تونسہ: جمعیت علماء اسلام (جے یو آئی۔ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے تونسہ میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے امریکا کو انسانی حقوق کا دشمن اور اسرائیلی وزیراعظم کو جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ "ہماری پسماندگی کا ناجائز فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اور ہماری غربت کو ہماری کمزوری سمجھا جا رہا ہے، لیکن ہم ظلم و جبر کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔"
مولانا فضل الرحمان نے غزہ میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں 60 ہزار بے گناہ شہریوں کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "امریکا اور یورپ اسرائیل کی حمایت کرنے میں برابر کے شریک ہیں اور ان کے ہاتھوں سے انسانیت کا خون بہ رہا ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ غزہ میں بچے، جوان اور بزرگ موت کا انتظار کر رہے ہیں، اور اگر مسلم حکمران خاموش ہیں تو وہ بھی اس ظلم میں شریک ہیں۔
جے یو آئی کے سربراہ نے کہا کہ "انگریز کے وفادار ہمیں غلامی کے لیے راضی رکھنا چاہتے ہیں، لیکن ہمارا مقصد غلامی سے بغاوت کرنا ہے۔" انہوں نے کہا کہ سود کے خاتمے کے حوالے سے بحث 77 سالوں سے جاری ہے، اور ان کی تجویز ہے کہ آئینی عدالت قائم کی جائے جو سیاسی معاملات میں فیصلے کرے۔
فضل الرحمان نے یہ بھی کہا کہ ان کی جماعت نے کبھی بھی اپوزیشن جماعتوں سے مشورہ کیے بغیر کوئی فیصلہ نہیں کیا، اور وہ عوام کی بہتر نمائندگی کے لیے پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔ انہوں نے ملک میں سیاسی شعور کے فروغ کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انتخابات میں دھاندلی کا سامنا ہے۔
آخر میں، مولانا فضل الرحمان نے پی ڈی ایم کے اتحاد کے بارے میں کہا کہ "میں پی ڈی ایم کا صدر تھا، اور اس اتحاد کا سربراہ اپوزیشن میں ہے، لیکن باقی افراد حکومت کا حصہ ہیں، پھر بھی اتحاد کا خاتمہ نہیں ہوا۔"