گزشتہ صدی کے ساٹھ کے عشرے میں لاہور سے ماہنامہ "اردو ڈائجسٹ" چھپنا شروع ہوا توجلد ہی اس نے ادب و صحافت کے میدان میں جہاں مقبولیت اور شرافت کے جھنڈے گاڑھ لئے وہاں اس نے ایک عہد ساز اور رجحان ساز جریدے کا مقام بھی حاصل کر لیا۔ اس کی دیکھا دیکھی لاہور سے سیارہ ڈائجسٹ اور ’’حکایت‘‘ جیسے ماہنامے چھپنا شروع ہوئے تو کراچی سے بھی اسی انداز کے کئی ماہنامہ جریدے شائع ہونا شروع ہو گئے۔ ان میں "جاسوسی ڈائجسٹ"، "سسپینس ڈائجسٹ" ، "خواتین ڈائجسٹ" کے ساتھ ماہنامہ "سب رنگ" زیادہ نمایاں ہوئے۔ یہ رسالے بڑی چکا چوند اور خواتین کی تصویروں سے مزین سرورق کے ساتھ جہاں شائع ہونا شروع ہوئے وہاں ہندو مذہب کے عقائد (ہندو میتھالوجی) پر مبنی دیوی دیوتائوں کی فرضی اور تصوراتی کہانیوں پر مبنی قسط وار سلسلے شائع کرنے کی بھی انہوں نے روایت قائم کی۔ جناب شکیل عادل زادہ کی زیرِ صدارت ماہنامہ "سب رنگ " طباعت و اشاعت اور کہانیوں اور مضامین کے اپنے اعلیٰ اور بلند ترین معیار کی بدولت زیادہ مقبول ہوا اور اس نے اشاعت کے ریکارڈ قائم کیے۔
ماہنامہ "اردو ڈائجسٹ" کے ساتھ ہفت روزہ "زندگی" کا ذکر بھی ضروری ہے۔ قریشی برادران محترم ڈاکٹر اعجازحسن قریشی مرحوم اور الطاف حسن قریشی نے یہ رسالہ شائع کرنے کا فیصلہ کیا تو نامور صحافی، مدیر اور دانشور جناب مجیب الرحمٰن شامی جن کا اس وقت ابھی عنفوان شباب تھا اس کے ایڈیٹر مقرر ہوئے۔محترم سجاد میر، مختار حسن مرحوم، ممتاز اقبال بیگ اور رفیق ڈوگر مرحوم جیسے نامور نوجوان صحافی اور اہلِ قلم اس کے ادارتی عملے میں شامل تھے۔ جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے ستمبر ۱۹۶۹ء میں اس کا پہلا شمارہ شائع ہوا تو ہر طرف اس کی دھوم مچ گئی۔ شروع سے ہی میں اس کا ایسا قاری اور خریدار بنا جسے نئے شمارے کے آنے کا شدت سے انتظار رہتا تھا۔ چھتیس صفحات کے لگ بھگ اس کی ضخامت اور شروع شروع میں ۶۰ پیسے اس کی قیمت ہوا کرتی تھی۔ اسلام آباد سے مختار حسن مرحوم کی ڈائری یا مضمون، لاہور سے رفیق ڈوگر مرحوم کا کوئی مضمون اور "دید شنید" کے عنوان
سے کالم ، حیدر آباد سے ظہیر احمد کا مکتوب اور لاہور سے ہی ممتاز اقبال ملک کی کوئی رپورٹ یا مضمون تقریباً ہر شمارے میں شامل ہوتے تھے۔ جناب مجیب الرحمن شامی کے لکھے ہوئے اداریے جن کے آخر میں ان کے د ستخط ثبت ہوتے تھے ، اہم قومی معاملات و مسائل کے حوالے سے بہت پر جوش اور جاندار ہوا کرتے تھے۔ ان کے علاوہ قومی شخصیات کے انٹرویو اور "راز و نیاز سے آگے" کے تحت خصوصی تحقیقی مضامین اکثر رسالے کی زینت ہوا کرتے تھے۔ عرصہ ہوا اس کی ملکیت قریشی برادران کی بجائے جناب مجیب الرحمن شامی کے پاس ہے جو اپنے ماہنامہ "قومی ڈائجسٹ" کے ساتھ اس کی اشاعت بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ "اردو ڈائجسٹ "کے پرانے شماروں کے ساتھ ہفت روزہ "زندگی" کے پرانے شمارے بھی عرصہ دراز تک میرے پاس محفوظ رہے ہیں اور اب بھی کچھ محفوظ ہیں تاہم اب مکمل طور پر ان کو سنبھالنا شاید ممکن نہیں رہا۔
