فرخ مشتاق! ن لیگ تھنک ٹینک اور توقعات

09:14 AM, 5 Aug, 2025

اگلے روز سید مراد حیدر کاظمی آف 422 ٹیلنٹ نے ایک مقامی ہوٹل پر مدعو کیا اور کہا کہ کچھ دوستوں کو بلایا ہے۔ ان سے حالات حاضرہ و دیگر سماجی و سیاسی معاملات پر بات ہو گی، آپ بھی آئیں۔ میں نے کہا کہ یار میرا کیا لینا دینا، میں ایک گمنام شخص ہوں اور مجھے کوفت ہوتی ہے ایسی محافل میں جانے سے! یہ مستحق لوگ ہی بہتر رہتے ہیں مگر مراد کاظمی نے لوکیشن بھیج دی اور ساتھ سلمان حسن اور فیصل عباسی کا بتایا تو میں نے سوچا کہ چلتے ہیں۔ وہاں چند لوگ جو اہل ذوق اور حالات حاضرہ سے واقف تھے، موجود تھے۔ معروف کالم نگار مجیب الرحمن شامی، فرح قرار، عرفان بشیر، صفدر علی، راشد اکرام اور نوشاد وغیرہ یہ تمام لوگ صحافت سے ہیں۔ ایک اور سینئر ترین کالم نگار تھے جن کا نام اس وقت یاد نہیں وہ بھی موجود تھے۔ خیال آیا کہ بہت سارے لوگ جو قوم کی ضرورت تھے، چلے گئے اور یہ دھرتی کا بوجھ ابھی تک موجود ہے۔ البتہ جب گفتگو کا دور چلا تو ایک صاحب جو ہیڈ چیئر پر تھے، کی گفتگو بڑی جامع، آگاہی، نظریاتی، سیاسی، سماجی اعتبار سے متاثر کن تھی۔ گوجرانوالہ کی وجہ سے مزید پتہ چلا کہ وہ ملک وال کے باسی ہیں۔ قابل ذکر محض یہ بات تھی کہ ن لیگ سے وابستہ فرخ مشتاق نے جس طرح ہر موضوع پر کھل کر ماہرانہ رائے دی، داد نہ دینا کنجوسی ہو گی۔ شامی صاحب بزرگ ہیں، سیاسی سوچ سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن احترام واجب ہے کہ استادوں کے استاد ہیں اور یہی بات ہے کہ میں تو اس دن سے زیادہ عزت کرتا ہوں جس دن محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی برسی میں شرکت کیلئے گڑھی خدا بخش میں آئے ہوئے دیکھا تھا۔ بھٹو صاحب کو شہید ہوئے 48 برس سے اوپر بیت گئے کچھ لوگوں کا بغض اور حسد وہیں ٹکا ہوا ہے۔ زندگی جب زلت میں بدل جائے تو اللہ اصلاح نہیں کرتا۔ سپریم کورٹ کے فل بنچ نے گریٹ بھٹو کو معصوم اور قانونی زیادتی کا شکار قرار دیا۔ حکومت پاکستان نے نشان امتیاز دیا اور ویسے بھی نیویارک میں بھی اگر ممدانی میئر کے انتخاب میں مقبول ٹھہرے تو لوگ اس کو نیویارک بھٹو کہتے ہیں۔ مقبولیت کا استعارہ سیاست میں بھٹو کا نام ہے۔ شامی صاحب کی گفتگو میں ٹھہرائو بھی تھا اور مزاج کا حکم امتناعی بھی البتہ ایک متعصب کالم نگار تاریخ کا چہرہ مسخ کرنے پر درپے تھا۔
متعصب شخص نے کہا کہ عمران خان والی opportunity ضائع ہو گئی یا کر دی گئی۔ میں نے کہا کہ opportunity تو وہ تھی ہی نہیں۔ سیاسی جماعتوں کا سکریپ اور یرغمال شدہ طبقہ اس میں شامل کیا اور شام کو میاں نواز شریف کی لاکھ لاکھ کی لیڈ نے سارا پلان برباد کر دیا پھر آر ٹی ایس کو بٹھا کر عمران کو جتایا گیا پھر متعصب ’’دانشور‘‘ خود ہی کہتا ہے جو بھی تھا عمران خان بالکل ڈلیور نہ کر پایا اور اگر مخالفین کی ایسی تیسی پھیر دی اور ساتھ مسالا بھٹو صاحب کا لگا دیا کہ انہوں نے بھی ایسا کیا، میں نے خواجہ جمشید امام بٹ معروف دانشور، کالم نگار، علم و ادب میں سیاست میں سماج اور ثقافت میں لاہور کا انسائیکلوپیڈیا سے فون پر بات کے دوران اس شخص کا حلیہ بیان کیا تو کہنے لگے 1977ء میں بھٹو صاحب کے خلاف جب بین الاقوامی سازش کے تحت تحریک چل رہی تھی تو وہ نامعلوم شخص ان کے کزن کے گھر آیا تب سیمنٹ، کپڑے کے توڑے (بیگ) ہوا کرتے تھے۔ اس نے آ کر وہ سیمنٹ کا توڑا (تھیلا) انڈیل دیا، اس میں سٹین گن کی گولیاں اور دیگر اسلحہ موجود تھا جو وہ تحریک کے لوگوں کے لیے لے کر آیا تھا۔ میں نے خواجہ صاحب سے کہا کہ نام بتائیں؟ خواجہ صاحب نے کہا دفعہ کریں مجھے سمجھ آ گئی ہے۔ مزید کہا کہ اگلے دن میرے مضمون کی تقریب تھی، اس نے حسن صاحب کے لیے کہا کہ میں نے ان کو سیاہ بالوں میں دیکھا ہوا ہے۔ خواجہ صاحب کہتے ہیں میں نے کہا ’’منہ کالا کرنے سے بہتر ہے بال کالے کر لیے جائیں‘‘۔
