ہماری نگاہوں کے سامنے مسجد الحرام کے بلند میناروں میں گم ہو چکی وہ مقدس جگہ تھی جہاں مکہ کے سردار عبدالمطلب کا وہ گھر تھا جسے کائنات کے سب سے بڑے صادق و امینؐ کی آمد کے لیے چنا گیا جس نے سنگلاخ چٹانوں میں گھرے شہر مکہ سے اٹھ کر پوری دنیا میں ناقابل تردید انقلاب کی بنیاد رکھ دی۔ قیمتی مرمریں فرش تلے وہ مٹی تھی جس کا تقدس سرکار دو عالم محمدﷺ کے قدموں کی چاپ سے شناسا تھا۔ اپنے عمرہ کی عددی گنتی بڑھاتے زائرین، جوتوں سمیت چلتے عقیدت مند، عمرہ کے لازمی رکن کی تکمیل کے لیے بال کٹوانے کی آوازیں لگاتے ہیئر ڈریسر، دنیا بھر سے روزی کی تلاش میں آئے ٹیکسی ڈرائیور اور سعی کے سات چکر پورے کر کے نفل ادا کرنے والے زائر سبھی جبل صفا کے قریب قائم کی گئی مکتبہ مکہ المکرمہ لائبریری کو نظر انداز کرتے ہوئے بے خبر تھے کہ اسی مقام پر وہ گھر تھا جسے آخری رسالت کے لیے چنا گیا۔ صدیوں بعد بھی اپنے کھردرے لہجے، سخت مزاج اور بے حس طبیعت کو نہ بدل سکنے والے متکبر عرب قبائل کے درمیان ایک ایسا خوش اخلاق، شیریں زبان، سچائی کا منبع، وعدے کا پکا اور صلح جُو نبی محمدﷺ اتارا گیا جس نے اپنے کردار سے جہالت کے محلات پر کاری ضرب لگائی کیونکہ دین ابراہیمی پر قائم یہی وہ قبیلہ تھا جو بتوں کی پوجا سے دور اور بیت اللہ کے منتظم کے طور پر ذمہ داریاں پوری کرتا تھا۔
سعودیہ کی بلند ترین رہائشی عمارت کلاک ٹاور اور بے شمار راہداریاں مکتبہ مکہ المکرمہ لائبریری کے نیچے بچھی زمین کے سامنے نیچ و کمتر تھیں، اس لیے پست تھیں کہ ہمارے پیش نظر وہ علاقہ تھا جہاں جناب ابراہیم علیہ السلام اور جناب اسماعیل علیہ السلام کی زندگی بسر ہوئی تھی۔ صفا و مروہ فقط سات بار تیز رو چلنے کے لیے ہی نہیں حضرت حاجرہؑ کی اپنے بیٹے حضرت اسماعیل کے لیے تڑپ کی داستان بھی یہیں رقم ہے۔ زم زم عزم و سچائی سے کی گئی کوشش کی کہانی بھی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں بیت اللہ کی عظمت و شرف اور جلال پر اپنے احساس کو قلم بند کروں مجھے دنیا کے بڑے انقلابی سرکار محمدؐ کے گھرانے کو اختصار کے ساتھ بیان کرنا ہے۔ عبد المطلِب بن ہاشم بن عبد المناف قریش کے باوقار اور زعیم قبیلے کے سردار تھے جو اس وقت کے یثرب موجودہ مدینے میں پیدا ہوئے اور پھر مکہ چلے آئے۔ ابرہہ کے ہاتھیوں کو کھائے ہوئے بھوسے کی مانند کر دینے والے ابابیل اپنی چونچوں میں ایٹمی کنکر لے کر جب بھیجے گئے تھے تو تب قبیلے کی سرداری جناب عبدالمطلب کے پاس تھی۔ مکہ پر جناب عبدالمطلب کے جد امجد قصیٰ بن کلاب سے قبل جرہم قبیلہ اس شہر کے فرمانروا تھے۔ اس قبیلے کے مظالم کی وجہ سے دوسرے قبائل نے ان کے خلاف بغاوت کر دی۔ بالآخر قبیل خراعہ اور بنو جرہم کے درمیان جنگ میں بنی جرہم کو شکست ہوئی۔
