افغانستان میں "فرمانِ امیر" کی حکمرانی: اداروں کی بے اختیاری اور طالبان کے سخت گیر نظام پر عالمی جریدے کی رپورٹ

12:39 PM, 5 Apr, 2026

کابل/کولمبو : افغانستان میں طالبان کے طرزِ حکمرانی پر بین الاقوامی سطح سے ایک اور کڑی تنقید سامنے آئی ہے۔ معروف عالمی جریدے 'سری لنکا گارڈین' نے اپنی حالیہ اشاعت میں انکشاف کیا ہے کہ افغانستان میں شریعت کے نام پر ایک ایسا سخت گیر آمرانہ اور غیر نمائندہ نظام مسلط کر دیا گیا ہے جس میں عوامی رائے اور اداروں کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ افغانستان کا ریاستی ڈھانچہ باقاعدہ وزارتوں اور اداروں کے بجائے صرف شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ کے ذاتی فرمانوں پر چل رہا ہے۔    بے بس وزراء: حکومتی وزراء اور سرکاری ادارے پالیسی سازی میں مکمل طور پر بے اختیار ہو چکے ہیں، تمام اہم فیصلے صرف امیرِ طالبان کے احکامات کے تابع ہیں۔
حکمرانی کا تصور عوامی خدمت سے بدل کر محض ایک "سخت گیر کنٹرول" میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں ہر سطح پر صرف حکم کی تعمیل لازمی ہے۔عالمی جریدے نے افغان سیاسی نظام کے نقائص پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھا ہے کہ  ملک میں انتخابات یا عوامی نمائندگی کا کوئی تصور موجود نہیں، جس کی وجہ سے یہ نظام عوام کے سامنے جوابدہ نہیں ہے۔ افغان عوام کو اپنے مستقبل کے فیصلے کرنے یا حکومتی پالیسیوں میں حصہ لینے کے حق سے مکمل طور پر محروم رکھا گیا ہے۔
'سری لنکا گارڈین' کے مطابق، طالبان رجیم نے خود کو تنقید سے محفوظ رکھنے کے لیے احتساب کے تمام ذرائع کو مفلوج کر دیا ہے۔  میڈیا اور تعلیمی اداروں پر کڑی سنسر شپ نافذ ہے تاکہ حکومتی خامیوں پر کوئی سوال نہ اٹھ سکے۔ سماجی تنظیموں پر پابندیاں لگا کر عوامی شعور اور احتجاج کی ہر لہر کو دبانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

مزیدخبریں