تہران : ایران نے امریکی صدر کے آبنائے ہرمز سے متعلق حالیہ اعلانات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسے عالمی برادری کو دھوکہ دینے کی کوشش قرار دے دیا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ خلیج فارس میں امریکی مداخلت کا مطلب براہِ راست جنگ کی دعوت دینا ہے۔ایرانی نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے صدر ٹرمپ کے سوشل میڈیا پیغامات پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کوئی ایسی جگہ نہیں جس کا فیصلہ واشنگٹن میں بیٹھ کر کیا جائے۔ انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں کہا ٹرمپ کے فریب دینے والے بیانات سے زمینی حقائق تبدیل نہیں ہوں گے۔ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے انتظام میں کسی غیر ملکی مداخلت کو برداشت کیا جائے گا اور نہ ہی یہاں بیانات کی کوئی گنجائش ہے۔ تہران نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ نے بحری جہازوں کی نقل و حمل کے بہانے مداخلت کی، تو اسے جنگ بندی کے معاہدوں کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔
ایران نے اعادہ کیا ہے کہ خطے کی آبی گزرگاہوں کی حفاظت صرف ایران کی ذمہ داری ہے اور وہ اپنی خود مختاری پر آنچ نہیں آنے دے گا۔ایران کے اس تندوتیز ردعمل نے امریکہ کے "مثبت مذاکرات" کے دعووں پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تہران کے اس بیان سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ خطے میں تناؤ ابھی ختم نہیں ہوا اور عالمی منڈیوں کو ابھی مزید اتار چڑھاؤ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
خلیج فارس ٹرمپ کے حکم پر نہیں چلے گی، مداخلت کی تو جنگ ہوگی: ایران کا جوابی وار
10:25 AM, 4 May, 2026