بین الاقوامی سیاست کے افق پر جب بڑی طاقتیں اپنی عسکری برتری کے مظاہرے کو بیانیاتی شدت کے ساتھ جوڑ دیتی ہیں تو محض الفاظ بھی بارود کی طرح اثر انداز ہونے لگتے ہیں۔ حالیہ امریکی صدارتی خطاب میں ایران کو ”پتھر کے زمانے“ میں دھکیلنے کی دھمکی دراصل اسی طرزِ فکر کی عکاس ہے، جہاں سفارتی نزاکتوں کی جگہ جارحانہ لب و لہجہ لے لیتا ہے اور عالمی نظام کی نزاکتیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں۔ یہ بیان کوئی نئی حکمت عملی پیش نہیں کرتا بلکہ ماضی کے بیانیے کی بازگشت معلوم ہوتا ہے، جس میں طاقت کے اظہار کو مسئلے کے حل کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، مگر اس کے نتائج اور مضمرات پر خاموشی اختیار کی جاتی ہے۔
امریکی قیادت کا یہ طرزِ خطاب نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی غیر یقینی کیفیت کو گہرا کرتا ہے۔ ایران کی جانب سے فوری اور دوٹوک ردعمل، جس میں مذاکرات سے انکار اور ہر قسم کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کا عزم شامل ہے، اس بات کا اشارہ ہے کہ معاملہ محض بیانات تک محدود نہیں بلکہ ایک وسیع تر تصادم کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ اس تناظر میں یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ کیا عالمی طاقتیں واقعی کسی ایسے تصادم کی متحمل ہو سکتی ہیں جس کے اثرات صرف ایک خطے تک محدود نہ رہیں؟
یہ امر بھی قابل غور ہے کہ امریکی صدر کے خطاب میں جنگ کے مقاصد، اس کی ممکنہ سمت اور اس کے اختتام کے بارے میں کوئی واضح خاکہ پیش نہیں کیا گیا۔ ایک ایسی جنگ جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر براہِ راست مرتب ہو سکتے ہوں، اس کے بارے میں قیادت کی خاموشی یا ابہام خود ایک بڑا خطرہ بن جاتا ہے۔ پالیسی کی اس غیر وضاحت سے نہ صرف اتحادی ممالک میں تشویش پیدا ہوتی ہے بلکہ عالمی منڈیوں میں بھی بے یقینی بڑھتی ہے۔
خصوصاً آبنائے ہرمز کا معاملہ اس ساری صورتحال کا سب سے حساس پہلو ہے۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی توانائی کی ترسیل کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے، جہاں سے دنیا کے تیل کا ایک بڑا حصہ گزرتا ہے۔ اگر یہاں جہاز رانی معطل ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف تیل کی قیمتوں تک محدود نہیں رہتے بلکہ عالمی معیشت کے ہر شعبے کو متاثر کرتے ہیں۔ ایسے میں یہ کہنا کہ اس راستے کی بحالی دیگر ممالک کی ذمہ داری ہے، ایک غیر معمولی اور کسی حد تک غیر ذمہ دارانہ مو¿قف معلوم ہوتا ہے، خاص طور پر جب کشیدگی کے اسباب میں بڑی طاقتوں کا کردار واضح ہو۔
یہ طرزِ فکر دراصل عالمی قیادت کے اس بدلتے ہوئے رویے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں ذمہ داریوں کی تقسیم میں توازن کی بجائے مفادات کی ترجیح دی جاتی ہے۔ اگر ایک طرف طاقتور ممالک اپنی عسکری مداخلت کو جائز قرار دیتے ہیں تو دوسری طرف اس کے نتائج سے نمٹنے کی ذمہ داری عالمی برادری پر ڈال دیتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف بین الاقوامی قوانین اور اصولوں کے منافی ہے بلکہ عالمی نظم و نسق کو بھی کمزور کرتا ہے۔
ایران کا مو¿قف، جس میں مزاحمت اور خودمختاری پر زور دیا گیا ہے، ایک ایسے ملک کی عکاسی کرتا ہے جو اپنے دفاع کو کسی بھی قیمت پر یقینی بنانا چاہتا ہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی حقیقت ہے کہ اس کشیدگی کا تسلسل پورے خطے کو عدم استحکام کی طرف دھکیل سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی کئی دہائیوں سے تنازعات کا شکار رہا ہے، اور کسی نئے تصادم کی صورت میں اس کے اثرات مزید گہرے اور دیرپا ہو سکتے ہیں۔
اس ساری صورتحال میں سب سے زیادہ تشویشناک پہلو عالمی معیشت پر ممکنہ اثرات ہیں۔ توانائی کی قیمتوں میں اضافہ، سپلائی چین میں خلل، اور تجارتی سرگرمیوں میں سست روی ایسے عوامل ہیں جو نہ صرف ترقی پذیر ممالک بلکہ ترقی یافتہ معیشتوں کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔ خاص طور پر وہ ممالک جو تیل کی درآمد پر انحصار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ صورتحال ایک نئے معاشی بحران کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
مزید برآں، یہ تنازع عالمی سفارت کاری کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ کیا عالمی برادری اس کشیدگی کو کم کرنے کے لیے کوئی مو¿ثر کردار ادا کر سکتی ہے، یا پھر یہ معاملہ بھی دیگر تنازعات کی طرح محض بیانات اور مذمتوں تک محدود رہے گا؟ اس سوال کا جواب آنے والے دنوں میں عالمی سیاست کی سمت کا تعین کرے گا۔
یہاں یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ جنگی بیانیہ ہمیشہ فوری جذبات کو ابھارتا ہے مگر طویل المدتی نتائج کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ کسی بھی ملک کو “پتھر کے زمانے” میں واپس لے جانے کی بات محض ایک سیاسی نعرہ ہو سکتی ہے، مگر اس کے عملی نتائج انسانی المیے، معاشی تباہی اور علاقائی عدم استحکام کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ ایسی پالیسیاں اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔
آخرکار، یہ صورتحال عالمی قیادت کے لیے ایک کڑا امتحان ہے۔ کیا وہ طاقت کے استعمال کو ترجیح دیں گے یا سفارت کاری اور مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل تلاش کریں گے؟ اگر موجودہ روش برقرار رہی تو خدشہ ہے کہ یہ کشیدگی ایک ایسے مرحلے میں داخل ہو جائے گی جہاں واپسی کے راستے محدود ہو جائیں گے۔ اس لیے ضروری ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً بڑی طاقتیں، اپنی ذمہ داریوں کا ادراک کریں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔
یہ محض ایک علاقائی تنازع نہیں بلکہ ایک عالمی آزمائش ہے، جس میں دانشمندی، تحمل اور دور اندیشی ہی وہ عناصر ہیں جو دنیا کو ایک بڑے بحران سے بچا سکتے ہیں۔ بصورتِ دیگر، یہ الفاظ جو آج محض دھمکیوں کی صورت میں ادا کیے جا رہے ہیں، کل ایک ایسی حقیقت میں ڈھل سکتے ہیں جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔
جنگی بیانیہ اور عالمی بے یقینی
09:19 AM, 5 Apr, 2026