عالمی سیاست اور معیشت کے افق پر گزشتہ کئی ہفتوں سے چھائے ہوئے سیاہ بادل بالآخر چھٹنا شروع ہو گئے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور محصور بحری جہازوں کو محفوظ راستہ فراہم کرنے کا حالیہ اعلان محض ایک سفارتی بیان نہیں بلکہ دم توڑتی عالمی معیشت کے لیے ایک نئی زندگی کی نوید ثابت ہوا ہے۔ اس فیصلے کے ساتھ ہی جہاں عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں یکدم گراوٹ دیکھی گئی، وہاں کروڑوں انسانوں نے سکھ کا سانس لیا ہے جو توانائی کے بحران اور مہنگائی کے طوفان سے سہمے ہوئے تھے۔
آبنائے ہرمز محض ایک آبی گزرگاہ نہیں بلکہ یہ عالمی معیشت کی وہ شہ رگ ہے جس کے سکڑنے سے پوری دنیا کا نظام تنفس متاثر ہوتا ہے۔ جغرافیائی لحاظ سے یہ محض 21 میل چوڑی ایک پٹی ہے، لیکن اس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے خام تیل کا تقریباً ایک تہائی حصہ اسی راستے سے گزر کر اپنی منزل تک پہنچتا ہے۔ گزشتہ دنوں جب اس راستے پر کشیدگی کے سائے گہرے ہوئے اور جہاز رانی معطل ہوئی، تو عالمی منڈی میں برینٹ کروڈ کی قیمتیں 126 ڈالر فی بیرل کی خطرناک حد کو چھونے لگیں۔ ماہرین معاشیات نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر یہ راستہ مزید چند ہفتے بند رہا تو دنیا ایک ایسی کساد بازاری کا شکار ہو جائے گی جس کی مثال 1930 کی دہائی کے عظیم معاشی بحران کے بعد نہیں ملتی۔ ایسے میں امریکی صدر کا پیر کی صبح سے بحری ٹریفک کی بحالی کا اعلان ایک تملک آمیز فیصلہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس فیصلے کے اثرات اتنے فوری تھے کہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں دیکھتے ہی دیکھتے 10 فیصد تک گر گئیں۔ برینٹ کروڈ جو سیکڑوں ڈالر کی طرف بڑھ رہا تھا، اب 88 ڈالر کی سطح پر آ گیا ہے۔ یہ کمی صرف اعداد و شمار تک محدود نہیں، بلکہ اس کا براہِ راست اثر ٹرانسپورٹیشن، بجلی کی پیداوار اور روزمرہ کی اشیا کی قیمتوں پر پڑے گا۔ ترقی پذیر ممالک، جن کے بجٹ کا بڑا حصہ تیل کی درآمد پر خرچ ہوتا ہے، ان کے لیے یہ خبر کسی بڑی خوشخبری سے کم نہیں۔ خاص طور پر جنوبی ایشیا اور افریقی ممالک میں، جہاں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں معمولی اضافہ بھی زندگی کو مفلوج کر دیتا ہے، وہاں مہنگائی کی چکی میں پستی عوام کے لیے یہ معاشی ریلیف کی ایک مضبوط بنیاد ثابت ہو سکتی ہے۔
تاہم، اس روشن تصویر کے پیچھے کچھ سائے اب بھی موجود ہیں۔ عالمی لیڈرز، جن میں اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور یورپی ممالک کے سربراہان شامل ہیں، اگرچہ اس فیصلے کا خیر مقدم کر رہے ہیں، لیکن ان کا لہجہ اب بھی محتاط ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حالات اب بھی ”نازک“ ہیں۔ اس احتیاط کی سب سے بڑی وجہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان موجود گہرا عدم اعتماد ہے۔ ایران نے اس اعلان کے فوراً بعد امریکہ کو تنبیہ کی ہے کہ وہ اس آبی گزرگاہ کے انتظام میں مداخلت سے گریز کرے۔ ایران کا موقف واضح ہے کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی خطے کے ممالک کی ذمہ داری ہے اور کسی بھی غیر علاقائی قوت کی موجودگی اشتعال انگیزی تصور کی جائے گی۔ ایران کے پاس ”اینٹی شپ میزائل“ اور ڈرون ٹیکنالوجی کا وہ جال موجود ہے جو کسی بھی وقت اس راستے کو دوبارہ بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسی لیے عالمی برادری اسے مکمل امن نہیں بلکہ ”مسلح خاموشی“ قرار دے رہی ہے۔
تاریخی پس منظر پر نظر ڈالیں تو آبنائے ہرمز ہمیشہ سے عالمی طاقتوں کے درمیان رسہ کشی کا مرکز رہا ہے۔ 1980 کی دہائی کی ”ٹینکر وار“ سے لے کر حالیہ برسوں کے ڈرون حملوں تک، یہ خطہ بارود کے ڈھیر پر بیٹھا رہا ہے۔ چین، جو کہ خلیجی تیل کا سب سے بڑا خریدار ہے، اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ بیجنگ کی جانب سے بھی محتاط ردعمل سامنے آیا ہے جہاں انہوں نے تجارت کی بلا تعطل فراہمی پر زور دیا ہے، لیکن ساتھ ہی امریکی بالادستی کے خلاف ایرانی خدشات کو بھی مکمل نظرانداز نہیں کیا۔ دوسری جانب روس نے بھی اسے عالمی منڈی کے لیے اچھا شگون قرار دیا ہے لیکن ساتھ ہی متنبہ کیا ہے کہ یکطرفہ امریکی فیصلے خطے میں نئی پیچیدگیاں پیدا کر سکتے ہیں۔
