جون غم کے ہجوم سے نکلے

09:11 AM, 5 Dec, 2025

مجھے جون کی طبعی موت کا ہمیشہ افسوس رہے گا۔ جون جیسے غیر معمولی آدمی نے معمول کی موت کیسے قبول کر لی؟ میرا خیال ہے کہ جون سے ان کی موت رئیس امروہوی نے ادھار مانگی تھی۔ جون سخی آدمی تھے انھوں نے کھلے دل سے وہ گولی بھائی کو دے دی جو جون کا مرتبہ سمجھتی تھی۔ البتہ خدا کا شکر ہے کہ وہ زندگی میں خون تھوکتے رہے۔ ورنہ ہم جو جون کے گرویدہ ہیں دنیا کو کیا منہ دکھاتے کہ جون ایلیا نے عیش و عشرت کی زندگی گزار لی؟ وہ جو کتابوں کے ظلم کا شکار ہو کر "رمز" لکھ گیا تھا وہ مژدہ عشرتِ انجام پا گیا؟؟؟ زندگی میں آرام پا گیا؟ توبہ توبہ سوچ کر ہی کلیجہ منہ کو آتا ہے۔
جیتے جی کیسی توہین جھیلنا پڑتی اگر جون ایلیا معمول کی زندگی گزار لیتے۔ عام بے کار دولت مندوں جیسی زندگی۔ حرام خور دماغوں جیسی زندگی۔ جو تاریخ کے دسترخوان پر حرام خوری کرنے والے کند دماغوں اور غیر تخلیقی رویوں سے شدید نفرت کرتا رہا وہ کیسے ان کی طرح کی جینا قبول کر لیتا؟ ۔ جون نے بیسویں صدی کے معیارات کو چیلنج کیا۔ کیا ستم ہے کہ ایسے چیلنج منٹو جیسے جنگجووں نے قبول کیے یا پھر جون جیسے بہادروں نے۔ بھئی جو شخص پوری دنیا کا نظام ہی بدل دینا چاہتا ہو وہ کیسے گھسے پٹے نظامِ زندگی کے آگے ہتھیار ڈال دے؟ ۔ کچھ عرصہ قبل عشق آباد نے جون پر ایک خصوصی سیشن رکھا گیا۔ الحمرا ہال لاہور میں بڑے بڑے لوگ آئے۔ پروگرام شروع ہو گیا۔ جون پر بات ہونے لگی۔ ایک معروف نقاد نے کہا کہ جون کے بال بہت مشہور ہوئے۔ ان کے بعد لڑکے لڑکیوں نے ان جیسے بال رکھنا شروع کر دیئے۔ جون کو اتنی شہرت ملی کہ ان کا حلیہ فیشن بن گیا۔۔۔۔۔ 
لیجے یہ جون پر بات ہو رہی ہے 
جو لوگ جون کو صرف شاعر جانتے ہیں وہ جون کو جانتے ہی نہیں۔ اگرچہ جون نے شاعری سے دل بہلائے رکھا لیکن یہ دل لگی جدید اردو شاعری میں لکرگس سے شناسائی کی سبیل بنی۔ مارکس آریلیس کے نام ہوئی، افلاطون سے ہوتی ہوئی نو افلاطونی فلاسفہ تک پہنچی۔ جون نے جدید شاعری کو خاص استفہامیہ لہجہ، سوال کرنے کا سلیقہ اور استفسار کرنے کا نیا رنگ ڈھنگ دیا۔ وہ جس نفاست سے ڈائیوجینیز کو سامنے لائے یہ انہی کا کام تھا۔ اس کام سے اندازہ کیجئے جون ایلیا کیسے نفیس آدمی تھے۔ 2020 میں نیب کے ایک سیمینار کے بعد سندھ کے افسر نے جون پر بات شروع کی۔وہ تنقیص کرتے ہوئے ان کے لباس کا بار بار ذکر کر رہے تھے۔ موصوف خود پینٹ کوٹ ٹائی میں جکڑے ہوئے تھے۔ یقین کیجئے مجھے اس وقت ٹائی ان کے وجود سے بڑی نظر آنے لگی تھی۔ جون نے دیو جانس کلبی کا نفاست سے ذکر ہی نہیں کیا وہ ان کے جن افکار سے متاثر ہوئے وہ حیرت انگیز ہیں۔ جیسے سقراط کو مہنگے اور اعلیٰ قسم کے لباس یا سواری متاثر نہیں کیا جا سکتا تھا۔ کئی واقعات میں ملتا ہے کہ ایسے لوگوں سے سقراط نے بڑی بے نیازی سے کہا کہ "بات کیجئے، بولیے، کلام کیجئے"۔ سقراط نے انسان کی قابلیت اور اہلیت کے معیار یا اس کی شناخت کے طور پر کم از کم کسی زیرِ استعمال چیز کو قبول نہیں کیا۔ دیو جانس کے ہاں یہی رواج اپنی انتہا کو پہنچ جاتا ہے۔ وہ دنیا کی بے ثباتی کی پرتیں کھول کھول کر دکھاتا ہے۔ تعیش کی معذوری پر ہنستا ہے اور خالص انسان کی تلاش میں وہ دن میں لالٹین اٹھا کر پھرتا ہے۔