آتے ہیں محفل کی طرف ، شامی صاحب کی گفتگو انہماک سے سن رہے تھے کہ مجھے افتخار احمد صاحب کا انٹرویو یاد آیا جس نے عمران خان کے بقول ننگا کر دیا۔ میں نے اس پروی لاگ کیا۔ اگلے دن افتخار احمد صاحب کا شکریہ کا فون آیا اور ایک فون معروف قانون دان دانشور جناب محمد اکرم نظام کا آیا اور صرف ایک بات کی کہ متعصب لوگ مر کیوں نہیں جاتے۔ فرخ مشتاق نے انتہائی خوبصورت پہلو کا تذکرہ کیا، سب کو 
مخاطب کر کے بولے کہ دانشور، سیاسی تجزیہ کار سیاسی آزادیاں تو سیکنڈے نیوین ممالک کی مانگتے ہیں مگر کیا خود اپنے تجزیوں میں وہاں کے دانشوروں جیسا تجزیہ کرتے ہیںِ؟ اگر نہیں تو بھارت سے تو بہتر ہو سکتے ہیں مگر معذرت یورپ سے نہیں۔ ہمارا ہاں ہر ایک کا پروٹوکول ہے خاص طور پر سیاستدانوں کے علاوہ عدلیہ سے وابستہ اعلیٰ ہستیوں کا۔ انگلینڈ میں چیف جسٹس سائیکل پر آتے جاتے، دنیا کے وزرائے اعظم سائیکل پر دیکھے گئے یا ذاتی سواری پر مگر ہمارے ہاں تو اکبر بادشاہ منہ چھپائے پھرتا ہے۔ میں نے فرخ مشتاق سے کہا کہ آپ اپنی قیادت کو سنگاپور کی مثال دیں۔ اپنے خیالات شیئر کریں، میاں نوازشریف ایک مدبر سیاست دان ہیں۔ پیپلز پارٹی میں تو مکالمے کا رواج ہے، ن لیگ کا مجھے پتہ نہیں۔ پھر فارم 47 کی بات ہوئی میں نے کہہ دیا کہ فارم 47 عمران خان کے خلاف تو شاید استعمال ہوا ہے کہ نہیں البتہ اس کا شکار کل مورخ نوازشریف کو قرار دے گا یعنی پارٹی میں ان کے نظریاتی لوگ۔ ساتھ ہی برابر بیٹھے نوشاد صاحب نے کہا کہ کے پی کے اس کی بہتریں مثال ہے۔ جو لوگ منہ اٹھا کر گریٹ بھٹو سے عمران خان کا موازنہ کرتے ہیں وہ نہیں جانتے ان کے خلاف کوئی عوامی مقبولیت رکھنے والا لیڈر موجود نہ تھا جبکہ پاکستان میں میاں نوازشریف مسلمہ طور پر مقبول رہنما ہیں، سندھ و سرائیکی پٹی میں بلاول بھٹو مقبول ہیں۔ عمران 2013 کے انتخابات میں تیسرے نمبر پر بھی نہ تھے اور 2018 میں جو ہوا سب کو معلوم ہے اس کے بعد اگر کچھ ہوا تو اس کا زیادہ شکار نوازشریف ہیں کوئی اور نہیں، چلتے لمحے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ صاحب سب سے زیادہ مقبول قیادت ہیں۔ مجموعی طور پر بہت عمدہ گفتگو تھی، مزاح بھی تھا ایک مخولیے نے ایک نوجوان جس کے ماتھے پر نماز کا محراب ہے، کہا کہ یہ مشکوک متقی ہے۔ بات ہنسی میں اُڑ گئی دراصل اس مخولیے کو ضیاالحق کے بعد ہر متقی شخص مشکوک متقی لگتا ہے۔ فرخ مشتاق سے امید ہے کہ حقیقی آزادی کی خاطر اپنے نظریات میاں نوازشریف تک ضرور پہنچائیں گے۔ ان میں کچھ کمی نہیں سوائے اس کے کہ نئی قیادت کو موقع ملنا چاہیے۔ مگر میاں صاحب ناراض اگر مقتدرہ سے ہیں تو اس غصے کا اظہار عوام سے کرنا یعنی قطع تعلقی اپنائے رکھنا سیاست نہیں۔ عشق میں ہرجائی پن ہے۔ ایک نقطہ پر سب متفق تھے کہ بلاول بھٹو کا کرشمہ کسی وقت بھی سیاسی طور پر سب کو حیران کر سکتا ہے کہ وہ محنت بھی کر رہے ہیں اور اپنا آپ منوا بھی رہے ہیں۔

مزیدخبریں