غزہ مذاکرات کے دوران حماس کی بھرپور حمایت جاری رہے گی: ایرانی صدر

08:18 PM, 5 Aug, 2026

تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ غزہ سے متعلق جاری سفارتی کوششوں میں ایران فلسطینی مزاحمتی تنظیم حماس کی مکمل حمایت جاری رکھے گا اور مذاکراتی عمل کے دوران فلسطینی قیادت کے ہر فیصلے کی تائید کرے گا۔

ایرانی میڈیا کے مطابق صدر پزشکیان نے حماس کے سیاسی شعبے کے سربراہ خلیل الحیہ سے ٹیلیفون پر گفتگو کی، جس میں غزہ کی موجودہ صورتحال اور مذاکراتی پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گفتگو کے دوران ایرانی صدر نے کہا کہ فلسطینی عوام اور ان کی قیادت جو بھی فیصلہ کرے گی، تہران اس کے ساتھ کھڑا رہے گا اور ہر ممکن سیاسی حمایت فراہم کرے گا۔

ادھر گزشتہ ہفتے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ مصر، قطر اور ترکیہ کی ثالثی میں ہونے والے رابطوں کے بعد حماس نے ایک امن فارمولے کے تحت ہتھیار رکھنے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی حکومت نے اپنا مؤقف دہراتے ہوئے کہا ہے کہ جب تک حماس کو مکمل طور پر غیر مسلح نہیں کیا جاتا، اسرائیلی فوج غزہ سے اپنی واپسی پر غور نہیں کرے گی۔

اس کے برعکس حماس کا کہنا ہے کہ اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا سے قبل ہتھیار ڈالنے کا کوئی امکان نہیں، کیونکہ تنظیم کے مطابق غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی کسی بھی معاہدے کی بنیادی شرط ہے۔

دریں اثنا اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے منگل کے روز جاری اپنے بیان میں کہا کہ وہ غزہ کے حوالے سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مجوزہ منصوبے سے اتفاق نہیں رکھتے اور اسے قابل قبول نہیں سمجھتے۔

مزیدخبریں