گوجرانوالہ بار! نگینے لوگ

08:58 AM, 5 May, 2026

ہر ضلع میں وکلا بار ایک انتہائی اہم ادارہ ہوا کرتا ہے۔ چونکہ میں نے وکالت کی شروعات ڈسٹرکٹ بار گوجرانوالہ کے رکن کے طور پر شروع کی تھی۔ 1983ءمیں گوجرانوالہ بار میں اراکین کی تعداد ساڑھے تین سو سے زیادہ نہ تھی۔ میں نے بار کے پرانے ورکر محمد اقبال، جو آج کل لائبریرین ہے، سے رابطہ کیا، اُس نے بتایا کہ 350 تک وکلا کی تعداد تھی اور یہ بہت عرصہ رہی مگر اب تو پانچ ہزار کے قریب ہے اور اُن میں سے آٹھ سو سے قریب خواتین ہیں۔ اگر کامونکی اور نوشہرہ تحصیل کے وکلا الگ نہ ہوتے تو تعداد دس ہزار سے زائد ہوتی۔ جب میں نے بار جائن کی تھی تب ضلع حافظ آباد بھی گوجرانوالہ میں شامل تھا، یاد رہے کہ شیخوپورہ جب ضلع بنا تو یہ اس سے پہلے گوجرانوالہ کی تحصیل تھی، وزیرآباد بھی گوجرانوالہ کی تحصیل ہوتا۔ بہرحال ہماری وکالت کی شروعات میں حافظ آباد ضلع گوجرانوالہ میں ہی شامل تھا۔ ہم سے کچھ سینئر احباب جن میں گوجرانوالہ کے نامور سیاست دان، قانون دان اور بے مثل مقرر جناب محمد سلیمان کھوکھر، خورشید احمد سوڈھی، خالد جمیل، شبیر فاروقی، عثمان علی خان، نوید انور نوید، مقسط ندیم ملک اپنے عہد شباب میں تھے۔ اُن سے سینئر اور بلکہ بہت سینئر لوگ جو دراصل اپنی ذات میں ایک عہد تھے، ایک درس گاہ تھے، ایک زمانہ ان سے منسوب تھا۔ کمال درجے کے انسان، دانشور، قانون دان، روایات کے امین، جن کی خاموشی بھی علمی ہدایت کا درجہ رکھتی۔ میری مراد میرے سینئر اور استاد خواجہ جاوید، ارشد میر، چودھری غلام رسول باٹھ، مرزا نصیر بیگ صاحبان ہیں، خواجہ محمد اجمل، محمد یونس گھمن، سلمان چودھری، جاوید پال، چودھری ظفر سلیم، میاں احسان الحق ملک عبدالباسط صاحبان اور جناب شیخ محمد اسلم جو مرحوم گورنر دین محمد کے بیٹے تھے۔ چند بزرگوں جن میں سید اظہر حسین زیدی، شیخ محمد اسلم، چودھری احسان چیمہ بار میں زیادہ وقت موجود رہے۔ سید حسن جعفری ان سے سینئر تھے۔ یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے بار کی روایات کو قائم رکھا اور آگے نئے آنے والے وکلا کی تربیت کی۔ یہ لوگ قانون کا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ آج تو گوگل ہے، AI ہے، ڈیجیٹل ایپس ہیں۔ واٹس ایپ گروپ ہیں۔ آن لائن بہت کچھ ہے مگر چودھری غلام رسول باٹھ اور 
خواجہ جاوید صاحبان زیرک ضرب المثل قابل تقلید انتہا کے محنتی اور اعلیٰ کردار کی حامل شخصیات تھیں، بلکہ یونیورسٹی کا درجہ رکھتے تھے۔ قانون، اخلاقیات، طرز زندگی میں یہ لوگ قابل تقلید تھے۔ سابق صدر سپریم کورٹ بار جناب احسن بھون، چودھری غلام رسول باٹھ صاحب جبکہ موجودہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ میرے استاد خواجہ جاوید صاحب کے شاگرد تھے۔ خواجہ اجمل مرحوم بھی نیک نام اور انتہائی قابل شخصیت تھے۔ اللہ کریم سلامتی اور زندگی دے۔ چودھری محمد اسحاق اولکھ کمال درجے کے صاحب کردار قانون دان ہیں۔ دو تین ماہ پہلے ایک شادی پر ملاقات ہوئی۔ میرا دل خوشی سے بھر گیا۔ بہت دیر تک اُن کی شفقت سے بھرپور نشست میرا مقدر رہی، دوران گفتگو یادوں کے حسین دریچے کھلتے چلے گئے۔ ایسے لوگ اب کہاں!۔ اپنی ذات میں زمانہ لوگ ہیں۔ خواجہ جاوید، ارشد میر، خواجہ اجمل صاحبان کا تذکرہ رہا۔ بات ہو رہی تھی اپنی وکالت کی شروعات کی۔ تین چار سو اراکین میں ہم (یعنی میں اور میرے دوست) 80/85 کے قریب تھے جنہوں نے ینگ لائرز آرگنائزیشن بنائی جس میں ہم سے سینئر لوگ بھی شامل رہے، مجھے دو سال سے زائد اس تنظیم کا صدر رہنے کا شرف حاصل رہا۔ میں نے جنرل ضیا الحق کے خلاف چلنے والی سیاسی تحریک میں زیادہ وقت دینا شروع کر دیا اور ایم آر ڈی کا کنوینئر بن گیا لہٰذا تنظیم کو غیر سیاسی رکھنے کا تقاضا بھی تھا اور میرے ہمدم دیرینہ میاں محمد افضل ایڈووکیٹ کی خواہش اور سفارش پر جناب مقصود احمد بٹ (روزنامہ جنگ) کو صدر بنا دیا گیا۔ دراصل ینگ لائرز آرگنائزیشن میں عہدیدار دراصل دوستوں کا پیروکار ہی ہوتا تھا۔ آج تو آٹھ سو کے قریب خواتین ہیں تب صرف ایک خاتون رکن تھیں محترمہ ثمینہ زریں ایڈووکیٹ۔ ینگ لائرز کے دیگر اراکین میں محمد صدیق انجم، چودھری ندیم گورایہ، عنایت اللہ ہاشمی، طاہر مسعود گل، ارشد رو¿ف، میاں محمد افضل، اعجاز الرحمن شیخ، میاں محمد اقبال بھٹی (ریٹائرڈ سیشن جج)، میاں محمد رفیق (سیشن جج)، چودھری امتیاز رسول باٹھ۔ بابر جاوید ڈار، چودھری اختر حسین، خادم عبداللہ سوہی، خالد برلاس، الیاس حسین ریحان، رانا ابرار ممبر پنجاب بار کونسل، طارق اقبال رانا، ناظر شیخ اور معروف صاحب اسلوب شاعر جناب حافظ انجم سعید شامل تھے، سینئر اور ینگ ملا کر یہ خوبصورت روایات کی ایسی کہکشاں تھی کہ شاید وہ زمانہ اور وہ عظیم روایات پھر لوٹ کر نہ آئیں۔درس و تدریس علمیت کے علاوہ جو رواداری، بردباری تھی اس کا جواب نہیں۔ وکلا ایک دوسرے کو چھیڑتے ہوئے بھی نام کے ساتھ صاحب لگائے بغیر نہ پکارتے۔ محفل اور ماحول کافی مرنجاں مرنج ہوتا۔ اگلے زمانوں میں ہو تو ہو آج تو برداشت ختم ہو گئی ہے۔ اگلے وقتوں کے وکیل خواجہ مطیع اللہ صاحب تھے، ان کے ذیر مطالعہ قانون کی کتابوں کا شاید ہی کوئی صفحہ اور لائن ایسی ہو جس پر انہوں نے حاشیہ میں تشریح نہ لکھی ہو۔ آج تو 100 سے زائد عدالتیں ہیں تب چند عدالتیں اور معیار اپنی مثال آپ تھا۔ ایک ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج صاحب اتنے چین سموکر تھے کہ وکلا بھی لگی عدالت میں ان کی سگریٹ نوشی کو عجیب نہ سمجھتے۔ عدالت لگی تھی، جج صاحب نے سگریٹ نکالی خواجہ صاحب نے بھی سگریٹ نکال کر ہاتھ میں پکڑ لی۔ اب جج صاحب نے سگریٹ سلگانے سے احتراز کیا اور انتظار کیا کہ خواجہ صاحب کیا کرتے ہیں۔ خواجہ مطیع اللہ صاحب جج صاحب کے منتظر تھے، دونوں نے ہی ایک دوسرے اور روایات کا خیال کیا اور سگریٹ نہ سلگائی۔ اس طرح جج صاحب نے سگریٹ نہ پی اور اس کے بعد پھر کبھی عدالت میں سگریٹ نہ پی۔ تب کوئی کوئی عدالتی آفیسر ایسی ویسی شہرت رکھتے تھے، ایک جج صاحب لحاظی آنکھ رکھتے تھے۔ خواجہ صاحب کا مو¿کل (ملزم) کٹہرے میں کھڑا تھا، سماعت جاری تھی۔ خواجہ صاحب دلائل شروع کرنے لگتے تو مو¿کل مخل ہو جاتا، کان میں کچھ کہتا، خواجہ صاحب اُس کو ڈانٹ پلا دیتے۔ جج صاحب چوکنے تھے کہ خواجہ صاحب نے ضرور کوئی سکرپٹ تیار کر رکھا ہے۔ خواجہ صاحب کے بولنے پر ملزم کی کان میں مداخلت اور خواجہ صاحب کی بار بار ڈانٹ بالآخر جج صاحب کے صبر کا دامن چھوٹ گیا، انہوں نے کہا، خواجہ صاحب اب سماعت نہیں ہو گی، آپ پہلے بتائیں یہ کیا کہتا ہے؟ خواجہ صاحب نے کہا، چھوڑیں سر، آپ معاف کریں یہ بکواس کرتا ہے۔ پھر وہی عمل دہرایا جانے لگا۔ عدالت رُک گئی، جج صاحب نے کہا کہ نہیں آپ بتائیں۔ خواجہ صاحب کہنے لگے، آپ کا بڑا احترام ہے یہ الو کا پٹھہ بکواس کرتا ہے، مجھے کہتا ہے کہ بابو جی آپ خواہ مخواہ دلائل دے رہے ہیں، جج صاحب تو جیب گرم کرا چکے ہیں۔ بس پھر عدالت کیا اور سماعت اور میرٹ کیا۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں