طالبان رجیم تبدیلی !

09:20 AM, 4 Nov, 2025

افغانستان کی سیاست ہمیشہ سے غیر متوقع اور ہنگامہ خیز رہی ہے۔ کبھی سوویت افواج کی مداخلت، کبھی امریکی یلغار اور کبھی خانہ جنگی نے اس ملک کو عدم استحکام سے دوچار کئے رکھا۔ اگست 2021 میں طالبان کے دوبارہ اقتدار پر قابض ہونے کے ساتھ افغانستان میں بظاہر اشرف غنی حکومت کا خاتمہ ہوا لیکن حقیقت میں ایک نئی سیاسی کشمکش کی شروعات ہوئی۔ اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ اگست 2021 میں اشرف غنی کی حکومت گرانے والے افغان طالبان طویل عرصے تک اقتدار پر قابض رہ سکیں گے یا افغانستان ایک بار پھر اقتدار کی ہنگامہ خیز تبدیلی کے عمل سے گزرے گا؟ یہ بھی اہم ہے کہ کیا افغانستان میں رونما ہونے والی سیاسی تبدیلی جمہوری نظام کے تحت عمل میں آئے گی یا خانہ جنگی کے نتیجے میں ایک بار پھر قتل و غارتگری کے بعد؟۔
طالبان رجیم کا اس وقت افغانستان پر عسکری اور انتظامی قبضہ تو ہے لیکن ملک کی سرکاری مشینری، سرحدوں، عدالتی نظام اور محصولات پر انکی گرفت ڈھیلی پڑ رہی ہے۔ طالبان نے 2021 میں جن مخالف گروہوں کو غیر موثر یا انکے علاقوں تک محدود کر دیا تھا وہ طالبان گروپوں کے اندرونی جھگڑوں اور پاکستان کے ساتھ جنگی حالات کی وجہ سے پھر سے منظم ہو چکے ہیں۔ طالبان قیادت میں سخت اطاعت اور اختلاف برداشت نہ کرنے کا رجحان ہے۔ بین الاقوامی بے رْخی نے بھی انکی پریشانیوں میں اضافہ کیا ہے۔ مغربی ممالک کی طالبان کیلئے ناپسندیدگی اور انکی پاکستان کے ساتھ محاذ آرائی نے طالبان کی گرفت کو کمزور کر دیا ہے۔
طالبان رجیم کا سب سے بڑا مسئلہ گورننس ہے۔ عالمی پابندیوں، سرمایہ کی قلت اور بے روزگاری نے عام افغان شہری کو مایوس کر رکھا ہے۔ طالبان افغانستان میں انسانی حقوق کی بد ترین پامالی کے مرتکب ہو رہے ہیں ۔ خواتین کی تعلیم و ملازمت پر پابندیاں اور میڈیا پر قدغن نے شہری طبقے کو طالبان سے مزید بدظن کیا ہے۔ افغانستان میں قومیتی امتیاز حد سے تجاوز کر چکا ہے کیونکہ تاجک، ازبک اور ہزارہ برادریوں کو حکومتی ڈھانچے میں نمائندگی نہیں دی گئی۔ طالبان کے اندرونی اختلافات بھی شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ مختلف کمانڈروں اور قندھاری و کابلی دھڑوں میں پالیسی اختلافات کھل کر سامنے آ چکے ہیں۔ ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب ملا ہیبت اللہ کی جگہ طالبان کے سپریم کمانڈر بن کر اقتدار پر قبضہ 
کرنے کے زبردست خواہاں ہیں۔ ادھر حقانی اپنی جگہ تاڑ لگائے ہوئے ہیں۔ یہ عوامل طالبان کی 2021 والی طاقت کے تانے بانے کو تیزی سے ادھیڑ رہے ہیں۔ اگر یہ مسائل حل نہ ہوئے تو یہی کمزوریاں طالبان رجیم کی خونریز تبدیلی کی وجہ بن سکتی ہیں۔
طالبان کے مخالف گروہ زیادہ تر وہی ہیں جو ماضی میں نادرن الائنس کے نام سے جانے جاتے تھے۔ ان میں تاجک، ازبک، ہزارہ اور کچھ ناراض پشتون شامل ہیں۔ ان گروہوں نے حالیہ برسوں میں "قومی مزاحمتی محاذ" (NRF) کے نام سے نئی شکل اختیار کی ہے جس کی قیادت احمد شاہ مسعود کے بیٹے احمد مسعود کر رہے ہیں۔ احمد مسعود مغرب سے تعلیم یافتہ اور روشن خیال ہیں۔ ملکی حالات کو بھانپتے ہوئے گزشتہ 6 ماہ کے دوران انہوں نے اپنی عسکری قوت اور وسائل میں قابل لحاظ اضافہ کیا ہے۔ تعلیم اور جدت مخالف دقیانوس طالبان کی نسبت مغربی تعلیم یافتہ روشن خیال احمد مسعود افغانوں کی ممکنہ چوائس ہو سکتے ہیں۔ پنج شیر اور بدخشاں میں ان کی موجودگی طالبان کیلئے بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ انکے پاس 30 ہزار کا مسلح لشکر موجود ہے۔ ازبک کمانڈر عبدالرشید دوستم بھی طالبان رجیم کو گرانے کیلئے 25 ہزار جنگجوؤں کا مسلح لشکر تیار کر چکے ہیں۔ احمد مسعود اور دوستم اتحاد طالبان کی کابل سے روانگی کا باعث بن سکتا ہے۔ ان کے علاوہ بعض سابق جنگجو لیڈر اور قبائلی سردار بھی طالبان سے شدید ناراض ہیں کیونکہ انہیں چار سالہ طالبان رجیم میں کوئی حصہ نہیں ملا۔ اس وقت افغانستان کے متحارب گروہوں کے پاس 10 ارب ڈالر کا اسلحہ موجود ہے جو ایک دوسرے کو تباہ کرنے کیلئے کافی ہے۔ 