اخبارات اور رسائل و جرائد کا تذکرہ مزید جاری رکھا جا سکتا ہے لیکن اس کی بجائے ان میں باقاعدگی سے لکھنے والوں میں سے کچھ پسندیدہ قلمکاروں اور کالم نگاروں کا تذکرہ بھی اہم ہے۔ مرحوم عبدالقادر حسن روزنامہ "نوائے وقت" لاہور کے چیف رپورٹر تھے اور پچھلی صدی کے ساٹھ کے عشرے کے نصف آخر کے برسوں میں انہوں نے "غیر سیاسی باتیں" کے عنوان سے کالم نگاری کا آغاز کیا تو میں شروع سے ہی ذوق و شوق سے ان کے کالم پڑھنے لگا۔ اس دور کے لکھے ہوئے ان کے کتنے ہی کالم میرے ذہن کے نہاں خانے میں اب بھی کچھ کچھ محفوظ ہیں۔ غالبا ً نومبر ۱۹۶۷ ء کی بات ہے سابق گورنر مغربی پاکستان نواب امیر محمد خان آف کالا باغ کو ان کے بیٹے نے خاندانی تنازعے پر قتل کر دیا تو عبدالقادر حسن نے کالا باغ میں ان کی قبر پر فاتحہ خوانی کے بعد کالم لکھا جو بلا شبہ ایک یاد گار کالم تھا۔ دسمبر ۱۹۷۱ء کے آخر میں ذوالفقار علی بھٹو بر سر اقتدار آئے تو کچھ عرصہ بعد انہوں نے مشہورچینی رہنما مائوزے تنگ کے سٹائل پر بند گلے کا کوٹ جس پر دوسرے رنگ کے کپڑے کی دھاریاں بنی ہوتی تھیں اور اس کے ساتھ پینٹ کا لباس اپنے اور اپنی کابینہ کے ارکان اور صوبائی گورنروں ، وزرائے اعلیٰ اور وزراء کے لیے رائج کیاتو عبدالقادر حسن نے اپنے کالم میں اس پر فوجی بینڈ کے ارکان کی وردی کی پھبتی کَسی جو زبان زَدِ خاص و عام ہو گئی۔ عبدالقادر حسن بلا شبہ میرے ایسے پسندیدہ کالم نگار تھے جو روزنامہ "نوائے وقت "، ہفت روزہ " افریشیا" ، روزنامہ "امروز" ، روزنامہ" جنگ" اور روزنامہ "ایکسپریس " جس اخبار یا جریدے میںکالم لکھتے رہے ہیں اُسے ضرور پڑھنے کی کوشش کرتا رہا ہوں۔
روزنامہ "نوائے وقت " میں پچھلی صدی کے اسی کے عشرے کے برسوں میں ایک اور قابل قدر شخصیت میجر ابن الحسن مرحوم کا ہر اتوار کو کالم چھپاکرتا تھا میری کوشش ہوتی تھی کہ اسے پڑھ لیا جائے۔ "نوائے وقت " میں عطاء الحق قاسمی کا "روزن دیوار سے" میرا پسندیدہ کالم ہوا کرتا تھا۔ عرصہ ہوا انہوں نے "جنگ" میں لکھنا شروع کر رکھا ہے تب بھی میں ان کے کالم ضرور پڑھتا ہوں۔ نذیر ناجی مرحوم ، سید عباس اطہر مرحوم ، محترم عرفان صدیقی اور ارشاد عارف روزنامہ "نوائے وقت " میں لکھا کرتے تھے تو ان کے کالم پڑھنا میرا معمول تھا۔ بعد میں یہ دوسرے اخبارات میں لکھنے لگے تو بھی یہ معمول جاری رہا۔ جاوید چوہدری کا کالم " زیرو پوائنٹ" "جنگ" میں چھپتا تھا تو میں ضرور پڑھا کرتا تھا ۔اب "ایکسپریس" میں چھپتا ہے تو بھی ذوق و شوق سے پڑھتا ہوں۔ خالد مسعود خان کے حوالے سے بھی کچھ ایسا ہی معاملہ ہے ۔ "جنگ" میں چھپا کرتے تھے تو میں ان کا قاری تھا۔ اب " دنیا "میں چھپ رہے ہیں تو تب بھی کوشش کرتا ہوں کہ ان کا کوئی کالم پڑھنے سے نہ رہ جائے۔ یہی معاملہ نصرت جاوید کے بارے میں ہے۔" نوائے وقت" میں چھپنے والے ان کے کالم ہر صورت میں پڑھنا ہوتے ہیں۔ روزنامہ" نئی بات "میں محترم نجم ولی خان کے ہفتے میں تین چار کالم چھپ جاتے ہیں، ضرور پڑھ لیتا ہوں۔ معروف یو ٹیوبر، اینکر پرسن اور سینئر صحافی سید طلعت حسین میرے ایک اور انتہائی پسندیدہ اخبار نویس اور اینکر پرسن ہیں ۔ روزنامہ" ایکسپریس " میں وہ ایک زمانے میں اردو میں کالم لکھتے رہے جن کو ضرور پڑھ لیا کرتا تھا۔ اب ان کا یو ٹیوب چینل بھی ضرور دیکھتا ہوں۔ ذاتی یادوں اور یاد داشتوں پر مبنی یہ سلسلہ کچھ طویل ہو گیا ہے اس کا اختتام کرتے ہیں ورنہ مزید کئی یادوں اور باتوں کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔
کچھ اخبارات و جرائد اور صحافیوں کا تذکرہ … !
09:21 AM, 4 Nov, 2025