منگل اور بدھ کی درمیانی رات، دنیا بھر کے لیے بالعموم اور مشرق وسطیٰ کے عوام کے حواس گم کرنے والی قیامت کی رات، امریکی صدر نے ایران کو سرنڈر کے لیے 48 گھنٹے کی مہلت دی تھی اور کہا تھا کہ سرنڈر سرنڈر نہ کیا تو امریکہ ایسا خوفناک حملہ کرے گا جو کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں ہو گا۔ اس حملے سے صدیوں پرانی ایرانی تہذیب مٹ جائے گی۔ 48 گھنٹے کی مہلت امریکی وقت کے مطابق منگل رات 8 بجے اور پاکستان میں بدھ کی صبح 5 بجے ختم ہو رہی تھی۔ پاکستان اس تباہ کن جنگ کا فریق نہیں تھا لیکن جنگ کے آغاز سے ہی خطے میں امن کے قیام اور جنگ بندی کے لیے سرگرم کردار ادا کر رہا تھا، وزیراعظم شہباز شریف، فیلڈ مارشل حافظ سید عاصم منیر اور نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار، صدر ٹرمپ اور ایرانی قیادت سے مسلسل رابطے میں تھے لیکن فریقین اپنے موقف سے پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں تھے، میزائلوں کی بارش سے تباہی میں اضافہ ہو رہا تھا جبکہ اس ڈیڈ لائن کے بعد ہونے والے حملوں کے تصور ہی سے روح کانپ جاتی تھی، منگل کا سورج غروب ہو گیا۔ پرائم منسٹر ہاو¿س اور وزارت خارجہ کی عمارتیں روشن تھیں پاکستانی قیادت کے تینوں اہم کردار رابطوں میں مصروف تھے، فیلڈ مارشل نے ٹرمپ سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، وزیراعظم سوچوں میں گم تھے امن کے متلاشی ذہن تیزی سے کام کر رہے تھے ”آج کی رات نہ سونا یارو .... آج ہم ساتواں در کھولیں گے“۔ ذرائع بتاتے ہیں کہ فیلڈ مارشل سات دنوں سے جاگ رہے تھے اس دوران وزیراعظم سے مشاورت جاری رہی۔ پوری قیادت اللہ کی مدد اور رہنمائی کی منتظر، فیلڈ مارشل نے معرکہ حق اول میں اللہ کی مدد سے ہی بھارت کو شکست فاش دی تھی اب وہ معرکہ حق دوئم میں جنگ بند کرانے اور امن کے علمبردار بن کر چار دانگ عالم میں پاکستان کا نام روشن کرنے کے لیے پُرامید تھے، رات 9 بجے پھر مشاورتی اجلاس ہوا۔ جنگ بندی کے سوا تباہی سے بچنے کا کوئی راستہ نہیں تھا۔ جنگ سے انسان مرتے ہیں تہذیبیں نہیں مرتیں تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں، شاید ٹرمپ اور نیتن یاہو کو اس تاریخی حقیقت کا ادراک نہیں تھا، ایران نے امریکی دھمکی کو مسترد کر دیا تھا لیکن پاکستان سمیت دنیا بھر کے ممالک ہونے والی تباہی کو روکنے کے لیے فکر مند تھے، گھڑی کی سوئیاں سست رفتاری سے وقت کا سفر طے کر رہی تھیں پاکستان میں رات کے تین بجکر 32 منٹ اور امریکہ میں 6 بجکر 32
منٹ دھمکی پر عملدرآمد میں 80 منٹ باقی تھے، وزیراعظم اور فیلڈ مارشل نے آخری کوشش کا فیصلہ کر لیا، گھڑی نے چار بجائے آخری 60 منٹ، وزیراعظم نے ٹرمپ سے رابطہ کیا، انہیں جنگ کی ہولناکیوں سے آگاہ کیا، 4 بجکر 54 منٹ پر یعنی صرف 6 منٹ قبل ٹرمپ کا ٹوئٹ 15 روزہ جنگ بندی اور اسلام آباد میں مذاکرات کا اعلان کر رہا تھا، بدھ کا سورج امن کی نوید لے کر طلوع ہوا۔ دنیا بھر میں ویلڈن پاکستان، شاباش پاکستان، شکریہ اور تشکر پاکستان کے نعرے، پیغامات، وزیراعظم کو سلام، فیلڈ مارشل کو سلیوٹ، افواج پاکستان کا ناقابل شکست سربراہ امن کا علمبردار بن کر ابھرا جس نے اپنے تدبر سے تباہی کی ہر تدبیر کو شکست دی، ایران تشکر پاکستان کے نعروں سے گونج اٹھا، سعودی عرب نے حرمین شریفین کے محافظ کا شکریہ ادا کیا۔ اسی روز وزیراعظم شہباز شریف کو اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، روس، چین، برطانیہ سمیت 50 ملکوں کے سربراہوں نے مبارکباد دی۔ پاکستان کا ماسٹر سٹروک کامیاب، تباہی کی دھمکیوں کا ٹائیں ٹینک آبنائے ہرمز میں ڈوب گیا، جنگ ٹل گئی، پاکستان کے 93 فیصد عوام نے حکومتی کوششوں کی حمایت کی، قومی اسمبلی کے ایوان میں محمود خان اچکزئی کی آواز گونجی ”جنگ بندی کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سلام، حمایت نہ کرنے والا پاگل ہی ہو گا پاک فوج زندہ باد“ حمایت نہ کرنے والے پاگلوں میں بیرون ملک بیٹھے یوتھیوں نے احمقانہ ٹوئٹس کے ڈھیر لگا دئیے، غصہ میں بال نوچنے لگے گھر کے برتن توڑ ڈالے، پاکستانیوں کے سینے فخر سے چوڑے ہو گئے۔ یوتھیوں کے سینوں سے دھواں نکلنے لگا ”یہ دھواں سا کہاں سے اٹھتا ہے؟“
پاکستانی قیادت نے جنگ کا پانسہ پلٹ دیا، ایک دوسرے پر غراتے فریق مذاکرات کی میز پر آ بیٹھے، ٹرمپ جس کے پاس ساڑھے 13 ہزار جدید ترین طیارے 5 ہزار ہیلی کاپٹر، دنیا بھر میں 8 سو فوجی اڈے، 18 سو سے زیادہ ایٹمی تنصیبات اور ان اڈوں میں 5 لاکھ تربیت یافتہ فوجی الرٹ، حکم کے منتظر تھے کا غرور ایک کال نے خاک میں ملا دیا، بڑائی صرف خالق کائنات کو زیبا، رب المشرقین و رب المغربین کو غرور پسند نہیں۔ امریکی میڈیا نے اعتراف کیا کہ ٹرمپ پر زبردست دباو¿ تھا، مقامی ہسپتال میں جانا پڑا، معائنہ کرانے گئے تھے دنیا بھر میں افواہیں پھیل گئیں، برین ہیمرج اور ہارٹ اٹیک کی خبریں آنے لگیں، کسی دل جلے نے نمرود اور مچھر کا ذکر کیا جو ناک کے راستے دماغ میں وائرس بن کر گھس گیا مغرور حکمران سر میں جوتے کھاتا جہنم رسید ہوا۔ ایک بات قابل غور، ٹرمپ کو اس بیگانی جنگ میں دیوانہ بننے کی ضرورت کیوں پیش آئی، ارد گرد یہودیوں کا حصار ہے، مرد قلندرؒ صدی پہلے کہہ گئے کہ فرنگ کی رگ جاں پنجہ¿ یہود میں ہے۔
مذاکرات کی میز جمعہ سے ہی سج گئی۔ اسلام آباد میں سخت سکیورٹی انتظامات میں ایران کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیر خارجہ عراقچی اسلام آباد پہنچے انہیں ایران سے جیٹ طیاروں کی حفاظت میں لایا گیا، امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس، ٹرمپ کے یہودی داماد جیرڈکشنر اور سٹیو وٹکوف کے ہمراہ ہفتہ کی صبح پہنچے ان کا سامان بلٹ پروف گاڑیاں، ایمبولینس، کمانڈوز اور دیگر اشیاءجمعہ ہی کو پہنچ گئی تھیں۔ ذرائع کے مطابق امریکا اور ایران کے مذاکراتی لیڈران نے پاکستانی قیادت سے بات چیت کے دوران مطالبات ایک دوسرے کو پہنچائے جس کے بعد اتوار کو باقاعدہ مذاکرات شروع ہو گئے۔ ”ابھی تو دھند میں لپٹے ہوئے ہیں سب منظر“ ایرانیوں کا کہنا ہے کہ ”تباہ ہو تو گئے ہیں اب اور کیا ہو گا“ تاہم وہ اپنے دس مطالبات میں تین چار مطالبات کے سوا لچک پیدا کرنے پر آمادہ ہیں، اسی طرح امریکہ پندرہ مطالبات میں سے مبینہ طور پر گیارہ پر پیچھے ہٹنے کو تیار ہے۔ چار پانچ مطالبات پر بات چیت ہو گی، پاکستان پُر امید ہے، بلکہ شہریوں کی اکثریت کو یقین ہے کہ پاکستانی قیادت اس مشن میں سرخرو ہو گی۔ ہمارا پرچم یہ پیارا پرچم لہراتا رہے گا۔ ایک صاحب تو دور کی کوڑی لائے کہ مسودہ تیار ہو چکا، دونوں ملکوں کے دولہا راضی تو قاضی صرف دستخط کرے گا، نیتن یاہو منہ چھپائے اپنی کرپشن اور اقربا پروری کے مقدمات بھگت رہا ہے۔ وہ جنگ کو اپنے لیے حفاظتی شیلڈ سمجھتا ہے، مودی، یاہو اور پی ٹی آئی کے مامے چاچے جنگ کی آگ میں تیل چھڑک رہے ہیں۔ سو بات کی ایک بات جنگ بندی پاکستانی قیادت کا کارنامہ صدیوں پرانی تہذیب مٹنے سے بچ گئی۔
امن مذاکرات، آخری 60منٹ، ویلڈن پاکستان
09:08 AM, 4 May, 2026