علم کے حصول کا گہوارہ قائد اعظم لائبریری

09:15 AM, 4 Sep, 2025

قائد اعظمؒ لائبریری پاکستان کی بڑی لائبریریوں میں سے ایک اور باغ جناح لارنس گارڈن لاہور میں قائم ہے۔ لائبریری میں اُردو، عربی، فارسی اور انگریزی کتابوں کے ہزاروں مجموعہ جات موجود ہیں۔ نہ صرف تاریخ اور روایتی کتابیں بلکہ بزنس ایڈمنسٹریشن، ٹیکنالوجی، آرٹ اور کمیونیکیشن کا بھی بڑا ذخیرہ موجود ہے اور ہر سال 3000 کتابوں کا اضافہ بھی کیا جاتا ہے۔ 1866ء میں پُرشکوہ گنبدوں، بلند ستونوں، خوبصورت دروازوں، سیڑھیوں، لابیوں، بڑے ہالز اور کشادہ برآمدوں والی یہ عمارت انگریزوں نے اپنی ضرورت کے لیے تفریح اور تقریبات کیلئے جم خانہ کلب کے طور پر تعمیر کی تھی۔1981ء میں پنجاب حکومت کی عملداری میں آنے کے بعد 1984ء میں اسے قائد اعظم لائبریری بنا دیا گیا۔ اپنی کئی خوبصورتیوں کے باعث بہت جلد یہ لائبریری پاکستان کی چند بڑی لائبریریوں کی فہرست میں شامل ہو گئی۔ یہاں پر محققین، طلبا اور کتب بینی کے شائقین کیلئے ڈیڑھ لاکھ سے زائد نادر کتابیں اور رسائل موجودہیں۔ ای لائبریری، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل ریسرچ ڈیٹابیسز کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ دسمبر 2024ء میں امریکی حکومت کی مدد سے لنکن کارنر جدید ترین سمارٹ لائبریری کا قیام عمل میں لایا گیا، تیس ہزار نئی کتابیں شامل کی گئیں۔ قائداعظم لائبریری کی تاریخ پر مبنی کافی ٹیبل بک، ہر ہفتے ادبی اور علمی پروگراموں کا سلسلہ، طالبعلموں اور ریسرچ سکالرز کیلئے خصوصی گوشے قائم کرنا واقعی قابل تحسین ہے۔
ڈائریکٹر جنرل پبلک لائبریریز پنجاب کاشف منظور مسکراتے چہرے والے مشفق انسان ہیں جن کی کاوشوں سے پنجاب کی لائبریریوں میں نئی کتابوں کی بہار ائی ہے، ان کی تعیناتی کے تقریباً دو سال کے دوران 7 کروڑ 10 لاکھ روپے کی کتابیں پنجاب کی سرکاری لائبریریوں کو فراہم کی جا چکی ہیں، اور اتنی خطیر رقم سے کتب کی خریداری 27 سال بعد ہوئی ہے انہوں نے ذاتی طور پر بھی ہزاروں روپے کی کتابیں خرید کر قائد اعظم پبلک لائبریری 
میں رکھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امریکہ کے تعاون سے قائد اعظم پبلک لائبریری میں لنکن کارنر سمارٹ لائبریری قائم کی گئی ہے جسے منی امریکن سنٹر بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس کے قیام کے لیے امریکہ کی گورنمنٹ نے 5 کروڑ روپے فراہم کیے۔ اس میں امریکن لٹریچر اورامریکن میگزین سٹڈی کی سہولت موجود ہے۔ یہ پنجاب میں چھٹی اور لاہور میں دوسری لنکن سمارٹ لائبریری ہے۔ اس سے پہلے ارفع کریم ٹاور لاہور میں پہلی لنکن سمارٹ لائبریری قائم کی گئی۔ کاشف منظور کا کہنا ہے کہ حکومت کی توجہ ای لائبریریز کو پروموٹ کرنے پر ہے اور قائد اعظم پبلک لائبریری کو بھی ای لائبریری پر شفٹ کیا جا رہا ہے۔ انہوںنے حکومت کو تجویز دی ہے کہ طلبا کو لیپ ٹاپ کی بجائے ٹیبلٹس دئیے جائیں اور ان میں حکومت کی منظور شدہ دس بیس ہزار ایسی کتابیں پہلے سے موجود ہوں جو طلباء کی تعلیم میں معاون ثابت ہوں۔ امریکہ اور پاکستان کے تعلقات کو ایک خوشگوار رخ دینے کیلئے امریکہ کی جانب سے پاکستان میں لنکن کارنرز کے نام سے ایسے مراکز قائم کئے گئے ہیں جن میں پاکستانی امریکی ثقافت، زبان، تعلیم، طرز زندگی کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔
قائداعظم لائبریری لاہور میں لنکن کارنر کے باضابطہ کھلنے پر پاکستان میں امریکی سفیر ڈونلڈ بلوم نے مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھاکہ یہ اقدام دونوں ممالک کے مابین تعلقات کے نئے باب کا آغاز ہے۔ دونوں ممالک 75 سال سے تعاون اور اشتراک کررہے ہیں، قائداعظم لائبریری میں لنکن کارنر امریکا اور پاکستان کے عوام کے درمیان افہام و تفہیم اور باہمی احترام کو فروغ دینے کے مسلسل عزم کی نشاندہی کرتا ہے، یہ کارنر پاکستان کے روشن اور باصلاحیت نوجوانوں پر سرمایہ کاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ لنکن کارنر ایک متحرک مرکز کے طور پر کام کرے گا جو یہاں مطالعے کے شوقین افراد کے لیے بہت سے پروگرام اور وسائل پیش کرتا ہے، یہ نئی سہولت پاکستان کے نوجوانوں کو نئے مواقع فراہم کرے گی۔ ’ہمارے تحقیقی ڈیٹا بیس کے ذریعے 40 ہزار سے زیادہ تعلیمی جرائد تک رسائی، ہنر اور امریکا میں بیرون ملک مطالعہ اور تبادلہ پروگرام کے مواقع کے بارے میں تازہ ترین معلومات رکھتے ہیں، یہ پاکستانیوں اور امریکیوں کے لیے باہمی افہام و تفہیم بڑھانے کے لیے خوش آئند جگہ بھی ہے۔‘ امریکی سفیر نے کہا کہ لنکن کارنرز نہ صرف پاکستانیوں اور امریکیوں کو ٹیکنالوجی، ثقافتی پروگراموں اور خصوصی تقریبات کے ذریعے جوڑتے ہیں بلکہ خیالات کے صحت مند تبادلے، مباحثے اور رضاکارانہ طور پر بھی کام کرتے ہیں، لنکن کارنرز کے پروگراموں میں انٹرپرینیورشپ سے لے کر لڑکیوں کی تعلیم کے لیے تخلیقی مواد بھی شامل ہے۔ ڈونلڈ بلوم کا کہنا ہے کہ ان سب کا مقصد مستقبل کے لیڈروں کو متاثر کرنا، ثقافتی تقسیم کو ختم کرنا اور افراد کو اپنی کمیونٹیز، جمہوری عمل اور عالمی منظر نامے میں فعال حصہ لینے کے لیے بااختیار بنانا ہے۔ لنکن کارنرز میں آن لائن تعلیم کے ساتھ سب سے زیادہ طلب انگریزی زبان کے کورسز اور مفت کلاسوں کی ہے۔ یہاں انگریزی زبان کی ہفتہ وار کلاسز بھی منعقد کرائی جا رہی ہیں۔ انگریزی کے آن لائن لیکچرز میں ’شیئر ڈاٹ امریکہ‘ اور ’وائس آف امریکہ‘ کے خصوصی لیکچر، انگریزی کے سیکھنے والوں کے لیے اضافی مدد کا باعث ہیں۔ ’لنکن کارنرز‘ کیا ہیں؟ پاکستان کے مختلف شہروں میں امریکی قونصل خانوں اور حکومت کے اشتراک کے ساتھ قائم ہونے والے یہ ’لنکن کارنرز‘ معلومات کا جدید پلیٹ فارم ہیں جو امریکہ کے سولہویں صدر ’ابراہم لنکن‘ کے نام سے منسوب کیے گئے ہیں۔ پاکستان بھر میں اس وقت تک اٹھارہ لنکن کارنر کام کر رہے ہیں اسلام آباد میں پانچ، لاہور میں چار، پشاور میں دو، گلگت میں ایک اور سندھ میں پانچ ہیں، جن میں لاڑکانہ، خیرپور، حیدرآباد کے ایک ایک سنٹر کے علاوہ کراچی میں دو لنکن کارنر قائم ہیں۔ پاکستان سمیت دنیا بھر میں 700 لنکن کارنر فعال ہیں۔ ایک زمانے میں یہ لنکن کارنرز پاکستان میں ’’امریکن سنٹرز‘‘ کے نام سے کام کرتے تھے جو امریکی قونصلیٹ میں قائم تھے۔

مزیدخبریں