وزیر اعلیٰ مریم نواز شریف کو برسر اقتدار آئے دو سال کا عرصہ ہو گیا ہے۔ دو سالہ دور حکومت میں مریم نواز نے اپنے ناقدین اور مخالفین کو نہایت مایوس کیا ہے۔ ناقدین کا خیال تھا کہ پنجاب جیسے بڑے صوبے کی باگ ڈور سنبھالنا ، کسی خاتون کے بس کا روگ نہیں ہے۔ خاص طور پر ایک ایسی خاتون، جسے انتظامی امور کا قابل ذکر تجربہ بھی نہ ہو۔ وزیر اعلیٰ مریم نواز نے پنجاب حکومت سنبھالی اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے تحرک اور کارکردگی میں تجربہ کار مرد منتظمین کو بھی کافی پیچھے چھوڑ دیا۔ انہوں نے ایک کے بعد دوسرے منصوبے کی بنیاد رکھنا شروع کی تو بہت سو ں کا گمان تھا کہ یہ محض کاغذی منصوبے ہیں۔ جنہیں شروع ہوتے برسوں لگ جائیں گے۔ مریم نواز نے اس خیال کو بھی غلط ثابت کیا۔ آج پنجاب حکومت کے بیشتر منصوبے نہایت کامیابی سے چل رہے ہیں۔ اسے خوش قسمتی ہی کہنا چاہیے کہ وزیر اعلیٰ مریم نواز کو تین مرتبہ وزیر اعظم رہنے والے اپنے والد میاں نواز شریف کی سرپرستی اور راہنمائی میسر ہے۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیر اعلیٰ پنجاب نے اپنے صوبے پر نہایت محنت کی ہے۔ ایک موقع پر سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کو کہنا پڑا کہ انہیں یہ دیکھ کر بہت اچھا لگتا ہے کہ ان کی بیٹی بطور وزیر اعلیٰ پنجاب کارکردگی اور تحرک میں ان سے آگے نکل گئی ہیں۔
ماضی میں مسلم لیگ (ن) کو اس کے سیاسی مخالفین طنز کیا کرتے تھے کہ یہ جماعت سڑکیں، شاہراہیں اور میگا پروجیکٹس اس لئے بناتی ہے ، کہ یہ پروجیکٹس عوام کو دکھائی دیتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ماضی میں وزیر اعظم نواز شریف کی حکومت ہو یا وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کی مسلم لیگ (ن) نے موٹر وے، اورنج ٹرین، میٹرو ، وغیرہ جیسے منصوبے بنائے، ملک بھر میں سڑکوں اور شاہراہوں کا جال بچھا دیا، جن سے آج لاکھوں لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ تاہم مریم نواز نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔ انہوں نے سڑکوں ، شاہراہوں اور میگا پروجیکٹس کیساتھ ساتھ فلاح عامہ کے ان منصوبوں کی بنیاد بھی رکھی ہے۔ جو اینٹ، گارے، مٹی کے بجائے انسانی جذبات پر استوار ہیں۔ چھوٹے بچو ں کی ہارٹ سرجری منصوبہ اس کی ایک عمدہ مثال ہے۔ خدمت کارڈ ہو، دھی رانی پروگرام، مینارٹی کارڈ، اپنا گھر، اپنی چھت یا ہونہار اسکالرشپ اسکیم، یہ منصوبے خاموشی کیساتھ عوام کی زندگی میں تبدیلی لانے کا باعث ہیں۔ ستھرا پنجاب منصوبے نے صفائی ستھرائی کی وہ مثال قائم کی ہے جس نے عالمی توجہ حاصل کی ہے۔ تجاوزات کے خلاف آپریشن ، مریم نواز حکوت کا ایسا قدم تھا۔ جس پر مسلم لیگ (ن) کے مخالفین بھی تعریف کرنے پر مجبور ہو گئے تھے۔ سچ یہ ہے کہ مریم نواز نے کارکردگی کی وہ مثال قائم کی ہے جس کا مقابلہ کرنا کسی دوسرے کے لئے بے حد مشکل ہو گا۔
گزشتہ چند دن سے پنجاب حکومت کے فلم سٹی پروجیکٹ کا بہت چرچا ہے ۔ ابھی تک جو معلومات سامنے آئی ہیں ، انہیں سن کر لگتا ہے کہ یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو پاکستان کی فلم انڈسٹری کے نیم مردہ جسم میں جان پڑ جائے گی ۔ برسوں سے ہم یہ باتیں سنتے بولتے ہیں کہ پاکستان کی فلم انڈسٹری زوال کا شکار ہے۔ اس ضمن میں حکومتوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جاتا ہے، جنہوں نے اس انڈسٹری کو باقاعدہ صنعت کا درجہ نہیں دیا۔ فلم انڈسٹری کو مشکل یہ درپیش ہے کہ سرمایہ دار طبقہ یہاں سرمایہ کاری سے گریزاں رہتا ہے۔ اس صورتحال میں جدید ٹیکنالوجی کا حامل تکنیکی سامان ،لیبارٹریاں اور سٹوڈیوز وغیرہ کون بنائے؟۔ اب فلم سٹی منصوبے کے اعلان سے امید پیدا ہوئی ہے کہ فلم انڈسٹری نہ صرف بحال ہو گی ، بلکہ جدید خطوط پر استوار بھی ہو گی۔خوش آئند امر ہے کہ حکومت پنجاب نے اس ضمن میں پچاس ایکڑ زمین مختص کی ہے۔ یہ منصوبہ دراصل 853 ایکڑ پرمحیط نواز شریف آئی۔ٹی سٹی کا ایک حصہ ہے ۔ فلم سٹی ایک پروڈکشن ہب کے طور پر بروئے کار آئے گا۔ جس میں فلمسازی سے جڑی تمام سہولیات ایک چھت تلے میسر ہوں گی۔بالکل ایسے جیسے دنیا کے کئی ملکوں میں فلمی مراکز موجود ہیں۔ مثال کے طور پر، ہمارے پڑوسی بھارت میں راموجی فلم سٹی موجود ہے، جس کا شمار دنیا کے بڑے فلم سٹی کمپلکس میں ہوتا ہے۔ دبئی سٹوڈیو سٹی کے نام سے بھی ہم واقف ہیں ، جو فلم سازی وغیرہ کے لئے جدید سہولیات سے آراستہ فلمی مرکز ہے۔امید ہے کہ پنجاب کا فلم سٹی پروجیکٹ بھی انہی خطوط پر استوار ہو گا۔
اطلاعات کے مطابق فلم سٹی میں جدید سہولیات سے لیس سٹوڈیوز ، ساونڈ اور پوسٹ پروڈکشن لیبز میسر ہوں گی۔ خوش خبری یہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی پر مشتمل اینی میشن اور وی۔ایف۔ ایکس لیب بھی یہاں موجود ہوں گی۔ فلم سٹی میں فلم اور میوزک سکول ہوں گے، کنونشن ہال ہو گا جہاں عالمی معیار کے پروگرام اور شوز ہو سکیں گے۔ یہاں پر مصنوعی جھیل بنانے کا بھی منصوبہ ہے۔ مختصر یہ کہ ایک جگہ اور ایک چھت تلے فلم بنانے کی تمام جدید سہولیات یہا ں پر میسر ہوں گی۔ فلم انڈسٹری کے زوال یا بحران کی دیگر وجوہات میں سے ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پاکستان میں فلمسازی کی جدید سہولیات میسر نہیں ہیں۔ فلمسازوں کو فلم کا میوزک بنوانے اور پوسٹ پروڈکشن کا کام کروانے کیلئے بہ امر مجبوری بیرون ملک جانا پڑتا ہے۔ وہاں انہیں یہ کام نہایت مہنگے نرخوں پر کروانا پڑتا ہے۔ فلم سٹی بن جانے سے فلمسازوں کا یہ مسئلہ حل ہو جائے گا۔ صرف پنجاب نہیں پورے پاکستان کے فلم ساز اس فلمی مرکز کا رخ کریں گے۔ یقینا یہاں یہ کام نہایت مناسب بجٹ کیساتھ انجام پائے گا۔ انڈسٹری اپنے پیروں پر کھڑی ہو گی تو روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔ یعنی یہ منصوبہ ثقافت کے ساتھ ساتھ معیشت کی ترویج کا باعث بھی بنے گا۔
یہ پروجیکٹ کوئی راتوں رات منظر عام پر نہیں آگیا۔ گزشتہ ڈیڑھ دو سال سے اس پر کام جاری تھا۔ اب اس ضمن میں قانون سازی بھی کر لی گئی ہے۔ پنجاب فلم اتھارٹی بل اتفاق رائے کیساتھ اسمبلی سے منظور ہو گیا ہے۔ یقینا یہ مسودہ بھی کوئی راتوں رات تشکیل نہیں پایا۔ یہ بات کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف فنون لطیفہ کا عمدہ ذوق رکھتے ہیں۔ اپنے دور اقتدا ر میں وہ فنکاروں سے روابط رکھتے اور ان کے لئے حکومتی فنڈز مختص کرتے ۔ ایسے بیسیوں قصے موجود ہیں جب انہوں نے نہایت خاموشی سے اپنی جیب سے فنکاروں کی مالی امداد اور علاج معالجے کا بندوبست کیا ۔ اس تناظر میں فلم سٹی پروجیکٹ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی کاوش اور خواہش کا عکس لگتا ہے۔ بر سبیل تذکرہ پنجاب حکومت نے فلم فنڈ کے اجراءسے بھی فلم انڈسٹری کے احیا ءکی کوششیں کی ہیں۔ صرف پنجاب نہیں دیگر صوبوں کے فلم سازوں کو بھی تین تین کروڑ کے فنڈ دےئے گئے ہیں۔ قابل تحسین پہلو یہ ہے کہ فلم فنڈ کی تقسیم سیاسی وابستگی سے بالاتر ہو کر کی گئی ہے۔ تاہم افسوس کہ اتنے بڑے اقدام کی وہ تشہیر نہیں ہو سکی جو اس کا حق تھی۔ بسا اوقات یہ محسوس ہوا کہ جن لوگوں کے ذمے اس کی تشہیر کا کام ہے،انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں دکھائی۔ بہرحال اس فنڈ کے آغاز پر بھی وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو مبارک باد۔ اس فنڈ کے اجراءکا کریڈٹ سینئر وزیر مریم اورنگ زیب کو بھی جاتا ہے ، جنہوں نے نہایت عرق ریزی سے اس کام کو انجام تک پہنچایا۔
امید ہے کہ جس برق رفتاری سے مریم نواز حکومت نے دیگر منصوبوں کا آغاز اور تکمیل کی ہے۔ فلم سٹی منصوبہ بھی جلد پایہ تکمیل تک پہنچے گا۔یہ منصوبہ مکمل ہو گیا تو پاکستان کی فلم انڈسٹری کے ایک نئے اور سنہرے دور کا آغاز ہو گا۔ جس کا سہرا مریم نواز شریف کے سر سجے گا۔
حکومت پنجاب کا فلم سٹی پروجیکٹ !!
09:09 AM, 4 May, 2026