سردار میر باز خان کھیتران کی والدہ کے انتقال کی خبر محض ایک ذاتی سانحہ نہیں بلکہ پاکستان کی سیاسی فضا میں ایک اجتماعی توقف کا لمحہ بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جہاں خاندانی رشتے عوامی زندگی کے ساتھ گہرائی سے جڑے ہوتے ہیں وہاں اس نوعیت کے صدمات صرف ایک فرد یا خاندان تک محدود نہیں رہتے بلکہ وسیع سماجی اور سیاسی معنویت اختیار کر جاتے ہیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما، مرکزی مجلس عاملہ کے رکن اور سابق وفاقی وزیر کی حیثیت سے میر باز خان کھیتران ایک اہم سیاسی مقام رکھتے ہیں، اس لیے یہ دکھ ان کی ذات کے ساتھ ساتھ ان کے سیاسی حلقوں میں بھی شدت سے محسوس کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر مختلف سیاسی شخصیات کی جانب سے اظہارِ تعزیت ایک بڑے سیاسی بیانیے کو بھی اجاگر کرتا ہے، جو وفاداری، رواداری اور سیاست کے انسانی پہلو سے جڑا ہوا ہے۔ گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی جانب سے اسلام آباد میں سردار میر باز خان کھیتران کی رہائش گاہ پر جا کر تعزیت کرنا محض ایک رسمی عمل نہیں تھا بلکہ یہ دو سینئر رہنماو¿ں کے درمیان طویل المدتی تعلق اور باہمی اعتماد کی علامت تھا۔ ایسے مواقع پر سیاسی شخصیات کی موجودگی دراصل ان رشتوں کی عکاسی کرتی ہے جو وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوتے ہیں اور محض اقتدار کی سیاست سے بالاتر ہو جاتے ہیں۔آج کے دور میں جب سیاسی اتحاد اکثر وقتی مفادات کے تابع نظر آتے ہیں، سردار میر باز خان کھیتران اور سردار سلیم حیدر کے درمیان تعلق ایک مختلف مثال پیش کرتا ہے۔ یہ تعلق محض سیاسی مفاد تک محدود نہیں بلکہ نظریاتی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ دونوں رہنما پاکستان پیپلز پارٹی کے اندر ایک منفرد مقام رکھتے ہیں۔ ان کی پہچان صرف ان کی طویل سیاسی زندگی نہیں بلکہ پارٹی کے بنیادی نظریات کے ساتھ ان کی مسلسل وابستگی بھی ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی، جس کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، ہمیشہ عوامی حقوق، سماجی انصاف اور جمہوری استحکام کی داعی رہی ہے۔ اس جماعت کے سینئر رہنماو¿ں کے لیے یہ اصول محض سیاسی نعرے نہیں بلکہ عملی سیاست کی بنیاد ہیں۔ سردار میر باز خان کھیتران اور سردار سلیم حیدر بھی انہی اصولوں کے امین سمجھے جاتے ہیں، جنہوں نے اپنی سیاسی زندگی میں ان اقدار کو برقرار رکھنے کی ہمیشہ کوشش کی ہے۔ان دونوں رہنماو¿ں کی پارٹی میں مضبوط حیثیت اس اعتماد سے بھی ظاہر ہوتی ہے جو پارٹی قیادت صدر آصف علی زرداری اور چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے ان پر کیا جاتا ہے۔ یہ اعتماد محض رسمی نہیں بلکہ ان کی نظریاتی پختگی اور تنظیمی وفاداری کا اعتراف ہے۔ پاکستان کی سیاست میں جہاں وفاداریاں بدلنا ایک عام بات سمجھی جاتی ہے، وہاں اس قسم کی مستقل مزاجی ایک قیمتی اثاثہ بن جاتی ہے۔ میر باز خان کھیتران کی پاکستان پیپلز پارٹی سے نظریاتی وابستگی 42 برس پر محیط ہے۔ ان 42 سال میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ انہوں نے کسی وقتی یا مالی مفاد کی خاطر پارٹی سے اپنی نظریاتی وابستگی تبدیل کی ہو۔ ان 42 برس میں پارٹی اور پارٹی قیادت پر بارہا مشکل وقت آیا لیکن میر باز خان کھیتران کے قدم پارٹی قائدین کے ساتھ جمے رہے۔ پارٹی قائدین ذوالفقار علی بھٹو شہید، محترمہ بے نظیر بھٹو شہید، چیئرمین آصف علی زرداری اور کو۔ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے سیاسی نظریات انکی طویل نظریاتی سیاست کی بنیادی اساس ہیں۔یہ تعزیتی ملاقات ایک اور اہم پہلو کو بھی نمایاں کرتی ہے، جو عموماً سیاسی مباحث میں نظر انداز ہو جاتا ہے، اور وہ ہے ذاتی تعلقات کا ادارہ جاتی استحکام میں کردار۔ اگرچہ پالیسی سازی اور انتخابی حکمت عملیاں خبروں کا مرکز بنتی ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ سیاسی جماعتوں کا تسلسل اکثر انہی باہمی روابط پر قائم رہتا ہے۔ کھیتران اور حیدر کے درمیان تعلق اس بات کی واضح مثال ہے کہ کس طرح اعتماد اور احترام وقتی سیاسی مفادات سے بالاتر ہو کر ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔
