1963 کی چین۔ بھارت جنگ کے بعد بھارت نے اس شکست کو اپنی کمزوری نہیں بلکہ سفارتی موقع میں بدل دیا۔ اس نے امریکہ اور مغربی دنیا میں چین کا خوف بیچ کر عالمی ہمدردیاں سمیٹیں اور امریکہ و روس سے بھاری عسکری مدد حاصل کی۔ تاریخ گواہ ہے کہ بھارت نے اس طاقت کو چین کے خلاف نہیں، بلکہ 1965 میں پاکستان پر جارحیت کے لیے استعمال کیا اور منہ کی کھائی۔ بعدازاں 1971 میں عالمی سازش اور بھارت کی خفیہ منصوبہ بندی کے نتیجے میں مشرقی پاکستان کو ہم سے جدا کر دیا گیا۔ اس دور میں بھارت نے بارہا چین کے خطرے کا بہانہ بنا کر مغرب سے ہتھیار لیے، لیکن ان کا رخ ہمیشہ پاکستان کی طرف موڑا۔ آج بھی تاریخ خود کو دہرا رہی ہے۔ بھارت نے ایک بار پھر امریکہ کو چین کا خوف دکھا کر دس سالہ دفاعی معاہدہ کیا ہے۔ ایسے میں وطنِ عزیز کی عسکری اور سیاسی قیادت اور چین کو ہوشیار باش رہنے کی ضرورت ہے، کیونکہ بھارت کی نیت ماضی کی طرح آج بھی مشکوک ہے۔ امریکہ کی دوستی ہمیشہ وقتی مفادات تک محدود رہی ہے، اور اکثر اس کی شراکت داری اس کے اتحادیوں کے لیے مہنگی ثابت ہوئی ہے۔ یہی خدشات آج پھر جنم لے رہے ہیں۔
دنیا ایک نئے جغرافیائی اور تزویراتی دور میں داخل ہو چکی ہے، جہاں طاقت کے مراکز مغرب سے مشرق کی طرف منتقل ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں امریکہ اور بھارت کا حالیہ دفاعی معاہدہ نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ پورے انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے توازن کو نئی سمت دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس معاہدے کے اثرات صرف دفاع تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی معیشت، سفارت کاری اور سلامتی پر بھی دور رس اثر ڈالیں گے۔ امریکہ طویل عرصے سے چین کے بڑھتے ہوئے اثر کو محدود کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ چین نے گزشتہ دو دہائیوں میں عالمی تجارت، ٹیکنالوجی، خلائی صلاحیت اور مصنوعی ذہانت کے میدان میں حیران کن ترقی کی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ واشنگٹن اب بھارت کو اپنی ایشیائی حکمتِ عملی کا اہم ستون سمجھتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے بھارت چین کا قریبی حریف ہے اور مغربی بیانیے میں اسے جمہوری توازن کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔ امریکہ کے لیے بھارت ایک ایسا شراکت دار ہے جو انڈو پیسیفک میں چین کے اثر کو محدود کر سکتا ہے، جبکہ بھارت کے لیے یہ تعلق جدید اسلحے، سرمایہ کاری اور عالمی طاقت بننے کی راہ ہے۔
معاہدے کے مطابق امریکہ بھارت کو جدید ڈرون سسٹم، میزائل ڈیفنس ٹیکنالوجی، اور مصنوعی ذہانت پر مبنی جنگی آلات فراہم کرے گا۔ دفاعی پیداوار بھارت میں ہو گی تاکہ میک ان انڈیا پروگرام کو فروغ ملے۔ انٹیلی جنس شیئرنگ اور لاجسٹک تعاون کے ذریعے دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے فوجی اڈوں، بندرگاہوں اور سیٹلائٹ نیٹ ورک سے استفادہ کر سکیں گے۔ یہ سب اس امر کا ثبوت ہے کہ امریکہ بھارت کو محض اسلحے کا خریدار نہیں بلکہ خطے میں اپنے سٹریٹجک نگہبان کے طور پر تیار کر رہا ہے۔ چین اس پیش رفت کو محض دفاعی شراکت نہیں بلکہ ایک چیلنج سمجھتا ہے۔ اسے خدشہ ہے کہ امریکہ بھارت کے ذریعے بحرِ ہند اور جنوبی چین کے سمندری راستوں میں اپنی برتری قائم کرنے کی کوشش کرے گا، جو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ممکن ہے بیجنگ اس کے ردعمل میں روس کے ساتھ اپنے عسکری تعلقات مزید مضبوط کرے اور پاکستان کے ساتھ دفاعی اشتراک کو وسعت دے تاکہ خطے میں طاقت کا توازن برقرار رہے۔ ماضی میں اسلام آباد واشنگٹن کا قریبی اتحادی رہا ہے، لیکن اب امریکہ کھل کر بھارت کو اپنا اہم شراکت دار قرار دے رہا ہے۔ بھارت کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت اور جدید امریکی ٹیکنالوجی تک اس کی رسائی پاکستان کے لیے یقینی طور پر ایک چیلنج ہے۔ تاہم، اس کے باوجود پاکستان کے پاس اپنی پوزیشن مستحکم رکھنے کے کئی مواقع موجود ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم چین کے ساتھ اپنے تعلقات کو مزید بہتر کریں، دفاعی خودکفالت میں پیش رفت کریں اور علاقائی تعاون کے پلیٹ فارمز میں فعال کردار ادا کریں۔
یہ بھی حقیقت ہے کہ موجودہ عالمی منظرنامہ پاکستان کے لیے خطرات کے ساتھ مواقع بھی لایا ہے۔ اگر اسلام آباد توازن پر مبنی خارجہ پالیسی اپنائے، اپنی معیشت کو مستحکم کرے اور داخلی استحکام پر توجہ دے تو وہ اس نئے دور میں ایک مؤثر اور قابلِ احترام کردار ادا کر سکتا ہے۔ پاکستان کی کامیابی اسی وقت ممکن ہے جب وہ کسی ایک بلاک کا حصہ بننے کے بجائے تعاون، مفاہمت اور قومی مفاد کی بنیاد پر تعلقات استوار کرے۔ امریکہ اور بھارت کا یہ دفاعی اتحاد محض ایشیا تک محدود نہیں رہے گا۔ اس کے اثرات عالمی سیاست میں بھی محسوس ہوں گے۔ روس، چین، ایران اور شمالی کوریا جیسے ممالک اسے مغرب کے اثر کے پھیلاؤ کے طور پر دیکھ رہے ہیں، جبکہ یورپ اسے انڈو پیسیفک میں امریکی اثر کو مضبوط بنانے کی کوشش قرار دے رہا ہے۔ اس معاہدے کے بعد دنیا ایک بار پھر دو بڑے بلاک میں تقسیم ہوتی جا رہی ہے ایک امریکی قیادت میں اور دوسرا چینی محور کے تحت۔ اس تقسیم کا اثر عالمی معیشت، تجارتی راستوں اور سلامتی کے نظاموں پر پڑے گا۔ پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہی ہے کہ وہ امریکہ اور چین کے درمیان جاری کشمکش میں توازن قائم رکھے۔ چین کے ساتھ سی پیک منصوبہ پاکستان کی ترقی کی بنیاد ہے، لیکن امریکہ کے ساتھ تعلقات کو بھی مکمل طور پر ترک کرنا دانشمندی نہیں ہو گی۔ واشنگٹن اب بھی پاکستان کی برآمدات، تعلیم اور سفارت کاری میں کلیدی کردار رکھتا ہے۔ پاکستان کو چاہیے کہ وہ چین کے ساتھ معاشی تعاون جاری رکھے، مگر امریکہ سے بھی تعمیری تعلقات قائم رکھے۔ یہی متوازن خارجہ پالیسی پاکستان کے مفاد میں ہے۔
دنیا ایک نئے دور میں داخل ہو چکی ہے جہاں جنگیں ہتھیاروں سے نہیں بلکہ معیشت، ٹیکنالوجی اور اثر و رسوخ سے لڑی جا رہی ہیں۔ امریکہ بھارت دفاعی معاہدہ اگر تعاون، ترقی اور استحکام کا ذریعہ بنے تو ایشیا کے لیے نیا دور ثابت ہو سکتا ہے۔ لیکن اگر یہ اتحاد طاقت کے مظاہرے اور عسکری دباؤ کا ذریعہ بنا تو دنیا ایک نئے سرد جنگی عہد میں داخل ہو جائے گی۔ ایسے میں پاکستان اور چین دونوں کو ہوشیار رہنا ہو گا، کیونکہ بھارت کا ماضی گواہ ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے کندھوں پر سوار ہو کر خطے میں اپنی بالادستی کے خواب دیکھتا ہے۔ تاریخ ہمیں یہی سبق دیتی ہے کہ امریکہ کی دوستی اکثر وقتی مفادات تک محدود رہتی ہے۔ جس قوم نے اسے بلا سوچے سمجھے اپنا سہارا بنایا، وہ زیادہ دیر محفوظ نہ رہ سکی۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری، معاشی خودانحصاری اور دفاعی خودکفالت کو اولین ترجیح دے۔ وقت کا لمحہ بتا رہا ہے بھارت ایک بار پھر عالمی حمایت کے زعم میں خود کو طاقتور سمجھ رہا ہے، مگر حقیقت یہ ہے کہ طاقت کا اصل محور ہمیشہ توازن، حکمت، اور تدبر میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ پاکستان اور چین کو یہی توازن برقرار رکھتے ہوئے اپنی راہیں متعین کرنا ہوں گی، کیونکہ بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے میں صرف ہوشیار رہنے والی قومیں ہی محفوظ اور مضبوط رہتی ہیں۔
امریکہ بھارت معاہدہ! پاک چین ہوشیار باش
09:19 AM, 4 Nov, 2025