اسلام آباد : مشرقِ وسطیٰ میں جاری بحری تنازع کے خاتمے کی جانب ایک بڑی عملی پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق، امریکی حکام نے اپریل سے اپنی تحویل میں موجود ایرانی بحری جہاز "ایم وی توسکا" کو عملے سمیت پاکستان کے حوالے کر دیا ہے۔
امریکا کی جانب سے قبضے میں لیا گیا جہاز براہِ راست ایران کو دینے کے بجائے پاکستان کے حوالے کرنے کو سفارتی حلقوں میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس اقدام کے اہم پہلو درج ذیل ہیں۔ پاکستان کے حوالے کرنے کا واحد مقصد اس جہاز کو قانونی اور سفارتی تقاضے پورے کرنے کے بعد واپس ایران بھیجنا ہے۔
جہاز کے ساتھ موجود عملے کو بھی پاکستانی حکام کی نگرانی میں دے دیا گیا ہے، جہاں سے ان کی وطن واپسی کا عمل شروع ہوگا۔
یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان کے نائب وزیراعظم اور ایرانی وزیر خارجہ کے درمیان مسلسل رابطے جاری تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ثابت کرتا ہے کہ پاکستان، تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک 'اعتماد کا پل' بن چکا ہے۔ اپریل سے جاری اس تعطل کا خاتمہ خطے میں جنگ کے بادل چھٹنے کی علامت ہے۔
"ایم وی توسکا" کی واپسی سے نہ صرف بحری گزرگاہوں میں سکیورٹی کی صورتحال بہتر ہوگی بلکہ اس سے ایران اور امریکہ کے درمیان جاری دیگر تنازعات کے حل کے لیے بھی ایک مثبت بنیاد فراہم ہوگی۔
امریکا ایران کشیدگی میں بڑی کمی: ایرانی بحری جہاز "ایم وی توسکا" پاکستان منتقل، تہران واپسی کی تیاریاں
11:28 AM, 4 May, 2026