پاکستان اور چین کے درمیان 21 شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے معاہدے

09:34 PM, 4 Sep, 2025

بیجنگ: پاکستان اور چین نے زراعت، الیکٹرک گاڑیاں، شمسی توانائی، صحت، کیمیکل، آئرن اور اسٹیل سمیت مختلف شعبوں میں تعاون اور سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے 4.2 ارب ڈالر مالیت کی 21 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ اس موقع پر نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزراء اور دونوں ممالک کی معروف کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔

پاکستان اور چین کی بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات انتہائی گہرے اور مضبوط ہیں، جو اعتماد، احترام اور ہر حالات میں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی بنیاد پر قائم ہیں۔ انہوں نے چین کو پاکستان کا وفادار دوست قرار دیا اور کہا کہ چین نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کی ہے، چاہے وہ قدرتی آفات ہوں۔

وزیراعظم نے یاد دلایا کہ 2015 میں دونوں ممالک نے سی پیک معاہدے پر دستخط کیے تھے جس کے تحت چینی کمپنیوں نے پاکستان میں 35 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ اس سرمایہ کاری کے باعث ملک میں توانائی کے بحران میں نمایاں کمی آئی، صنعتوں کو فروغ ملا اور بڑے انفراسٹرکچر منصوبے شروع ہوئے۔

شہباز شریف نے سی پیک 2.0 کا اعلان کیا جو مکمل طور پر بی ٹو بی سرمایہ کاری پر مرکوز ہوگا۔ انہوں نے زراعت کو پاکستان کی معیشت کا ستون قرار دیتے ہوئے چینی سرمایہ کاروں کو اس شعبے میں سرمایہ کاری کی دعوت دی تاکہ دونوں ممالک کو فائدہ حاصل ہو۔

وزیراعظم نے انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، کان کنی اور معدنیات کو بھی دوطرفہ تعاون کے اہم میدان قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خصوصی اقتصادی زونز سی پیک 2.0 کی بنیاد ہوں گے جو چینی سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ مواقع فراہم کریں گے۔

انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ پاکستان میں چینی سرمایہ کاروں کو تمام ضروری سہولیات فراہم کی جائیں گی اور متعلقہ حکام ان کی مکمل معاونت کریں گے۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کی معیشت اب مستحکم ہے اور چین کے تعاون سے مزید ترقی کے راستے کھلیں گے۔

شہباز شریف نے کہا کہ چین نے اپنے قیادت میں جو ترقی کی ہے، وہ دنیا میں مثال ہے، جس نے کروڑوں افراد کو غربت سے نکالا اور دنیا بھر میں روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان بھی چین کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر ایک فعال معیشت بننے کی راہ پر گامزن ہے۔

کانفرنس کے اختتام پر وزیراعظم نے کہا کہ سرمایہ کاری کے معاہدوں اور مفاہمتی یادداشتوں پر عمل درآمد ایک اہم چیلنج ہے جس کے لیے دونوں حکومتوں کو قریبی تعاون کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یہ تعاون دونوں ممالک کی معیشت کے لیے ایک طویل سفر کا آغاز ہوگا جو پاکستان کو سرمایہ کاری اور ترقی کی راہ پر گامزن کرے گا۔

وزیراعظم نے چینی سرمایہ کاروں کو یقین دلایا کہ پاکستان ان کا دوسرا گھر ہے اور حکومت ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ٹو بی کانفرنس پاکستان کی ترقی میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگی اور وہ خود بھی اس مقصد کے لیے دن رات محنت کریں گے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات مزید مضبوط ہوں۔
 
 

مزیدخبریں