عوامی سطح پر بھی ان دونوں رہنماو¿ں کی شبیہ خاصی مثبت سمجھی جاتی ہے۔ ایک ایسے ملک میں جہاں سیاسی قیادت پر عدم اعتماد ایک عام رجحان ہے، وہاں کھیتران اور حیدر جیسے رہنماو¿ں کو نسبتاً صاف ستھری اور اصولی سیاست کے نمائندے کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔ ان کی سادہ طرزِ زندگی، واضح مو¿قف اور نظریاتی وابستگی نے انہیں عوام میں ایک منفرد مقام دیا ہے۔”صاف سیاست“ کا تصور اگرچہ اکثر بیانات میں دہرایا جاتا ہے، اور عملی طور پر کم ہی نظر آتا ہے۔ تاہم ان رہنماو¿ں کے سیاسی سفر سے یہ تاثر ملتا ہے کہ اصولوں پر قائم رہنا نہ صرف ممکن ہے بلکہ طویل المدتی طور پر سیاسی استحکام کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے۔ ان کی موجودگی اس بات کی دلیل ہے کہ دیانت داری اور مستقل مزاجی وقت کے ساتھ ایک مضبوط سیاسی سرمایہ بن سکتی ہے۔یہ موقع پاکستان میں قیادت کے بدلتے ہوئے کردار پر غور کرنے کا بھی تقاضا کرتا ہے۔ نئی نسل کے سیاست میں آنے کے ساتھ، تجربہ کار رہنماو¿ں کی مثالیں مزید اہم ہو جاتی ہیں۔ ذاتی انکساری اور عوامی ذمہ داری کے درمیان توازن قائم رکھنا، نظریاتی وابستگی کو برقرار رکھتے ہوئے لچک دکھانا اور اخلاقی اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر سیاست کرنا وہ اوصاف ہیں جو حقیقی قیادت کو عام سیاست سے ممتاز کرتے ہیں۔
پاکستان پیپلز پارٹی کے لیے بھی یہ ایک اہم مرحلہ ہے، جہاں اسے اپنے تاریخی ورثے کو موجودہ سیاسی تقاضوں کے ساتھ ہم آہنگ کرنا ہے۔ اس تناظر میں سردار میر باز خان کھیتران اور سردار سلیم حیدر جیسے رہنما ایک استحکام بخش کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ پارٹی کے نظریاتی تشخص کے محافظ ہیں اور اس بات کو یقینی بناتے ہیں کہ قلیل مدتی سیاسی فوائد کے لیے بنیادی اصولوں کو نظر انداز نہ کیا جائے۔گورنر پنجاب سردار سلیم حیدر کی جانب سے تعزیت کا اظہار اس لیے بھی اہم ہے کہ یہ محض ہمدردی کا اظہار نہیں بلکہ پارٹی کے اندر اتحاد اور یکجہتی کی تجدید بھی ہے۔ ایسے اشارے ایک ایسے سیاسی ماحول میں مزید اہم ہو جاتے ہیں جہاں تقسیم اور اختلافات عام ہوں۔ یہ عمل اس بات کی یاد دہانی بھی ہے کہ سیاست صرف اقتدار کی جدوجہد نہیں بلکہ انسانی تعلقات اور مشترکہ اقدار کا بھی نام ہے۔
سردار میر باز خان کھیتران کی والدہ کا 107 برس کی عمر میں انتقال ایک بھرپور زندگی کے اختتام کا نشان ہے، مگر اس کے ساتھ یہ ہمیں سیاست کے انسانی پہلو کی بھی یاد دلاتا ہے۔ ذاتی دکھ اور عوامی ذمہ داری کے درمیان یہ امتزاج سیاست دانوں کی زندگی کا ایک اہم پہلو ہے، جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ سردار میر باز خان کھیتران اور سردار سلیم حیدر جیسے رہنما ایک ایسی سیاسی روایت کی نمائندگی کرتے ہیں جو اصولوں، وفاداری اور عوامی خدمتِ پر مبنی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی جب بھی سیاسی چیلنجز کا سامنا کرتی ہے، تو ایسے رہنما نہ صرف اس کے لیے قیمتی اثاثہ ثابت ہوتے ہیں بلکہ ایک ایسی سیاسی اقدار کے امین بھی بن جاتے ہیں جو اب بھی عوامی خدمت، دیانت داری اور مقصدیت پر یقین رکھتی ہیں۔
پیپلز پارٹی کی روایت اور وفاداری
08:59 AM, 5 May, 2026