اس امر میں دو رائے نہیں ہیں کہ افغان طالبان اور فتنہ الخوارج یعنی ٹی ٹی پی اصل میں ایک ہی سکے کے دو رخ ہیں۔ اس سلسلے میں ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔ یہاں وطن عزیز میں بھی بہت سے فتنہ الخوارج کے حامی یہ تاثر پھیلانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں کہ افغان طالبان کا ٹی ٹی پی پر کوئی کنٹرول نہیں ایسا تاثر دینے والوں کو اس گٹھ جوڑ کا حصہ کیوں نہ سمجھا جائے بلکہ دوسرے الفاظ میں یہ ہی وہ لوگ ہیں جو وطن دشمن قوتوں کے سہولت کار ہیں۔
طالبان رجیم کے خوارج سے پکے رشتے اس امر سے بھی ثابت ہیں کہ نور والی نے ہیبت اللہ کی بیعت کر رکھی ہے اور بقول ان کی کم عقل سوچ کے وہ ہر کام میں ان کے ساتھ ہیں۔ دوسرا بڑا ثبوت یہ ہے کہ افغان طالبان پاکستان سمیت بین الاقوامی پلیٹ فارمز پر بھی یہ کھلی آفر دے چکے ہیں کہ وہ فتنہ الخوارج کو پیسوں کے بدلے میں افغانستان میں ان کی نقل مکانی کروا سکے ہیں سٹیٹمنٹ کیا ثابت کرتی ہے کہ موجودہ دہشت گرد نہ صرف ان کی پناہ میں ہیں بلکہ مکمل کنٹرول میں ہیں جبھی ان نقل مکانی بھی افغان رجیم کی مرہون منت ہے ۔ ایسی اوپن آفرز کے بعد افغان طالبان کا یہ کہنا کہ خوارج پاکستان کا اندرونی معاملہ ہے کس قدر طالع آزما، فتنہ پرور اور مضحکہ خیز منافقانہ طرز عمل ہے ۔
ثبوت اور بھی بہت ہیں مگر اس سے بڑا دلچسپ امر کیا ہو گا کہ خود اپنے دام میں صیاد آ گیا کے مصداق افغانستان کی اسلام آباد پر حملہ کی دھمکی کیا معنی رکھتی ہے وہ بھی ایسی صورت حال میں جبکہ افغانستان کے پاس میزائل اور ہتھیار تک موجود نہیں۔ یعنی سیدھا مطلب یہ نکلتا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور ان کے ذریعے کئے گئے دھماکوں سے پاکستانی شہریوں ، املاک کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور اتنا ہی نہیں یہ طرز عمل ثابت کرنا ہے کہ طالبان رجیم پہلے بھی ایسا کرتی رہی ہے اور آئندہ بھی ایسی خفیہ کارروائیوں کا ادارہ رکھی ہے یہی ان کا طرز سیاست اور بلیک میلنگ پوائنٹ ہے کیونکہ پاکستان ایک ترقی یافتہ وسائل سے بھرپور بلند و بالا عمارتوں عظیم الشان اداروں سے سجا ہوا ہے جو نقصان کا متحمل نہیں ہو سکتا جبکہ افغانستان انتہائی پسماندہ ، ناہموار بغیر اداروں بغیر جدید ہتھیاروں اور ٹیکنالوجی سے محروم ایسا خطہ ہے جس کے عوام جیسے طالبان مائینڈڈ رجیم کے ہتھے چڑھے ہوئے ہیں جنگ میں ان کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں جبکہ پاکستان کے پاس جدید ترین ہسپتال ادارے، ہتھیار ٹیکنالوجی اور دیگر اثاثوں کے باعث افغانستان جیسے ملک سے کوئی میچ ہی نہیں الغرض افغانستان کے پاس گنوانے کو کچھ نہیں لہٰذا وہ کرائے کی دہشت گردی پر تیار رہتے ہیں پاکستان مالا مال ہے کچھ گنوانے کو اس لئے بھی تیار نہیں کہ یہاں کی مسلح افواج اپنے سے پانچ گنا بڑے دشمن کو سبق سکھا چکی ہیں اور اس سے بھی زیادہ کی اہلیت رکھتی ہیں آدھی دنیا پاکستان کی سلامتی کے ساتھ سلامت ہے جس کا اعلان فیلڈ مارشل عاصم منیر پہلے بھی کر چکے ہیں۔
البتہ چھوٹی چھوٹی ڈوزن سے چوہے کے بل سے نکلنے کے مترادف افغان شناخت و کاغذات رکھنے والے اکثر پکڑے جاتے ہیں جو پاکستان میں منفی کارروائیاں کرتے رہتے ہیں کھل کر سامنے لڑنے کی صورت حال تو گزشتہ دنوں عوام نے دیکھ رکھی ہے کہ کس طرح ہماری افواج کے سامنے افغان طالبان چار دن ہی میں توبہ کر گئے ۔
اس میں بھی کوئی دورائے نہیں ہیں کہ دہشت گردی کے کئی تربیتی مراکز کا وجود افغان سرزمین پر ہے حتی کہ جب جعفر ایکسپریس کا انتہائی افسوس ناک واقعہ ہوا تو فتنہ الخوارج گل رحمان ہرات افغانستان سے رابطے میں تھا۔خارجی نور ولی اور دیگر لیڈران کی کابل اور قندھار میں موجودگی کیا معنی رکھتی ہے ۔ افغانستان طالبان دہشت گردی ہی کو اوڑھنا بچھوڑنا اس لئے بنا رکھا ہے کہ دیگر ترقی کے کوئی کام تو ان کو کرنا نہیں اسی کے بل پر وہ بین الاقوامی اور موجودہ خطے کی سیاست میں ’’ان‘‘ ہیں۔
ترکیہ اور قطر کے مشترکہ اعلامیہ و کاوش کی کوشش میں افغان بالآخر ڈائیلاگ پر پہنچنا چاہتے ہیں اس میں پاکستان واضع موقف رکھتا ہے کہ وہ اپنی سرحدوں کی حفاظت و سلامتی پر کس طرح کا کمپرومائز نہیں کرے گا۔ جس کی حتمی شرط یہ ہے کہ پاکستان افغان سرزمین کو کسی صورت پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے گا ۔ ان شرائط میں دہشت گردی کی تربیت گاہوں کا مکمل طور پر تباہ ہونا ان دہشت گردوں کے لیڈروں کے خلاف تادیبی کارروائی لازمی ہے ۔
ان حتمی شرائط پر اگر افغانستان حکومت پوری نہیں اترتی اور اپنے ان اڈوں کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے سے نہیں روکتی تو پاکستان بھی اس مشروط سیزفائر کو ختم کرنے کا حق رکھتا ہے ۔ پاکستان اپنے تیئں پوری نیک نیتی سے اپنے اور ہمسایہ ممالک کے درمیان امن کا خواہاں ہے مگر یہ خواہش کمزوری نہیں نا ہی اسے غیر مشروط سمجھا جائے ۔ پاکستان پر وعدہ خلافی کی صورت میں اپنے دفاع کا حق سرحدوں پر آگے بڑھ کر شکست فاش دیکر اپنے مخصوص دلیرانہ انداز میں استعمال کرے گا۔ یہ سچ ہے کہ امن ہماری خواہش ، جنگ کی صورت میں دشمن کو مات دینا ہماری عادت اور دہشت گردی پر زیرو ٹالرنس ہمارا وطیرہ ہے ۔
افغان رجیم ، فتنہ الخوارج گٹھ جوڑ
09:22 AM, 4 Nov, 2025