حال ہی میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے ایک بار پھر خطے کے امن و استحکام پر سوال اٹھا دیئے۔ پاکستان کا موقف دو ٹوک ہے اور اصولی ہے ۔ وہ یہ کہ افغان طالبان اپنے دہشت گردوں کو پاکستان میں کارروائیوں سے روکیں ورنہ پاکستان خود ایکشن لے گا لیکن بھارت کے ہاتھوں میں پلنے والی افغان حکومت نے بھی احسان فراموشی کی انتہا کر دی ہے ۔ سازشی تھیوری میں بھارت کا آلہ کار بنی افغان حکومت ایک بار پھر جارحیت پر اتر کر نا مناسب بیان دے چکی ہے جس پر پاکستان کے وزیر دفاع کا دو ٹوک موقف سامنے آگیا ہے ۔ وزیر دفاع خواجہ آصف کے حالیہ بیان نے اس معاملے کو ایک نیا رخ دیا ہے ۔ انہوں نے واضح طور پر کہا کہ کابل پر قابض حکومت کسی عوامی مینڈیٹ یا اعتماد کی پیداوار نہیں بلکہ بندوقوں کے زور پر قائم ہونے والی ایک آمریت ہے۔ ان کے بقول، وہاں خوف، جبر اور خاموشی کو نظام کا حصہ بنا دیا گیا ہے اور خواتین، اقلیتوں اور بچوں کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھا جا رہا ہے۔یہ بیان نہ صرف پاکستان کے مؤقف کی تائید کرتا ہے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس حقیقت کی طرف توجہ دلاتا ہے جس پر دنیا برسوں سے خاموش تھی۔ افغان نیشنل ریزسٹنس فرنٹ (NRF) کی جانب سے اس بیان کا خیرمقدم دراصل سچ کے اعتراف کے مترادف ہے۔ افغانستان میں طالبان حکومت کے خلاف مزاحمت کرنے والی یہ قوتیں اب کھل کر یہ کہہ رہی ہیں کہ پاکستان نے وہ بات کہہ دی جو دنیا کہنے سے گریزاں تھی۔افغان طالبان کی حکومت اپنے ہی ملک میں سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہے ۔ یہ ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں کوئی بھی محفوظ نہیں ۔ میڈیا آزاد نہیں یہاں تک کے افغان شہریوں کی آئندہ نسلیں بھی شدید دبائو کا شکار ہیں اور بدترین حالات سے گزر رہی ہیں ۔ یہ دنیاکا واحد ملک بن چکا ہے جہاں خواتین کی تعلیم پر ہی پابندی ہے ۔ اس طرح یہ ملک اپنے ملک کی پچاس فیصد آبادی کی حق تلفی کر رہا ہے ۔ ایسے حالات میں یہ واضح ہو چکا ہے کہ پاکستان کے وزیر دفاع کا بیان پوری دنیا کی آنکھیں کھولنے کے لئے کافی ہے ۔ یہ کہہ سکتے ہیں کہ خواجہ آصف نے افغانستان میں مثبت سوچ رکھنے والے طبقے کے لئے آواز اٹھا دی ہے ۔ گزشتہ چند ہفتوں میں پاکستان نے مسلسل یہ مؤقف اختیار کیا کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کی جا رہی ہے اور کابل انتظامیہ دہشت گرد تنظیموں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی یہ جنگ اس وقت عملی تصادم میں تبدیل ہو گئی جب سرحدی علاقوں میں حملوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ صورتحال اس حد تک خراب ہوئی کہ پاکستان کو سخت فیصلے کرنا پڑے ۔قطر مذاکرات میں پاکستان کی نمائندگی وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کی جبکہ افغان وفد کی قیادت امیر خان متقی نے کی۔ قطر اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والی ان بات چیت کا سب سے بڑا نتیجہ ایک فوری جنگ بندی کے اعلان کی صورت میں سامنے آیا۔ دونوں ممالک نے یہ فیصلہ کیا کہ آئندہ ملاقات استنبول میں ہو گی جہاں اس معاہدے کے نفاذ اور نگرانی کے طریقہ کار پر مزید تفصیلی بات ہو گی۔یہ جنگ بندی بلاشبہ پاکستان کی ایک بڑی سفارتی جیت ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب عالمی برادری افغان مسئلے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ پاکستان نے نہ صرف اپنی سکیورٹی خدشات کو کھل کر بیان کیا بلکہ انہیں عالمی سطح پر تسلیم بھی کرایا۔ پاکستان کی اس سفارتی کامیابی کے کئی پہلو ہیں۔ ایک جانب اس نے اپنی سلامتی کے خدشات کو تسلیم کرایا، دوسری طرف یہ پیغام بھی دیا کہ وہ جنگ نہیں بلکہ مذاکرات کے ذریعے امن کا خواہاں ہے۔ قطر اور ترکی جیسے ممالک کی ثالثی نے پاکستان کو بین الاقوامی محاذ پر ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کیا ہے۔ ماضی میں پاکستان پر یہ الزام عائد کیا جاتا رہا ہے کہ وہ افغانستان میں عسکریت پسندی کے ذریعے اثر و رسوخ چاہتا ہے، مگر موجودہ صورتحال نے اس تاثر کو ختم کر دیا ہے ۔قطر مذاکرات اور استنبول میں طے پانے والے آئندہ اجلاس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں ایک نیا توازن پیدا کیا ہے۔ وہ اب صرف دفاعی بیانیے پر انحصار نہیں کر رہا بلکہ سفارت کاری، گفت و شنید اور بین الاقوامی حمایت کے ذریعے اپنے قومی مفادات کا تحفظ چاہتا ہے۔ مگر یہ کہنا قبل از وقت ہو گا کہ مسئلہ مکمل طور پر حل ہو گیا ہے۔ افغان حکومت نے ماضی میں بھی کئی وعدے کیے مگر ان پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ اگر کابل حکومت نے اپنے طرزِ عمل میں تبدیلی نہ لائی تو یہ جنگ بندی محض وقتی ثابت ہو گی۔ افغانستان کے عوام گزشتہ چار دہائیوں سے مسلسل جنگ اور عدم استحکام کا شکار ہیں۔ وہ امن، تعلیم اور روزگار کے خواہاں ہیں مگر موجودہ طالبان حکومت نے ان کی امیدوں پر پانی پھیر دیا ہے۔ ایسے میں پاکستان کا یہ مؤقف کہ افغانستان میں امن اس وقت تک ممکن نہیں جب تک وہاں عوامی نمائندگی، عدل اور شمولیت کی بنیاد پر حکومت قائم نہیں ہوتی، بالکل درست ہے۔۔۔ آخرکار بات وہی ہے جو خواجہ آصف نے کہی کہ امن، انصاف اور شمولیت کے بغیر کوئی نظام دیرپا نہیں ہو سکتا۔ پاکستان نے سچ بول کر ایک اخلاقی اور سفارتی فتح حاصل کی ہے، اب ضرورت اس بات کی ہے کہ افغان حکومت بھی ہوش کے ناخن لے اور اپنے ملک میں موجود دہشت گردوں کو ختم کرے اور پاکستان کے خلاف ہتھیار نہ اٹھانے پر مجبور کرے نیز یہ کہ افغان طالبان کی حکومت خود بھی پاکستان مخالف سرگرمیوں کا سوچے بھی مت ورنہ اس کی بھاری قیمت چکا نا پڑے گی۔
پاکستان کے مؤقف کی جیت …!
09:19 AM, 4 Nov, 2025