دیکھنا یہ ہوگا کہ پاکستان اگر افغان طالبان سے تنگ آ کر شمالی اتحاد کا ساتھ دے دے تو کیا اسکا افغانستان اور پاکستان کو کوئی فائدہ ہوگا؟ یہ ایک نہایت حساس سوال ہے۔ ماضی میں پاکستان نے طالبان کی حمایت کر کے اپنی حکمتِ عملی کو "سٹرٹیجک ڈیپتھ" کے نظریے سے جوڑا تھا۔ مگر آج حالات مختلف ہیں۔ اگر پاکستان اس بار طالبان کے مخالف گروہوں مثلاً شمالی اتحاد یا قومی مزاحمتی محاذ کا ساتھ دیتا ہے تو اس کے نتائج انتہائی حیران کن بھی ہو سکتے ہیں۔ یہ بعید از قیاس نہیں۔  ایسے میں طالبان پاکستان کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں تیز کر سکتے ہیں۔ جس سے سرحدی استحکام مکمل طور پر بگڑ سکتا ہے اور عالمی برادری پاکستان کو مداخلت کار کے طور پر دیکھ سکتی ہے۔ لہٰذا پاکستان کے لیے بہتر راستہ یہی ہے کہ وہ براہِ راست مداخلت کے بجائے سیاسی مصالحت اور علاقائی سفارتکاری کے ذریعے اپنا کردار ادا کرے لیکن طالبان کو بے دخل کرنے کیلئے احمد مسعود, دوستم اور گلبدین حکمتیار سے رابطے رکھے۔ 
گلبدین حکمت یار کا ممکنہ کردار اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے۔ گلبدین افغان سیاست کا وہ کردار ہیں جو ہمیشہ اپنی سمت بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ماضی میں وہ مجاہدین کے نمایاں لیڈر اور بعد ازاں کابل حکومت کے اتحادی بنے۔ آج وہ بظاہر طالبان سے قریب ہیں مگر ان کی سیاسی سوچ اکثر خودمختار رہتی ہے۔ ان کے پاس ایک محدود مگر منظم جماعت "حزبِ اسلامی" موجود ہے جو مشرقی افغانستان کے چند علاقوں میں اثر رکھتی ہے۔ حکمتیار مستقبل میں ثالث، مصالحت کار حتیٰ کہ عبوری قیادت کے کردار میں بھی سامنے آ سکتے ہیں بشرطیکہ سیاسی منظرنامہ تبدیل ہو۔ افغانستان کا سماجی ڈھانچہ ہمیشہ نسلی بنیادوں پر منقسم رہا ہے۔ تاجک اور ازبک گروہ شمالی افغانستان میں گہری جڑیں رکھتے ہیں۔ پنجشیری مزاحمت کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ ہزارہ برادری سیاسی طور پر مظلوم مگر منظم طبقہ ہے۔ اگر یہ گروہ باہمی اتحاد اور بیرونی حمایت حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو طالبان کیلئے مشکلات بڑھ جائیں گی۔ تاہم تاریخ بتاتی ہے کہ ان گروہوں کی باہمی رقابت اکثر ان کی قوت کو کمزور کر دیتی ہے۔
پاکستان کے لئے یہ بات اہمیت کی حامل ہے کہ وہ بھارت کے افغانستان میں اثرات کو کیسے محدود کرے؟ بھارت گزشتہ دو دہائیوں سے افغانستان میں سفارتی اور ترقیاتی بنیادوں پر اثر و رسوخ قائم کر چکا ہے۔ پاکستان کیلئے مکمل طور پر بھارتی اثرات ختم کرنا ممکن نہیں۔ پاکستان کیلئے درست حکمتِ عملی یہ ہوگی کہ وہ تعاون، تجارت اور انسانی امداد کے ذریعے افغان عوام کے دل جیتے۔ پاکستان افغانستان کے ساتھ اپنی سرحدوں کی نگرانی بڑھائے، تجارتی راستوں کی سخت مانیٹرنگ کرے تو بھارت کا اثر خودبخود کم ہوتا جائے گا۔ سفارتکاری اور معیشت وہ دو ہتھیار ہیں جن سے پاکستان افغانستان میں اپنا طاقتور توازن برقرار رکھ سکتا ہے۔
افغانستان میں رجیم کی تبدیلی کا امکان نا ممکن نہیں۔ طالبان کے اندرونی اختلافات، معاشی بحران اور سیاسی جمود انہیں اسی انجام کی طرف لے جا رہے ہیں۔ خطے کے امن کا انحصار اس بات پر ہے کہ طالبان اپنے اقتدار کو شراکتِ اقتدار میں تبدیل کریں اور غلطیوں کو نہ دہرائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان، وسطی ایشیا اور پورے خطے کے لیے پائیدار امن کی ضمانت بن سکتا ہے۔

مزیدخبریں