کون کیا ہے؟

09:13 AM, 5 Aug, 2025

عظیم انسان روز روز پیدا نہیں ہوتے۔ ایسے اشخاص کیلئے تاریخ کو مدتوں منتظر رہنا پڑتا ہے۔ تب جا کر کوئی ایسا شخص پیدا ہوتا ہے جس پر تاریخ کو صدیوں ناز کرنا پڑتا ہے۔ سقراط جو دنیا کا پہلا فلسفی شمار کیا جاتا ہے اس نے کوئی کتاب نہیں لکھی کیونکہ وہ لکھنا نہیں جانتا تھا۔ سقراط انتہائی بد صورت تھا۔ اس کے شاگرد نے اس کی مثال ایک ایسے مجسمے سے دی تھی جو اوپر سے تو نہایت مضحکہ خیز ہوتا ہے لیکن اس کے اندر دیوتا کی تصویر ہوتی ہے۔ سقراط کی ماں دایہ جبکہ اس کا والد مجسمہ ساز تھا۔ سقراط کبھی پیسہ کمانے کے بارے میں سنجیدہ نہ تھا اور اس کی بیوی ہر وقت لڑتی رہتی تھی۔ سقراط نے اس کا کبھی بُرا نہیں مانا۔سقراط کا ایک خوشحال خاندان سے تعلق رکھنے والا شاگرد کیٹو لکھتا ہے کہ ایک روز میں سقراط کے گھر گیا تو دیکھا کہ سقراط مکان کی دہلیز پر بیٹھا تھا اس کی بیوی اس کو بُرا بھلا کہہ رہی تھی سقراط کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تھی جب اسکی بیوی نے دیکھا کہ سقراط آگے سے کوئی جواب نہیں دیتا تو وہ غصہ سے مکان کے اندر گئی اور پانی بھرا ہوا تسلا لا کر سارا پانی سقراط پر انڈیل دیا۔ سقراط نے ہنس کر مجھ سے کہا۔ کیٹو مجھے معلوم تھا بادل گرج رہے ہیں بارش ہو گی۔
سقراط کی قوت برداشت کمال کی تھی شہر میں وہ واحد شخص تھا جو ننگے پیر برف پر گھومتا رہتا تھا۔ سقراط نے نوجوانی میں میدان جنگ میں بہادری کا انعام حاصل کیا تھا۔سقراط کا زیادہ وقت ایتھنز کے باغات اور بازاروں  میں اپنے شاگردوں سے باتیں کرتے گزرتا۔ آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے کا عجیب و غریب فلسفی اپنی طرف سے کوئی فلسفہ بیان نہیں کرتا تھا اس نے اپنے پیچھے کوئی کتاب تو کیا چار صفحوں کا کوئی چھوٹا سا مضمون بھی نہیں چھوڑا۔ وہ کچھ نہیں لکھتا تھا۔ اس کا اپنا کوئی فلسفہ نہیں تھا وہ لوگوں کو کچھ بتانے کی بجائے ان سے پوچھتا زیادہ تھا اس کے سوال ہی اس کا فلسفہ تھا ساری زندگی ایک چادر میں گزاری۔ کسی نے اس سے کہا کہ ایتھنز میں ایک آواز سنی گئی ہے کہ سقراط ایتھنز کا سب سے بڑا  دانا آدمی ہے سقراط نے ہنس کر جواب دیا: میں اس لیے دانا ہوں کہ مجھے اپنی بے علمی کا احساس ہے۔
ایک صبح جب سقراط بازار میں آیا تو اس نے دیکھا کہ اس کے خلاف مندرجہ زیل قرارداد جرم چسپاں کی گئی ہے: سقراط نے جرائم کا ارتکاب کیا ہے۔ اس کا پہلا جرم یہ ہے کہ وہ ان دیوتاؤں کی پرستش نہیں کرتا جن کو یہ شہر پوجتا ہے، اس کے بجائے وہ اپنی طرف سے نئے دیوتا لے آیا ہے۔ دوسرا جرم اس کا یہ ہے کہ وہ نوجوانوں کو بگاڑتا ہے، لہٰذا اس کی سزا موت ہے۔ اس الزام آرائی کے پیچھے سب سے بڑا محرک انیٹس نامی ایک چمڑا فروش تھا۔ اس کو سقراط کے خلاف ذاتی بغض تھا۔ بات یہ ہے کہ سقراط نے اس کے بیٹے کو مشورہ دیا تھا کہ وہ کھالوں اور چمڑے کا کام چھوڑ کر فلسفے سے ناتا جوڑے۔ انیٹس کا اصرار تھا کہ اس کے بیٹے کو گمراہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے، اس لیے سزا موت سے کم نہیں ہونی چاہیے۔ یوں چمڑا اور علم ایک دوسرے کے سامنے آ گئے۔ فتح چمڑے کو حاصل ہو گئی۔ سقراط کو گرفتار کر لیا گیا اس پر مقدمہ شروع ہو گیا۔ سقراط چاہتا تو موت کی سزا سے بچ سکتا تھا۔ وجہ یہ ہے کہ ایتھنز کے قانون میں یہ گنجائش موجود تھی کہ موت کی سزا پانے والا کوئی شخص جلا وطنی کو متبادل سزا کے طور پر چن سکتا تھا۔ گویا جس شخص کو موت کی سزا ملتی تھی اس کو یہ اختیار بھی مل جاتا تھا کہ وہ اپنی ریاست سے باہر چلا جائے اور یوں موت کی سزا سے بچ جائے۔ سقراط یہ اختیار کر سکتا تھا مگر وہ اس طرح بچ نکلنے پر تیار نہیں تھا۔ اس کا وقت آ چکا تھا اور وہ جانے کیلئے تیار تھا۔ جب سقراط کی زندگی کا آخری دن آیا تو اس کے کئی شاگرد اس سے جیل میں ملنے کیلئے آئے۔ شاگرد سقراط کے گرد جمع ہیں۔ سقراط ان میں سے ایک کو اپنے پاس بلاتا ہے۔ اس کے بالوں کو چھوتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ زندگی، موت اور روح کی ابدیت کے بارے میں اپنے خیالات بیان کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ موت تو ابدی نیند ہے، وہ خود فراموشی کی میٹھی ابدی کیفیت ہے، جس میں کوئی ایذا رسانی نہیں، کوئی ظلم اور نا انصافی نہیں، کوئی مایوسی نہیں اور نہ ہی دکھ درد ہے یا پھر وہ ایسا دروازہ ہے جس سے گزر کر ہم زمین سے جنت میں داخل ہو جاتے ہیں، وہ ایسی غلام گردش ہے جو ہمیں سیدھی خدا کے ایوان میں لے جاتی ہے اور دوستو وہاں کسی کو اس کے خیالات کے باعث صلیب نہیں چڑھایا جاتا، لہٰذا ہنسو اور میرے جانے پر افسوس نہ کرو۔ جب تم مجھے قبر میں اتارو گے، تو جان لینا کہ تم بس میرے جسم کو دفن کر رہے ہو میری روح کو نہیں۔
جب اس کو موت کی سزا دی گئی اس کے شاگرد جیل کی کوٹھڑی میں اس سے ملنے آئے ایک شاگرد نے کہا افسوس ہمارے استاد کو بے گناہ مارا جا رہا ہے۔ سقراط نے زیر لب تبسم کے ساتھ کہا: تو کیا تم چاہتے تھے کہ میں گناہ کرنے کے بعد مارا جاؤں؟ مرنے سے چند لمحے پہلے سقراط کے ایک شاگرد نے اس سے پوچھا آپ کو کہاں دفن کیا جائے؟ سقراط نے جواب دیا: اگر میں تمہارے ہاتھ آ جاؤں تو جہاں جی چاہے دفن کر دینا۔ سقراط نے ہنستے ہوئے اپنے روتے ہوئے شاگردوں کے سامنے زہر کا پیالہ پی لیا۔ یہ واقعہ ایتھنز میں 404  قبل مسیح پیش آیا۔ قارئین غیر ذمہ داری، لالچ، ہوس، بے ایمانی، کرپشن، ناانصافی سے بھر پور معاشرے میں کسی بھی عظیم انسان اور عظیم لیڈر کا پیدا ہونا ناممکن ہے۔

مزیدخبریں