بھارت میں نکسل وادی دہشتگردی

09:16 AM, 5 Apr, 2026

نکسل وادی بھارت میں دہشت گردی کی ایک قسم ہے۔ جو آج وہاں کا سب سے بڑا اندرونی سکیورٹی چیلنج بن چکا ہے۔ جنگلات اور پہاڑوں میں صدیوں سے بسنے والے باغی، قبائلی، آدی واسی اپنی تاریخ رکھتے ہیں۔ بھارت کی ریاستوں کے دور دراز علاقوں میں بسیرا کرنے والے نکسل وادی حکومت کے خلاف مسلح تحریک چلانے والے باغی گروپ ہیں۔ سال 2018 کے سرکاری اعداد وشمار کے مطابق نکسل وادیوں کی کاروائیوں میں 12000 سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ ان کارروائیوں میں بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ مختلف حکومتی اور علاقائی کوششوں، ہتھیار ڈالنے کی مہمات سے نتیجہ خیز نتائج سامنے نہیں آ سکے ہیں۔ بھارت میں نکسل وادی کی دہشتگردی کا بھیانک سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ چھتیس گڑھ، جھاڑکھنڈ، اوڑیسہ، مہاراشٹرا، مدھیہ پردیش، مشرقی بنگال اور آسام کی ریاستوں میں قائم یہ نکسل وادی گروپ حکومت اور فوج مخالف مزاحمتی اور خونی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں۔ ان نکسل وادی گروپس کا بھارت کے معاشرتی نظام سے کوئی خاص تعلق نہیں ہے۔ 
بھارت کی مختلف ریاستوں میں قبائلی تنازعات قدیم زمانے سے ہیں۔ پولیس، انتظامیہ اور بھارتی حکومت کے پاس نکسل وادی باغیوں سے مذاکرات کا بھی آپشن موجود نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ گروپس مسلسل مضبوط ہوتے جا رہے ہیں اور کئی علاقوں اور ان کے وسائل پر اپنی رٹ قائم کر چکے ہیں۔ 
بھارتی جنتا پارٹی نے سال 2025 میں اعلان کیا تھا کہ ایک سال کے عرصے میں نکسل وادی کی دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ دیں گے۔ اس وقت اپریل 2026 میں بھارتی پارلیمنٹ کا بجٹ اجلاس چل رہا ہے اور اسی بجٹ اجلاس میں وزیر داخلہ امیت شاہ نے پالیسی بیان دیتے ہوئے کہا کہ بھاجپا حکومت نے ایک سال کے قلیل عرصے میں نکسل وادی کا مکمل صفایا کر دیا ہے۔ اس تقریر کے بعد اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے احتجاج کیا اور یہ موقف اپنایا کہ اگر ایسا ہے تو پھر ملک میں کئی ریاستوں میں تصادم اور کرفیو کی خبریں کیوں آ رہی ہیں۔ نکسل وادی دہشتگردی کے خاتمے کا اعلان عین اسی وقت ہی کیوں کیا گیا ہے جب بھارتی ریاستوں میں انتخابات شیڈولڈ ہیں۔ ایسے بیانات کی حقیقت سیاسی بیانات سے زیادہ نہیں ہے۔
نکسل وادی کی بات ہو تو قبائلی تنازعات کا ذکر کرنا ناگزیر ہے۔ بھارتی ریاست منی پور تین سال سے جل رہی ہے۔ وہاں موجود قبائل کوکیز اور میتیز کا تنازعہ شیڈولڈ ٹرائب قانون کی عملدرآمد کے حوالے سے ہے۔ تین سال سے ریاست میں کرفیو لگا ہے، بفر زونز قائم ہیں، ہزاروں لوگ تصادم کی وجہ سے ریلیف کیمپوں میں زندگیاں گزارنے پر مجبور ہیں۔ خواتین کی عصمت دری کے واقعات، جلاﺅ گھیراﺅ قتل عام یہ سب آج کے بھارت میں ہوا ہے اور افسوس اس قبائلی تنازعے کے حل میں بی جے پی سرکار کو دلچسپی نہیں ہے۔ 
بھارتی ریاست تامل ناڈو میں قبائلی باغی گروپ تامل ٹائیگرز کا راج ہے اور ان کا نیٹ ورک سری لنکا تک پھیلا ہوا ہے۔ بھارتی فوج کے پہلے چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل بپن راوت سال 2021 میں ہیلی کاپٹر حادثے میں ہلاک ہوئے تھے۔ ذرائع کے مطابق ان کے ہیلی کاپٹر کو اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ تامل ناڈو کی ریاست میں داخل ہوا تھا۔ غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق باغی تامل ٹائیگرز نے جنرل بپن راوت کے ہیلی کاپٹر پر میزائل داغا تھا۔ 
نکسل وادی گروپس اپنی ریاستوں میں بھنگ، گانجہ، افیون کی بڑے پیمانے پر کاشت کرواتے ہیں اور اس کھیتی کے کام میں قریبی گاﺅں کے لوگ ان کے لئے کھیتوں میں کام کرتے ہیں۔ بھارت میں منشیات کی بین الاقوامی سطح پر سمگلنگ اور تجارت کا مکمل کنٹرول نکسل وادیوں کے پاس ہے جو ان کا سب سے بڑا کاروبار ہے۔ مگر مجال ہے کہ بھارت کے انسداد منشیات کے ادارے اس طرف توجہ دیں۔ یعنی منشیات کی روک تھام بھی بھارتی حکومت کی ترجیح نہیں ہے۔ 
سال 2000 کی دہائی میں نکسل وادیوں کو ریاست تامل ناڈو کے مسلح باغی لبریشن ٹائیگرز آف تامل نے اسلحہ، گولہ بارود کی مدد اور تربیت دی تھی۔ انہی باغی گروپس نے نکسل وادیوں کے ساتھ مل کر بھارت میں کئی بم دھماکے کروائے تھے۔ 
حالات کی سنگینی سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ بھارت کو ایسے سکیورٹی خطرے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو پورے ملک تک پھیل رہا ہے۔ نکسل وادی، آدی واسی، قبائلی، باغی بہت سارے نام ہیں ان گروپس کے مگر ان کا کام بھارتی حکومت کے خلاف محاذ آرائی کرنا ہے۔ بھارت میں آج بھی نکسل وادی کا سنگین مسئلہ موجود ہے جسے عام الفاظ میں جنگل کا قانون کہا جاتا ہے۔

مزیدخبریں