کلبیت کی اس تحریک نے آنے والے ہر زمانے میں اپنی گنجائش پیدا کر لی۔ روحانیت کے کتنے ہی سلسلوں کو متاثر کیا اور دنیا سے لوگوں کو توڑ توڑ کر سوچ نئے جہانوں سے جوڑنے کی سبیل پیش کرتی رہی۔ جون سے کسی نے سوال کیا کہ آپ زبان پر بہت زور دیتے ہیں۔ بھئی فارسی، عربی، سنسکرت، عبرانی اور اردو سے عشق کرنے والا شخص کیا گھٹنوں اور ٹخنوں سے انسان کی شناخت کرتا؟؟ جون نے پیتھاگورین کو دریافت کیا اور نہ جانے کب تک وہ گلیلیو کا مقدمہ لڑتے رہے۔ جون کے مضامین میں گلیلیو زیر لب دہراتا دکھائی دیتا ہے کہ بالآخر زمین تو گھومتی ہے۔ جون ایلیا اپنی کھوج میں اسرائیلی دانشوروں سے ہوتے ہوئے راہبانِ مسیحیت اور آبائے کنیسہ تک پہنچے۔ انھوں نے انطاکیہ اور اسکندریہ کے علمی افکار تک رسائی حاصل کی۔جون نے مسجدِ کوفہ سے علی کا خطبہ سنا اور باب العلم کا قتل بھی اسی جگہ ہوتے دیکھا تو دنیا سے ہمیشہ کے لیے خفا ہو گئے۔ اکثر وہ اپنی نظم پڑھتے ہوئے اس کا حوالہ دیا کرتے تھے۔ "علی نے یہی تو کہا تھا ہم سے، علم علم اور علم"۔ وہ مراجیت کے نام لیواؤں اور معتزلہ کی بنیادیں رکھنے والوں تک پہنچ گئے۔ انھوں نے ابو ہاشم، واصل بن عطا اور حسن بن محمد حنفیہ سے مکالمہ کیا۔وہ بیکن کے فقرے دہراتے رہے اور پہلے روسی خلانورد کے خلا میں جانے پر دھمال ڈالتے رہے۔ آپ اس موضوع پر جون کا مضمون پڑھیے جو فرنود میں موجود ہے اور اندازہ کیجئے کہ کتنی دہائیوں پہلے پاکستان میں وہ فکر پائی جاتی تھی جس سے انسان کے عالمی تصور نے ترقی کی ہے اور ہم نے کن نظریاتی بدمعاشوں کو لوگوں کے سروں پر جبراً سوار کیا جس کا خمیازہ ہم آج تک بھگت رہے ہیں۔ جون ایلیا نے اس مضمون میں ان خطرناک تصورات کی نشاندھی کی تھی جو ہمیں جہالت اور جنون کے گھٹا ٹوپ اندھیروں کی طرف لے کر جا رہے تھے۔ ہمارے رویے اور سوچ کی سمت کا مسئلہ اسی وقت کی پیداوار ہے۔ لیکن ہمارے لوگوں کو جون ایلیا نہیں چاہیے تھا۔ آری اور بسولے سے بنائے گئے عقیدت بردار چاہئیں تھے سو وہ تیار کر لیے گئے۔ ہم آج بھی جون کے بالوں اور لباس سے الجھتے ہیں۔ ہاں اتنا ضرور ہے کہ نوجوان اپنی محبوباؤں کو پیزا اور چاکلیٹ کے ساتھ جون کا شعر بھی بھیج دیتے ہیں۔ اب شنید ہے کہ جون پر فلم بنائی جارہی ہے۔ فلم سازوں سے یہ گزارش ہے کہ جون کے بال اور پاجامے کے سٹائل کو ان کی شناخت بنانے کی بجائے جون کی شخصیت کو ویسے پیش کیجیے گا جیسے وہ تھی۔

مزیدخبریں