بنی جرہم کے آخری حکمران ’’عمر بن حارث‘‘ کعبہ کے اموال کے تحفظ کی غرض سے کعبہ میں داخل ہوا اور کعبہ کے لیے لائے گئے جواہرات اور عمدہ تحائف کو زم زم کے کنویں میں پھینکا اور کنویں کو مٹی سے بھر کر جواہرات اور تحائف کو چھپا دیا۔ برسوں بعد عبدالمطلب نے اس کنویں کو تلاش کرنا چاہا۔ مروی ہے کہ انہوں نے خواب میں کنویں کا مقام تلاش کر لیا اور اسے دوبارہ کھود لیا اور ملنے والے جواہرات کعبہ کی نگہداشت پر خرچ کیے۔ اللہ تعالیٰ نے مکہ میں چاہ زم زم سے اور طائف میں ذوالہرم سے جناب عبدالمطلب کو سیراب کر دیا تھا۔ قریش اپنے اموال میں ان سے فیصلے کراتے تھے، اور وہ ہر بار قحط کے ایام میں لوگوں کو کھانا کھلاتے تھے حتیٰ کہ وہ پرندوں اور پہاڑوں کے درندوں کو بھی کھانا دیتے تھے۔ میرے رسول برحق محمدﷺ کسی غریب و مفلس و محتاج زمانہ قبیلے میں نہیں بھیجے گئے تھے بلکہ ان کا خانوادہ اس قابل تھا کہ کائنات کا عظیم نبی اس گھرانے میں پرورش پائے۔
میں مکہ المکرمہ لائبریری کی مقدس جگہ سے اوپر اتنے آسمان کو بھی دیکھتا تھا کہ زمانے کی جدت اور نظریہ ضرورت نے زمین کے خال و خد تو بدل ڈالے ہیں مگر آسمان تو اپنی مقدس گواہی سمیت ایستادہ ہے۔ مجھے آسمان کا وہ حصہ بھی کچھ الگ سا لگا جو سرکار محمدﷺ کی جائے ولادت کی مقدس چھت ہے۔ دانش علی نے میرا بازو پکڑ کر جھنجھوڑا کہ چلیں طواف کر لیں صبح ہونے کو ہے۔ میں نے مسجد الحرام کے گراؤنڈ فلور والے داخلی گیٹ سے جھانکا تو سامنے الہامی جاہ و جلال سے مزین وہ عمارت تھی جس کی برتری و عظمت نے ہماری نگاہوں کو ساکت اور دل کی دھڑکن کو بے ترتیب کر دیا۔ ہم اپنے ہی بدن کو چھو کر خواب اور حقیقت کی تفریق کرنے لگے۔ معاذ شاہد کے لیے اظہار تشکر ہوا کہ آسانی سے یہاں تک پہنچے۔ اس شہر بارے صدیوں پہلے کی گئی دعا مستجاب ہوئی جس کی شہادت کتاب لاریب نے دی۔ ترجمہ: ’’اور وہ وقت جب ابراہیم علیہ السلام نے کہا، اے میرے پروردگار اس کو امن والا شہر بنا اور اس میں رہنے والوں کو پھلوں سے روزی عطا کر، انہیں کہ جو ان میں سے اللہ اور آخرت پر بھی ایمان لائیں ارشاد ہوا کہ اور جو کفر اختیار کرے گا میں اسے بھی کچھ دن تو مزے اٹھا لینے دوں گا۔ پھر اسے بہ جبردوزخ کے عذاب کی طرف لے جاؤں گا اور وہ کیا بُرا ٹھکانا ہے‘‘۔
مکہ المکرمہ میں تین راتیں
09:20 AM, 4 Nov, 2025