یوم استحصال کشمیر: مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے چھ سال مکمل

09:26 AM, 5 Aug, 2025

لاہور : آج 5 اگست 2025 کو بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہوئے چھ سال ہو گئے ہیں۔ اس موقع پر پاکستان بھر میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے، جس کا مقصد کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار اور بھارت کے اس غیر قانونی اقدام کی مذمت کرنا ہے۔ اس دن، مختلف شہروں میں ریلیوں، سیمینارز اور تقریبات کا اہتمام کیا گیا ہے، اور صبح 10 بجے ایک منٹ کی خاموشی بھی اختیار کی جائے گی۔

یوم استحصال کشمیر کے دوران عالمی برادری کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال کی جانب دلائی جا رہی ہے، جہاں کشمیریوں کے حقوق کی پامالی جاری ہے۔ 5 اگست 2019 کو بھارت نے اپنے آئین میں ترمیم کر کے آرٹیکل 370 اور 35-A کو ختم کر کے کشمیر کی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا۔ اس کے بعد کشمیر میں بھارتی فوج کا محاصرہ مزید سخت ہو گیا، اور کشمیری عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

کشمیر میڈیا سروس کے مطابق، اس فیصلے کے بعد 1100 سے زائد املاک کو نذر آتش کیا جا چکا ہے اور 21,000 سے زائد کشمیریوں کو قید کر لیا گیا ہے۔ بھارتی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں، جن میں نئے ڈومیسائل قوانین اور اراضی پر قبضے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے اور کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ بھارت نے اس فیصلے کے ذریعے خود کو ایک ہندو ملک کے طور پر پیش کیا ہے، جو اس کی سیکولر شناخت کے دعووں سے متصادم ہے۔

یوم استحصال کشمیر ایک موقع ہے جب دنیا بھر میں کشمیریوں کی حمایت میں آواز اٹھائی جا رہی ہے، اور ان کے حقوق کی بازیابی کے لیے عالمی برادری کو مزید فعال ہونے کی ضرورت ہے۔ کشمیریوں کا عزم و حوصلہ اس بات کا غماز ہے کہ وہ اپنے حقوق کی جدوجہد میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مزیدخبریں