لاہور : پنجاب میں سموگ کی صورتحال بدستور سنگین ہے، اور لاہور ایک بار پھر فضائی آلودگی میں دنیا میں سب سے آگے نکل گیا ہے۔ شہر کا ایئر کوالٹی انڈیکس (AQI) 372 تک جا پہنچا ہے، جو کہ انسانوں کی صحت کے لیے انتہائی خطرناک سطح ہے۔ لاہور کے مختلف علاقوں میں آلودگی کی شدت میں مزید اضافہ ہو چکا ہے، خاص طور پر رائیونڈ (AQI 587)، گلبرگ (AQI 581)، لوئر مال (AQI 552) اور ڈی ایچ اے (AQI 478) جیسے علاقے شدید متاثر ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق، آج لاہور میں کم سے کم درجہ حرارت 16 اور زیادہ سے زیادہ 31 سینٹی گریڈ کے درمیان رہنے کی توقع ہے، اور شہر میں وقفے وقفے سے بارشیں بھی ہو سکتی ہیں جس سے آلودگی میں کمی آنے کی امید ہے۔
دوسری طرف، گوجرانوالہ (AQI 280)، ملتان (AQI 210)، سیالکوٹ (AQI 184)، فیصل آباد (AQI 251) اور پشاور (AQI 196) جیسے شہروں میں بھی فضائی آلودگی کی سطح تشویشناک حد تک پہنچ چکی ہے۔
پنجاب حکومت نے اس بحران پر قابو پانے کے لیے مختلف اقدامات اٹھائے ہیں، جن میں آلودگی پھیلانے والی فیکٹریوں کو بند کرنا، ایئر کوالٹی مانیٹرنگ سسٹمز کا قیام اور ڈرون سکواڈز کا استعمال شامل ہے۔ حکومت نے سموگ فری زونز بھی قائم کر دیے ہیں تاکہ شہریوں کو صاف ہوا فراہم کی جا سکے۔
سینئر وزیر پنجاب، مریم اورنگزیب نے اس صورتحال پر کہا کہ "صاف فضا ہر شہری کا حق ہے اور حکومت سموگ کے مستقل خاتمے کے لیے پائیدار اقدامات کرنے میں پُرعزم ہے۔" تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس مسئلے کا مکمل حل تلاش کرنے کے لیے مزید ٹھوس حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے تاکہ آلودگی کو طویل مدت تک کنٹرول کیا جا سکے۔