اسلام آباد:پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق چیئرمین سینیٹ رضا ربانی نے کہا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے مجوزہ آئینی ترامیم 18ویں ترمیم کے اختیارات واپس لینے کے مترادف ہوں گی۔
انہوں نے خبردار کیا کہ صوبائی خودمختاری میں کسی بھی قسم کی تبدیلی وفاق اور صوبوں کے تعلقات پر منفی اثر ڈال سکتی ہے اور مالی و سیاسی مسائل پیدا کر سکتی ہے۔ رضا ربانی کے مطابق 18ویں ترمیم کے تحت صوبوں کو منتقل کی گئی وزارتیں اور مالیاتی اختیارات واپس لینا وفاقی حکومت پر اضافی بوجھ ڈالے گا اور شراکتی وفاقیت کے اصولوں کے خلاف ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یہ ترامیم شدت پسند قوم پرستوں کو دوبارہ غیر آئینی سرگرمیوں کی طرف راغب کر سکتی ہیں، جس سے ملک میں سیاسی عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔ رضا ربانی نے تجویز دی کہ اگر وفاق مالی معاملات سنبھالنے میں ناکام ہے تو صوبوں کو ٹیکس جمع کرنے اور وفاقی اخراجات پورے کرنے کی اجازت دی جائے۔
حکومت کے قانون و انصاف کے وزیر مملکت بیرسٹر عقیل ملک نے اس ترمیم پر بات چیت کی تصدیق کی، تاہم مسودہ ابھی تیار نہیں ہوا۔
واضح رہے کہ پیپلز پارٹی نے گزشتہ برسوں میں 18ویں ترمیم کی حفاظت کا موقف اختیار کیا ہے، اور رضا ربانی نے ہمیشہ اس میں کسی قسم کی تبدیلی کی مخالفت کی ہے۔