وفاقی ملازمین کے پنشن نظام میں اہم اصلاحات، حکومت نے نئے قواعد نافذ کر دیے

11:41 AM, 4 Oct, 2025

کراچی: وفاقی حکومت نے پنشن نظام میں اہم اصلاحات کا اعلان کیا ہے جس کے تحت نئے وفاقی ملازمین کو اپنی تنخواہ کا 10 فیصد حصہ پنشن فنڈ میں جمع کروانا ہوگا، جبکہ حکومت 12 فیصد کی شراکت دے گی۔ اس طرح ملازمین اور حکومت کی کل شراکت 22 فیصد ہو جائے گی۔

نئی ’کنٹری بیوٹری پنشن فنڈ اسکیم‘ یکم جولائی 2024 سے سول ملازمین پر اور یکم جولائی 2025 سے مسلح افواج کے ملازمین پر لاگو ہوگی۔ یہ اصلاحات موجودہ ’ڈیفائنڈ بینیفٹ‘ نظام کی جگہ لے کر ’ڈیفائنڈ کنٹری بیوشن‘ ماڈل کو اپنائیں گی، جس کا مقصد پنشن کے مالی بوجھ کو کم کرنا ہے۔

وزارت خزانہ نے ایف جی ڈی سی پنشن فنڈ اسکیم رولز 2024 جاری کر دیے ہیں جو پبلک فنانس مینجمنٹ ایکٹ 2019 کے تحت نافذ ہوں گے۔ نئے قوانین کے مطابق، پنشن فنڈ کی نگرانی مجاز فنڈ منیجرز کریں گے اور ملازمین اپنی جمع شدہ رقم ریٹائرمنٹ سے پہلے نکال نہیں سکیں گے۔

حکومت نے اس اسکیم کے نفاذ کے لیے مالی سال 2024-25 میں 14 ارب 30 کروڑ روپے کا بجٹ مختص کیا ہے۔ یہ قدم مستقبل میں پنشن کے اخراجات کو کنٹرول کرنے اور مالی استحکام کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔

مزیدخبریں