واشنگٹن/اسلام آباد : معتبر امریکی جریدے ’’فارن پالیسی‘‘ نے اپنی حالیہ رپورٹ میں افغانستان میں موجود بین الاقوامی دہشت گرد گروہوں اور افغان طالبان کے درمیان گہرے تعلقات کا کچا چھٹا کھول دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان رجیم کے درمیان محض اتفاقی تعلق نہیں بلکہ ایک گہرا نظریاتی اور فکری گٹھ جوڑ موجود ہے، جو خطے کے امن کے لیے ایک ٹائم بم بن چکا ہے۔
امریکی جریدے نے انکشاف کیا ہے کہ فتنہ الخوارج دراصل القاعدہ کی ایک ذیلی عسکری تنظیم کے طور پر کام کر رہی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، فتنہ الخوارج اپنے انتہا پسندانہ نظریات اور فکری بنیادوں میں افغان طالبان رجیم سے مکمل مطابقت رکھتی ہے، جس کی وجہ سے انہیں افغان سرزمین پر کھلی چھوٹ ملی ہوئی ہے۔
دونوں گروہوں کے درمیان نظریاتی ہم آہنگی اس قدر گہری ہے کہ یہ ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہوئے خطے میں انتہا پسندی کو فروغ دے رہے ہیں۔رپورٹ میں پاک افغان سرحد پر موجود دہشت گردوں کی عسکری قوت کے حوالے سے ہوش ربا اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ فتنہ الخوارج اس وقت 30 سے 35 ہزار تربیت یافتہ جنگجوؤں پر مشتمل ایک منظم دہشت گرد گروہ بن چکا ہے۔
یہ جنگجو پاک ،افغان سرحد پر مکمل طور پر فعال ہیں اور مسلسل تخریبی کارروائیوں کے ذریعے سرحد پار امن کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
فارن پالیسی نے واضح کیا ہے کہ اس تمام تر عسکری طاقت کا واحد اور بنیادی نشانہ پاکستان ہے۔ ریاستی اداروں پر حملے: رپورٹ کے مطابق، فتنہ الخوارج کا اصل مقصد پاکستانی ریاست کو کمزور کرنا اور اس کے سیکیورٹی اداروں پر حملے کر کے ملک میں عدم استحکام پیدا کرنا ہے۔
دہشت گرد گروہ افغان سرزمین کو بطور 'لانچنگ پیڈ' استعمال کرتے ہوئے پاکستانی تنصیبات کے خلاف سازشیں بنتا ہے۔
جریدے نے خبردار کیا ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ان گروہوں کی مسلسل پشت پناہی اور نظریاتی سرپرستی عالمی امن کے لیے ایک سنگین چیلنج ہے۔ اگر اس گٹھ جوڑ کا راستہ نہ روکا گیا تو افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردی کا مرکز بن جائے گا جس کے اثرات پوری دنیا تک پھیل سکتے ہیں۔
فتنہ الخوارج اور افغان طالبان کا 'خطرناک گٹھ جوڑ' بے نقاب: 35 ہزار جنگجوؤں کا لشکر پاک ،افغان سرحد پر بڑا خطرہ قرار
12:59 PM, 5 Apr, 2026