اگر 33نئے صؤبے بنیں تو نئی لیڈر شپ سامنے آئے گی ، چئیرمین پنجاب گروپ میاں عامر محمود

02:18 PM, 4 Sep, 2025

فیصل آباد : یونیورسٹی آف فیصل آباد میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے کہا ہے کہ اگر پاکستان میں نئے صوبے بنائے جائیں تو اس سے ملک کی قیادت میں بہتری آئے گی اور ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں صوبوں کو زیادہ تعداد میں تقسیم کرنے سے انتظامی مسائل بہتر انداز میں حل ہوں گے اور اختیارات نچلی سطح پر منتقل کیے جا سکیں گے، جو کہ ملک کی ترقی کے لیے ضروری ہے۔ میاں عامر نے کہا کہ 78 سال سے لوکل گورنمنٹ قائم کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں لیکن کسی نے واقعی اپنے اختیارات عوام تک منتقل نہیں کیے۔

انہوں نے پنجاب کی آبادی کو ملک کی کل آبادی کا 53 فیصد بتایا اور کہا کہ وسائل کی تقسیم بھی اس کے مطابق ہونی چاہیے، لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔ انہوں نے فیصل آباد، سرگودھا، بہاولپور، ملتان اور ڈی جی خان کو الگ صوبے بنانے کی تجویز دی تاکہ علاقے کے مسائل بہتر طریقے سے حل ہو سکیں۔

میاں عامر نے کہا کہ بھارت میں صوبوں کی تعداد بڑھانے سے وہاں ترقی ہوئی ہے، ہمیں بھی اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں عدالتوں کا نظام بہت سست ہے، مقدمات طویل عرصے تک چلتے ہیں جس کی وجہ سے انصاف میں دیر ہوتی ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ اپنے سیاسی حقوق کو سمجھیں اور اپنے ووٹ کے ذریعے بہتر لیڈرز کا انتخاب کریں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ملک کی سب سے بڑی رکاوٹ ہے اور اس کا خاتمہ ضروری ہے۔

میاں عامر محمود نے کہا کہ چھوٹے صوبے بنانے سے انتظامی اخراجات کم ہوں گے اور وسائل کا بہتر استعمال ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو آگے آ کر ملک کی ترقی کے لیے کام کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں