بیروت: اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سرحدی گاؤں المنصوری میں فوجی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے مقامی آبادی کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے کی ہدایت جاری کر دی، جس کے بعد علاقے پر فضائی بمباری بھی کی گئی۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی فوج کا مؤقف ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کے جواب میں کیے جا رہے ہیں۔ فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ المنصوری میں حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، اس لیے شہری اپنی حفاظت کے لیے فوراً محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
ایک ماہ سے زائد عرصے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیل نے جنوبی لبنان کے کسی علاقے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے انخلا کی باضابطہ وارننگ جاری کی ہے۔
اسرائیلی حکام کے مطابق جون کے آخری ہفتے میں بھی المنصوری کے رہائشیوں کو فضائی ذریعے سے پمفلٹس پھینک کر علاقہ چھوڑنے کی تنبیہ کی گئی تھی۔ اسرائیل اس خطے کو اپنے قائم کردہ بفر زون کا حصہ قرار دیتا ہے، تاہم مقامی کسان اس عرصے کے دوران بھی اپنی زرعی اراضی اور گھروں تک آمدورفت جاری رکھے ہوئے تھے۔
یہ تازہ کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب گزشتہ روز اٹلی کے دارالحکومت روم میں امریکا کی ثالثی سے اسرائیل اور لبنان کے درمیان سرحدی سلامتی اور کشیدگی میں کمی سے متعلق مذاکرات کا نیا دور منعقد ہوا تھا۔
یاد رہے کہ 26 جون کو امریکی ثالثی کے نتیجے میں دونوں ممالک سرحدی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے ایک سکیورٹی انتظام پر متفق ہوئے تھے، تاہم اسرائیل نے واضح کیا تھا کہ وہ حزب اللہ سے لاحق خطرات کے پیش نظر جنوبی لبنان میں اپنا سکیورٹی زون برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب ایرانی خبررساں ادارے فارس نے اسرائیلی ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ جنوبی لبنان میں ایک بارودی دھماکے کے نتیجے میں دو اسرائیلی فوجی مارے گئے جبکہ سات اہلکار زخمی ہوئے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ دھماکا کفر تبنیت، المنصوری اور حداتہ کے سرحدی علاقوں میں ایک تباہ شدہ عمارت کو گرانے کے دوران پیش آیا۔ تاہم اسرائیلی حکومت یا فوج نے اس دعوے کی تاحال سرکاری تصدیق یا تردید نہیں کی۔