اس وقت دنیا ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں ایک طرف معاشی بحالی کی امید ہے اور دوسری طرف جغرافیائی سیاست کی تلخیاں۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ صدر ٹرمپ کا یہ اقدام ان کی داخلی سیاست کے لیے بھی اہم ہو سکتا ہے، جہاں پیٹرول کی قیمتیں براہِ راست ووٹرز کے مزاج پر اثر انداز ہوتی ہیں۔ لیکن عالمی سطح پر اس کا اثر اس وقت تک مستقل نہیں ہو سکتا جب تک کہ کوئی پائیدار سفارتی حل تلاش نہیں کر لیا جاتا۔ شپنگ کمپنیاں اب بھی سمندر میں بچھائی گئی بارودی سرنگوں (Mines) اور ممکنہ چھاپہ مار حملوں کے خطرے کے پیشِ نظر اپنے قیمتی جہاز بھیجنے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہیں۔ جب تک ان کمپنیوں کو انشورنس اداروں اور سکیورٹی ایجنسیوں سے مکمل ”گرین سگنل“ نہیں مل جاتا، سپلائی چین کی مکمل بحالی ایک سست رفتار عمل رہے گی۔
لاجسٹک کے نقطہ نظر سے دیکھیں تو سیکڑوں بحری جہاز اس وقت سمندر میں قطار لگائے کھڑے ہیں۔ ان جہازوں میں نہ صرف خام تیل بلکہ مائع قدرتی گیس (LNG) اور دیگر اشیائے خورو نوش بھی موجود ہیں۔ ان کی منزل تک رسائی میں تاخیر عالمی سپلائی چین کو پہلے ہی اربوں ڈالر کا نقصان پہنچا چکی ہے۔ ٹرمپ کے اعلان کے بعد اب ان جہازوں کے کپتانوں کو نئے احکامات کا انتظار ہے، لیکن سمندری حدود کی پیچیدگی اور ایرانی بحریہ کی موجودگی اب بھی ایک بڑا نفسیاتی دباو¿ ہے۔ اگر پیر کی صبح بحری جہازوں کی نقل و حمل بغیر کسی ناخوشگوار واقعے کے شروع ہو جاتی ہے، تو یہ عالمی ڈپلومیسی کی بڑی جیت ہو گی۔ اس سے نہ صرف تیل کی قیمتیں مزید مستحکم ہوں گی بلکہ سٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کا اعتماد بھی بحال ہو گا جو گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل گراوٹ کا شکار تھے۔
مستقبل کے منظرنامے میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا یہ ریلیف مستقل ہو گا؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان کوئی باقاعدہ معاہدہ یا ”ہاٹ لائن“ قائم نہیں ہوتی، اس طرح کے بحران بار بار جنم لیتے رہیں گے۔ دنیا اب اس بات کو سمجھ چکی ہے کہ صرف فوجی طاقت سے سپلائی لائنز کو محفوظ نہیں رکھا جا سکتا، بلکہ اس کے لیے علاقائی تعاون ناگزیر ہے۔ خلیجی ممالک، جو اپنی معیشت کا سارا دارو مدار اسی راستے پر رکھتے ہیں، وہ بھی خاموشی سے پسِ پردہ دونوں طاقتوں کو مذاکرات کی میز پر لانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
مجموعی طور پر، آبنائے ہرمز کا کھلنا ایک مثبت پیش رفت ہے جس نے عالمی معیشت کو ایک گہری کھائی میں گرنے سے بال بال بچا لیا ہے۔ اس سے نہ صرف صنعتی ممالک بلکہ عام آدمی کو بھی براہِ راست فائدہ پہنچے گا۔ اب یہ عالمی برادری اور خاص طور پر سلامتی کونسل کے مستقل ارکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس موقع کو ضائع نہ ہونے دیں اور صرف عارضی معاشی مفادات کے بجائے خطے میں مستقل امن کے لیے ایک جامع فریم ورک تیار کریں۔ دنیا اب مزید کسی بحران، ناکہ بندی یا جنگ کی متحمل نہیں ہو سکتی کیونکہ آج کی دنیا میں معاشی مفادات اس قدر ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں کہ ایک جگہ لگنے والی آگ پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ انسانیت کی بقا، ترقی اور معاشی استحکام کا راستہ اب بندوق کی گولی یا بحری ناکہ بندی سے نہیں، بلکہ تجارتی جہازوں کے پُرامن اور محفوظ راستوں سے گزر کر ہی مکمل ہو گا۔
آبنائے ہرمُز کھل گئی۔۔ عالمی مارکیٹ میں نئی ہلچل
08:57 AM, 5 May, 2026