکستان کے پہلے وزیرِ اعظم لیاقت علی خان کو شہید کرنے والے شخص کا تعلق بھی افغانستان سے تھا۔ ان تمام تلخ حقائق کے باوجود پاکستان نے کوشش کی کہ افغانستان کے ساتھ تعلقات اچھے بنائے جائیں جب کہ بھارت کے ساتھ بھی خوشگوار تعلقات قائم کئے جائیں لیکن دونوں ملکوں کی جانب سے خاطر خواہ جواب نہیں آیا۔ ان سارے معاملات کو غور سے دیکھا جائے تو یہی لگتا ہے کہ افغانستان اور بھارت کی وجہ سے پاکستان کو خاصے مسائل کا سامنا ہے۔ بھارت کی خفیہ ایجنسی افغانستان میں پاکستان کے خلاف کام کرنے والے گروہوں کو مدد فراہم کر رہی ہے۔ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ پاکستان کو مطلوب افراد افغانستان میں موجود ہیں۔ پاکستان کی یہ توقع بجا ہے کہ افغان حکومت ان لوگوں کے خلاف کارروائی کرے گی لیکن الٹا وہ ان کی سہولت کاری کر رہی ہے۔
یہی طرزِ عمل بھارتی حکومت کا بھی ہے۔ بھارت پاکستان کو زچ کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وہ افغانستان میں بیٹھے پاکستانی طالبان کے ذریعے پاکستان میں تخریب کاری کرا رہا ہے۔ ان واقعات سے یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ افغانستان اور بھارت دونوں کو حالات کی نزاکت کا احساس نہیں ہے۔ اگر افغانستان کی حکومت اور بھارتی حکومت زمینی حقائق کو تسلیم کر لیں تو اس خطے میں امن قائم کرنا زیادہ مشکل نہیں۔ دو ایٹمی قوت کے حامل ملکوں کے درمیان بڑھتی کشیدگی کسی صورت بھی بہتر نہیں ہے۔ یہ بات بار بار لکھی جاتی رہی ہے کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ہے۔ مسائل صرف بات چیت اور سفارت کاری سے حل ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ تباہی و بربادی اور ہلاکت خیزی کا استعارہ ہے۔ اس کے دامن میں مسرتوں کے پھول نہیں دکھوں کے کانٹے ہوتے ہیں۔
مودی ،گوبلز کے نقشِ قدم پر
09:13 AM, 5 Dec, 2025