چین میں فاشزم کے خاتمے کی 80ویں سالانہ تقریب کے موقع پر مودی کا نام مہمانوں کی فہرست میں کیوں شامل نہیں تھا یہ سمجھنے کے لئے اسکی وجہ جاننا ضروری۔ چین نے دوسری جنگ عظیم میں جاپانی جارحیت کے خلاف عوامی جنگ اور عالمی سطح پر فاشزم کے خاتمے کی 80ویں سالگرہ کی تقریبات شاندار پیمانے پر منعقد کیں جسے حالیہ برسوں کی سب سے بڑی سفارتی سرگرمی قرار دیا جا رہا ہے۔ 3 ستمبر کو ہونے والی ان تقریبات میں ولادیمیر پیوٹن، شہباز شریف، کم جونگ ان، مسعود پزشکیان سمیت دنیا کے 26 ممالک کے سربراہان اور اعلیٰ رہنما شریک ہوئے جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام سرے سے مہمانوں کی فہرست میں ہی شامل نہیں تھا۔
تقریب میں مودی کی غیر موجودگی نے سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی جسے خطے اور عالمی سیاست کے تناظر میں خاص اہمیت اور زاویے کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی فتح نے خطے میں سیاست اور سفارت کے نئے جیو اکنامک، جیو پولیٹیکل اور جیو سٹرٹیجک ڈاینیمکس متعارف کرا دئیے ہیں۔ اب بھارت کا خطے میں وہ طنطنہ نہیں رہا جو کسی حد تک مئی میں ہونے والی جنگ سے قبل ہوا کرتا تھا۔ گویا افواج پاکستان نے چند گھنٹوں کی جنگ میں ہی بھارت کے سارے کس بل نکال کر رکھ دیئے اور خطے کے ممالک کو بھارتی فاشزم سے آزاد کر دیا۔ حالیہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کی کامیابی نے علاقے میں ہی نہیں دنیا بھر میں ایک نئی صف بندی کو متعارف کرایا ہے۔ عالمی افق پر بھارت اب عالمی برادری کی پہلی ترجیح نہیں رہا۔
پاک بھارت جنگ میں افواج پاکستان کے ہاتھوں ذلت آمیز اور عبرتناک شکست پانے کے بعد عالمی منظر نامے پر مودی اور بھارت کی ساکھ دو کوڑی کی نہیں رہی اسی لیے مودی کی بیجنگ میں منعقدہ اس تقریب میں غیر موجودگی سے دنیا کی نظر میں شکست خوردہ بھارتی حکمران اور اسکے ملک کی حیثیت کا اندازہ بھی کیا جا سکتا ہے۔ اس تقریب سے قبل تیانجن میں شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی باڈی لینگویج ایک شکست خوردہ حکمران کی واضح جھلک پیش کر رہی تھی۔ اجلاس سے قبل مودی کو عالمی رہنماؤں کے ساتھ غیر رسمی ملاقاتوں میں محض انکی مخصوص احمقانہ ہنسی کے ساتھ دیکھا گیا۔
چین نے ان تقریبات کو عسکریت پسندی اور یکطرفہ پالیسیوں کے خلاف عالمی اتحاد کی علامت کے طور پر پیش کیا ہے۔ شریک رہنماؤں کی فہرست اس بات کا ثبوت ہے کہ چین نے اپنی سفارت کاری کو ایشیا، افریقہ، یورپ اور لاطینی امریکا تک وسیع کر دیا ہے۔ روسی صدر ولادی میر پیوٹن، شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان، کمبوڈیا کے بادشاہ نورودوم سیہامونی، ویتنام کے صدر تولام، لاوس کے صدر اور جنرل سیکرٹری تھونگ لون سسولیتھ، انڈونیشیا کے نو منتخب صدر پرابوو سبینتو، ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم اور منگولیا کے صدر اوخنا خورلسوخ تقریب میں شریک ہوئے۔ جنوبی ایشیا سے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، نیپال کے وزیراعظم پشپ کمال دہل پرچنڈا اور مالدیپ کے صدر محمد معیزو بھی اس خصوصی تقریب میں شریک ہوئے۔
اسکے علاوہ وسطی ایشیا سے قازقستان کے صدر قاسم جومارت توقایف، ازبکستان کے صدر شوکت مرزیایوف، تاجکستان کے صدر امام علی رحمان، کرغزستان کے صدر صادیر ژاپاروف اور ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف تقریب میں شرکت کے لیے بیجنگ پہنچے۔ تقریب میں دیگر خطوں سے بھی متعدد سربراہان شریک ہوئے جن میں بیلاروس کے صدر الیگزینڈر لوکا شینکو، آذربائیجان کے صدر الہام علییف، آرمینیا کے وزیراعظم نیکول پاشینیان، ایران کے صدر مسعود پزشکیان، کانگو کے صدر ڈینس ساسو نگوسو، زمبابوے کے صدر ایمرسن مننگاگوا، سربیا کے صدر الیگزینڈر ووچچ، سلوواکیہ کے وزیراعظم رابرٹ فیکو، کیوبا کے صدر میگوئل ڈایاز کینل جو کمیونسٹ پارٹی کے پہلے سیکرٹری بھی ہیں اور میانمار کے قائم مقام صدر مینت سوی شامل تھے۔
