امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان سے امریکہ برآمدی اشیاء پر 19 فیصد کی شرح سے ٹیرف کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔ ٹیرف کی یہ شرح خطے کے دیگر ممالک بھارت، سری لنکا اور بنگلہ دیش وغیرہ کے مقابلے میں نسبتاً کم ہے۔ بھارت پر ٹیرف کی شرح 25 فیصد رکھی گئی ہے اور اسے روسی تیل کی خریداری پر جرمانے کی دھمکی بھی دی گئی ہے۔ بنگلہ دیش اور سری لنکا پر ٹیرف کی شرح پاکستان کے مقابلے میں 1 فیصد زائد یعنی 20 فیصد جبکہ ویت نام، تائیوان اور کمبوڈیا کے لیے بھی یہی شرح یعنی 20 فیصد ہی ہے۔ ترکیہ، اسرائیل، افغانستان اور جاپان کے لیے 15 فیصد ٹیرف کا اعلان کیا گیا ہے۔ اسلام آباد میں امریکی سفارتخانے نے پاک امریکہ تجارتی معاہدے یا ٹیرف کے نفاذ کو بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔ سفارتخانے کی جانب سے اعلان کے مطابق امریکہ، پاکستان تجارتی معاہدہ دونوں ملکوں کی باہمی شراکت کے سلسلے میں موجودہ امریکہ انتظامیہ کی کلیدی کامیابی کا غماز ہے اور اس کے ساتھ یہ معاہدہ امریکہ اور پاکستان کے اس عزم کا ثبوت ہے کہ وہ اپنی شراکت داری کو اس انداز میں آگے بڑھانا چاہتے ہیں کہ یہ دونوں ممالک کی باہمی خوشحالی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
امریکہ، پاکستان تجارتی معاہدے یا ٹیرف کے نفاذ کے حوالے سے یہ پیش رفت اپنی جگہ حوصلہ افزا سمجھی جا سکتی ہے۔ تاہم چند دن قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’’ٹروتھ سوشل‘‘ پر بیان میں پاک امریکہ تجارتی معاہدہ مکمل ہونے کا جو عندیہ دیا گیا تھا اور یہ بھی کہا گیا تھا کہ واشنگٹن اور اسلام آباد پاکستان میں تیل کے بڑے ذخائر کی ترقی کے لیے ملکر کام کریںگے، اس سے غلط یا صحیح یہ توقع باندھ لی گئی تھی کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پاکستان پر خصوصی مہربانی کرتے ہوئے ٹیرف کی شرح زیادہ سے زیاد 15 فیصد تک رکھیں گے شاید یہی وجہ ہے کہ پاکستان پر 19 فیصد ٹیرف کے نفاذ کے بعد ایک بڑے قومی اخبار نے اس حوالے سے جو خبر شائع کی ہے اس کی ہے اس کی چھ کالمی سرخی یا لیڈ میں اس طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ شہ سرخی کے الفاظ ہیں ’’15 کی بجائے 19 فیصد امریکی ٹیرف، واشنگٹن کی سخت شرائط، قبولیت میں پاکستان کی ہچکچاہٹ، بھارت کے مقابلے میں نسبتاً فائدہ‘‘۔
امریکی ٹیرف کی 19 فیصد کی شرح کی خبر کو اس انداز سے پیش کرنا کوئی ایسا غلط بھی نہیں ہے کہ حقیقتِ حال بڑی حد تک ایسی ہی ہے تاہم اس کے ساتھ پاکستان کی بھارت کے مقابلے میں پوزیشن کے بہتر ہونے یا امریکہ کے اس پر بھارت کے مقابلے میں کم تر شرح کا ٹیرف رکھنے کا پہلو ایسا ہے کہ جس کو پاکستان کی ایک بڑی کامیابی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ روزنامہ ’’نئی بات‘‘ کی 2 اگست کی سپر لیڈ یا صفحہ اول کے اپر ہاف کی بڑی خبر جس کی شہ سرخی یا لیڈ کچھ یوں ہے، ’’ٹرمپ ٹیرف وار، پاکستان نے بھارت کو پھر ہرا دیا‘‘ اسی کی عکاسی کرتی ہے۔ اسی خبر کے متن میں امریکی وزیرِ خزانہ کے بھارت کے بارے میں جن خیالات کی تفصیل بیان کی گئی ہے ان سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ صدر ٹرمپ سمیت امریکی انتظامیہ بھارت کے بارے میں کئی طرح کے خدشات اور تحفظات کا شکار ہے۔ خبر کے مطابق امریکی وزیرِ خزانہ سکاٹ بیسمنٹ نے بھارت کی روس سے تیل کی خریداری پر شدید مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت روس سے خام تیل خرید کر اسے ریفائن کر کے فروخت کرتا ہے جو عالمی برادری کی توقعات کے بر عکس ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ بھارت نے خود کو ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر پیش کرنے میں ناکامی دکھائی ہے۔ بھارت کے اس رویے نے امریکہ کے ساتھ اس کے تجارتی تعلقات کو غیر یقینی بنا دیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اُن کی پوری ٹیم بھارت کی موجودہ فیصلوں سے سخت مایوس ہے جبکہ مستقبل میں تجارتی معاہدے کا انحصار بھارت کے رویے پر ہو گا۔ امریکی وزیرِ خزانہ کے اس بیان سے قبل صدر ٹرمپ کا سوشل میڈیا پر یہ بیان بھی سامنے آ چکا ہے جس میں اُنہوں نے بھارت پر 25 فیصد ٹیرف کے اعلان کے ساتھ یہ بھی کہا تھا کہ بھارت کو روس سے مسلسل فوجی ساز و سامان اور تیل خریداری پر جرمانہ بھی دینا ہو گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بھارت ہمیشہ سے اپنے فوجی ساز و سامان کی بڑی مقدار روس سے خریدتا آیا ہے، توانائی کے معاملے میں بھی بھارت روس کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ ایسے وقت میں جب دنیا روس سے مطالبہ کر رہی ہے کہ یوکرین میں قتل و غارت گری کو روکے، یہ سب چیزیں اچھی نہیں ہیں۔
بھارت کے ساتھ امریکہ کے تجارتی تعلقات کا اُونٹ حتمی طور پر کس کروٹ بیٹھتا ہے اس بارے میں جلد ہی پتہ چل جائے گا، فی الحال امریکہ نے پاکستان سے آنے والی اشیاء پر 19 فیصد ٹیرف کے نفاذ کا جو اعلان کیا ہے اور اس کے ساتھ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستان میں تیل کے تلاش کے لیے امریکی تعاون کی جو بات کی ہے اور کہا ہے کہ دونوں قوتیں تیل تلاش کرنے والی کمپنی کا انتخاب کریں گی، اس کے کچھ پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہیں۔ پاکستان میں جہاں تک معدنی تیل کے ذخائر کا تعلق ہے کہا جاتا ہے کہ اس کے وسیع ذخائر موجود ہیں تاہم ہم ان کو پوری طرح سے تلاش یا دریافت نہیں کر سکے ہیں، یہی وجہ ہے کہ ہم اپنی ملکی ضروریات کا ایک چوتھائی یا اس سے بھی کم ملکی پیداوار سے پورا کرتے ہیں جبکہ باقی کے لیے ہمیں دوسرے ملکوں بالخصوص سعودی عرب سے خام تیل منگوانا پڑتا ہے۔ ایران پر امریکہ کی طرف سے پابندیوں کی وجہ سے ہم وہاں سے خام تیل نہیں منگوا سکتے۔ اندرونِ ملک OGDCL، ماڑی انرجیز، اٹک آئل فیلڈز اور پاکستان آئلز لمیٹڈ ایسی کمپنیاں ہیں جن کے تیل و گیس کے اپنے کنوئیں اور آئل فیلڈز ہیں اور اس کے ساتھ وہ تیل کی تلاش کا کام بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے مطابق کوئی ملٹی نیشنل یا امریکی ملٹی نیشنل کمپنی پاکستان میں تیل کی تلاش کا بیڑا اُٹھاتی ہے اور اس میں کامیابی حاصل کرتی ہے تو یہ پاکستان کے لیے یقیناً خوش آئند بات ہو گی تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایسا ہو سکے گا؟، اس کے لیے مختلف ادوار میں امریکی انتظامیہ کے پاکستان کے بارے میں رویوں اور مختلف اقدامات کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہنا شائد غلط نہ ہو کہ اس ضمن میں کئی خدشات اور تحفظات سامنے آتے ہیں۔
پہلی بات تو یہ ہے کہ پاکستان میں تیل کی تلاش کے لیے کسی امریکی کمپنی کا نام یا امریکی انتظامیہ کی طرف سے اس کے لیے ابتدائی طور پر کیے جانے والے اقدامات کی تفصیل سامنے نہیں آئی البتہ پاکستان کے امریکہ سے پیٹرول درآمد کرنے کی خبریں آ رہی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکی انتظامیہ پاکستان میں تیل کی تلاش کے لیے امریکہ سے پیٹرول درآمد کرنے کی شرط لگا رہی ہے۔ امریکہ سے پیٹرول درآمد کرنے سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہو گا اور پاکستان کے برادر اسلامی ملک سعودی عرب جہاں سے پاکستان بڑی مقدار میں خام تیل درآمد کرتا ہے کے ساتھ تعلقات پر کیا اثر پڑے گا اس کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ماضی میں پاکستان اگرچہ امریکہ کے ساتھ کئی معاہدوں میں شریک رہا ہے لیکن پاک امریکی تعلقات کی پوری تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ امریکیوں نے ہمیشہ اپنے مفادات کو ترجیح دی ہے اور اس کے لیے وہ پاکستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات کو نظر انداز کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے رہے ہیں۔ کیا امریکہ اب پھر پاکستان کے ساتھ ایسا رویہ روا رکھے گا یہ پہلو ایسا ہے جسے ہمیں ضرور سامنے رکھنا ہو گا۔
امریکی ٹیرف اور پاکستان…!
09:12 AM, 5 Aug, 2025