ٹرمپ نے پیوٹن کو یوکرین پر واضح وارننگ دے دی، ملاقات کی تیاریاں بھی جاری

03:19 PM, 4 Sep, 2025

واشنگٹن : امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو خبردار کیا ہے کہ اگر روس نے ایسے اقدامات کیے جو انہیں قبول نہ ہوں تو اس کے سنگین نتائج بھگتنے ہوں گے۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ جلد ہی پیوٹن سے بات کریں گے، اور روسی صدر ان کے موقف سے پہلے ہی آگاہ ہیں۔

ٹرمپ نے کہا کہ میرے پاس پیوٹن کے لیے کوئی خاص پیغام نہیں، وہ جانتے ہیں کہ میرا کیا موقف ہے۔ جو بھی فیصلہ کریں گے، ہمیں اس کا پتہ چلے گا۔ اگر ہم خوش نہیں ہوئے تو نتائج بھی دیکھیں گے۔

یہ باتیں اس وقت سامنے آئیں جب پیوٹن نے یوکرین کے صدر زیلنسکی سے ملاقات کی پیشکش کی ہے۔ پیوٹن نے کہا کہ وہ اس ملاقات کے لیے تیار ہیں، مگر انہوں نے یہ بھی کہا کہ دیکھنا ہے اس ملاقات سے کوئی فائدہ ہوتا ہے یا نہیں۔ اگر مذاکرات ناکام ہوئے تو روس اپنے مقاصد جنگ کے ذریعے حاصل کرے گا۔

یوکرین کی حکومت نے اس پیشکش پر اعتراف کیا کہ وہ بھی ملاقات کے لیے تیار ہیں اور روس پر مزید دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ امن کے لیے سنجیدہ ہوں۔

ٹرمپ نے بھی زیلنسکی اور پیوٹن کے درمیان براہ راست بات چیت کی حوصلہ افزائی کی ہے تاکہ تین سال سے جاری جنگ کا خاتمہ کیا جا سکے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان امن کی شرائط پر اختلافات ابھی بھی موجود ہیں۔ روس چاہتا ہے کہ ان علاقوں کو معاہدے میں شامل کیا جائے جنہیں اس نے 2022 میں اپنے قبضے میں لیا تھا، جبکہ یوکرین کسی بھی علاقے کی قربانی دینے پر تیار نہیں۔

ماسکو سے رپورٹر درسا جباری کے مطابق، پیوٹن بات چیت کے لیے تیار ہیں، لیکن یوکرین کی سکیورٹی ضمانتوں کے بغیر کوئی معاہدہ ممکن نہیں۔ دوسری جانب، زیلنسکی نے کہا ہے کہ وہ جلد ٹرمپ سے بات کریں گے تاکہ روس پر مزید پابندیاں لگائی جا سکیں۔

مزیدخبریں