اسلام آباد : وزیراعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت خطے کی حالیہ کشیدگی اور ملکی معاشی صورتحال پر ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں عوام کو مہنگائی کے اثرات سے بچانے کے لیے ٹرانسپورٹ سیکٹر کے لیے اربوں روپے کی ماہانہ سبسڈی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ وزیراعظم نے تصدیق کی کہ گزشتہ روز سے سبسڈی کی رقوم کی براہِ راست منتقلی کا عمل شروع ہو چکا ہے۔
وزیراعظم نے اجلاس کے شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹرانسپورٹ کے اخراجات کو کم رکھنے کے لیے مختلف گاڑیوں کے لیے درج ذیل ماہانہ ریلیف مقرر کیا گیا ہے۔ پبلک ٹرانسپورٹ کی بڑی بسوں کو 1 لاکھ روپے جبکہ مال بردار ٹرکوں کو 80 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی دی جا رہی ہے۔
سبزیوں، پھلوں اور دیگر ضروری اشیاء لانے والے ٹرکوں کو 70 ہزار روپے ماہانہ ملیں گے تاکہ قیمتیں مستحکم رہیں۔ چھوٹی عوامی سواریوں کے لیے 40 ہزار روپے اور ڈیلیوری وینز کے لیے 35 ہزار روپے ماہانہ سبسڈی مختص ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس بات پر خصوصی زور دیا کہ تمام ادائیگیاں ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے کی جا رہی ہیں تاکہ رقم براہِ راست حقدار ٹرانسپورٹر کے اکاؤنٹ میں پہنچے۔
کرپشن اور تاخیر کے امکانات کو ختم کیا جا سکے۔ٹرانسپورٹرز کو ایندھن کی خریداری میں فوری مالی معاونت میسر آئے۔
اجلاس میں ملک میں ایندھن کے ذخائر اور کھپت کا بھی جائزہ لیا گیا۔ وزیراعظم کو بتایا گیا کہ خطے میں تناؤ کے باوجود پاکستان کے پاس پیٹرولیم مصنوعات کا وافر اسٹاک موجود ہے۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں کسی صورت اضافہ نہیں ہونا چاہیے اور اس سبسڈی کا براہِ راست فائدہ عام شہری کو ملنا چاہیے۔
وزیراعظم کا بڑا ریلیف مشن: ٹرانسپورٹرز کے لیے ڈیجیٹل والٹس کے ذریعے ماہانہ سبسڈی کا باقاعدہ آغاز
03:02 PM, 5 Apr, 2026