یہ شاندار اور پر وقار تقریب خطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو نمایاں کرتی ہے۔ چین نے فاشزم مخالف عالمی جنگ کی فتح میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور فاشزم مخالف عالمی جنگ کی فتح کی 80 ویں سالگرہ میں مختلف ممالک کی شخصیات کا کہنا تھا کہ چینی عوام نے 14 سال کی جدوجہد کے ذریعے فاشزم مخالف عالمی جنگ کی فتح میں عظیم خدمات سرانجام دی ہیں۔
آرمینیا کے سابق وزیر اعظم گرانٹ باگراکیانگ کا کہنا تھا کہ دوسری جنگ عظیم میں چینی عوام نے بڑی قربانیاں دیں۔ جاپانی جارحیت ظالمانہ تھی اور نانجنگ قتل عام نسل کشی کی ایک مثال تھی۔ کیوبا کے وزیر خارجہ روڈریگز نے کہا ہے کہ 14 سال کی کٹھن اور خونریز جدوجہد کے بعد چینی عوام نے بالآخر فاشسٹ مخالف عالمی جنگ میں مکمل فتح حاصل کی۔ ماسکو سٹیٹ یونیورسٹی میں سکول آف اورینٹئل اینڈ افریقن سٹڈیز کے ڈین الیکسی مسلوف کا خیال ہے کہ چین کی جانب سے اپنی طاقت کے استعمال سے اپنی حدود میں موجود جاپانی فوج کی مرکزی قوت کو قابو میں رکھنا، سوویت یونین کے خلاف جاپان کی فوجی کارروائی شروع نہ کر پانے کی اہم وجہ تھی۔ روس تاجک سلاو یونیورسٹی میں جیوپولیٹیکل سٹڈیز کے ڈائریکٹر گوزل میٹکنووا نے کہا کہ چین 14 سال مزاحمتی جنگ کرتا رہا۔ اس دوران 35 ملین سے زائد ہلاکتیں ہوئیں جو امن کے دفاع کے لیے دی جانے والی عظیم قربانی تھی۔ چین نے اس عظیم فتح کی یاد میں فوجی پریڈ اور دیگر یادگاری سرگرمیوں کا انعقاد کیا جس نے موجودہ عالمی نظام کے قیام میں اہم کردار ادا کیا تھا۔
عالمی اقتصادی اور عسکری طاقت بنتے ہوئے چین دنیا کی مختلف اقوام کو اپنے فکرو فلسفے سے ہم آہنگ کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ چین میں فاشزم کے خاتمے کی 80ویں سالانہ تقریب کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا نام مہمانوں کی فہرست میں شامل نہیں تھا کیونکہ بھارت فاشزم مخالف نہیں بلکہ فاشزم کا استعارہ ہے۔ اسی لیے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چین میں بے حد پذیرائی ملی کیونکہ ان کی شاندار قیادت میں افواج پاکستان نے عالمی فاشزم کے علاقائی ایجنٹ بھارت کو جنگ میں عبرتناک شکست سے دوچار کر کے بھارتی فاشزم کے فلسفے کو ریزہ ریزہ کر کے رکھ دیا۔ وہ چند ممالک جو فاشزم کو اپنا طرہ امتیاز سمجھتے ہیں ان میں امریکہ کے ساتھ بھارت نمایاں ہے۔ مودی نے گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بھارتی فاشزم کے فلسفے کو امریکی سرپرستی میں پروان چڑھایا۔ پاکستان نے مئی میں بھارت کیخلاف فیصلہ کن برتری کے ساتھ جنگ جیت کر دراصل بھارت کے فاشسٹ ریاست ہونے کے فلسفے کو شکست دی تھی۔ اسی لئے امریکہ کو بھارت کی پاکستان کے ہاتھوں اس شکست سے شدید دھچکا لگا۔
خطے میں بھارت امریکی فاشزم کے فلسفے کو کامیابی سے آگے بڑھانے میں ناکام رہا۔ گویا عالمی سطح پر فاشزم کو شکست ہوئی۔ اسی لئے مودی چین میں فاشزم کے خاتمے کی 80ویں سالانہ تقریب کا حصہ نہیں تھے۔ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن جاپانی جارحیت کے خلاف چینی عوام کی مزاحمتی جنگ اور عالمی فاشزم مخالف جنگ کی فتح کی 80 ویں یاد گار منانے کی تقریب میں شرکت کے لیے چین آئے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ فاشزم پر فتح میں فیصلہ کن کردار ادا کرنے والے دو ممالک کے طور پر روس اور چین نظریاتی فکر میں ہم آہنگ ہیں اور مشترک طور پر تاریخی یادوں اور فاشزم مخالف فلسفے کا تحفظ کر رہے ہیں۔ دونوں ممالک کے رہنماؤں کے درمیان دسیوں دوروں کے تبادلے سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور چین تاریخ اور نظریاتی فلسفے کو یاد رکھے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک اس تاریخی ورثہ کو آنے والی نسلوں کو منتقل کرنا چاہتے ہیں۔ اس معاملے پر روس اور چین کے نقطہ نظر میں مکمل ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ روس چینی عوام کی تاریخی اقدار کی پاسداری اور فاشزم مخالف فلسفے کے تحفظ کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور یہی وسیع تر چینی فکرو فلسفہ اور سوچ کے زاویے کی جیت ہے۔
مودی چینی تقریب سے کیوں غائب
09:16 AM, 4 Sep, 2025