امریکی اعتراف شکست

09:08 AM, 4 May, 2026

دنیا کی سب سے بڑی فوجی اور اقتصادی طاقت سمجھے جانے والے ملک امریکہ کے صدر نے تحریر لکھ دی ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو گئی ہے۔ اس اعتراف سے پہلے ٹرمپ حکومت کے بااختیار اور اہم وزراءکو کانگریس کمیٹی نے طلب کر کے جس طرح احوال جنگ پوچھا وہ اپنی جگہ ایک تاریخ ہے۔ ٹرمپ کا تحریر کردہ خط اعتراف شکست ہے، ایسا نہ ہوتا تو اپنے منہ میاں مٹھو بننے کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دینے والا ٹرمپ اسی خط میں اپنی فتوحات کا تفصیل ذکر ضرور کرتا اور کانگریس سے درخواست کرتا کہ اسے یہ جنگ جیتنے پر کوئی اعلیٰ ترین اعزاز کوئی اعلیٰ ترین ڈگری دی جائے۔ وہ یہ بھی نہ کہہ سکا کہ میں نے اپنے تدبر سے دنیا میں وہ خطرناک ترین جنگ بند کرائی ہے جو بند نہ ہوتی تو اس میں لاکھوں افراد مارے جاتے۔ ایٹمی حملے کے بعد شہروں کے شہر ہی نہیں شاید ایک سے زائد ممالک ملبے کا ڈھیر بن جاتے۔ ایٹمی تباہ کاری اور ایٹمی ری ایکشن سے کئی نسلیں اپاہج پیدا ہوتیں اور برسوں تک وہ زمین اناج کا ایک دانہ پیدا کرنے سے معزور ہو جاتی۔
امریکی صدر نے ایران اور دنیا کو خوف زدہ رکھنے کے لیے اپنے خط میں یہ بھی کہا ہے کہ جنگ تو ختم ہو گئی ہے لیکن مسئلہ ختم نہیں ہوا حالانکہ پوری دنیا کے ساتھ ساتھ حکومت اور اپوزیشن کے ارکان کانگریس اور ممبران سینٹ خوب سمجھتے ہیں کہ ایران نے دو ایٹمی طاقتوں اسرائیل اور امریکہ کا بیک وقت سر مونڈھ کر انہیں گدھے پر بٹھا دیا ہے۔ آج اس حوالے سے گدھے کا انٹرویو کیا جائے توہ سر جھکا کر کہے گا اس کی بدقسمتی ہے اس نے کبھی نہ سوچا تھا کہ اس پر نیتن یاہو اور ٹرمپ ایک ساتھ سوار ہوں گے جو آج انسان کہلانے کی بجائے گدھے کے مقام پر کھڑے ہیں حالانکہ خدا نے انہیں اشرف المخلوقات میں پیدا کیا۔جنگ بندی سے چند روز قبل اور جنگ بندی کا حتمی وقت ختم ہونے سے قبل امریکی و یہودی لابی کے زیر اثر میڈیا نے ایران کو خوفزدہ کرنا شروع کر دیا کہ مزید طاقتور امریکی بحری بیڑا ایران کو چاروں طرف سے گھیرا رہا ہے۔ اب ایران کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ اس پر ایٹم بم تو نہیں برسایا گیا لیکن اس آخری حملے میں ایٹمی حملے جیسی تباہی مچائی جائے گی۔
میڈیا نے ٹرمپ کی امریکی جرنیلوں سے آخری مشاورت کے خوب چرچے کئے اور بتایا کہ ٹرمپ نے اپنی افواج سے تین منصوبے طلب کئے جن پر عمل کر کے وہ ایران کی اینٹ سے اینٹ بجا سکے۔ ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں ان سے پوچھا کہ اسے ”وکٹری“ کہاں اور کیسے مل سکتی ہے جس پر تینوں فوجوں کے سربراہوں نے انہیں ایک ہی متفقہ جواب دیا کہ جناب اس موقع پر آپ ”وکٹری“ کو بھول جائیں اور عزت بچانے کی کوشش کریں جو اب آسانی سے نہیں ملے گی، تلاش کرنا پڑے گی۔ امریکی جرنیلوں نے انہیں واضح طور پر بتایا کہ جنگ سے قبل اور جنگ کے دوران ہم نے جو مشورے دیئے ہم آج بھی ان پر قائم ہیں۔ ہمارا موقع پہلے بھی یہی تھا کہ جنگ شروع کرنا خسارے کا سودا ہے۔ آج بھی ہمارا مو¿قف پہلے بھی یہی تھا کہ جنگ شروع کرنا خسارے کا سودا ہے۔ آج بھی ہمارا مو¿قف ہے کہ آخری حملے میں ہمیں کچھ حاصل نہ ہو گا۔ ہنگامی طور پر بلائی گئی مشاورتی میٹنگ برخاست ہوئی تو ڈونلڈ ٹرمپ کا قدرے گول چہرے لٹک کر کچھ لمبا لگنے لگا تھا وہ سر اور کندھے جھکائے میٹنگ روم سے باہر نکلا تو اسے دیکھنے والے اس سے بنا بات کیے ہی سمجھ گئے کہ اب اعتراف شکست کے سوا کچھ باقی نہیں بچا۔ ٹرمپ اپنی ڈھٹائی کے سبب اپنے جرنیلوں کے مشورے کے باوجود ایک آخری حملہ کر کے وکٹری تلاش کرنا چاہتا تھا لیکن اسے ایک ایسی خبر ملی جس نے اسے پسپائی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا، اسے بتایا گیا کہ اس کے ایک بحری بیڑے میں شامل ایک تباہ کن بحری جہاز کی بجلی اچانک بند ہو گئی ہے۔ جنریٹرز نے کام چھوڑ دیا ہے ، وہ ریڈار پر بھی نظر نہیں آرہا، اس کا انجن بند ہو گیا ہے اور سٹارٹ ہونے کا نام نہیں لے رہا۔ ٹرمپ کو یہ بھی بتایا کہ اس تباہ کن جہاز پر چھ سو افراد سوار ہیں، جن کی زندگی اب خطرے میں ہے۔ اطلاع ملنے کے بعد امریکی صدر سر پکڑ کر بیٹھ گئے۔ انہوں نے چشم تصور سے دیکھا کہ چھ سو افراد کے تابوت جب امریکہ پہنچیں گے اور امریکی تباہ کن جہاز کی تباہی کی خبر جب دنیا کو 
ملے گی تو امریکہ میں کسی درجے کا کہرام مچے گا۔ امریکی صدر نے تمام طاقت بروئے کار لا کر اپنے گونگے بہرے اور اندھے ہو چکے۔ تباہ کن جہاز کو ڈھونڈنے کی ہدایت کی جو تباہی کے منہ میں پہنچ چکا تھا۔ تین گھنٹے بعد امریکی صدر کو بتایا گیا کہ تباہ کن امریکی جہاز کا برقی نظام اچانک فعال ہو گیا ہے اور اب اس کے تمام آلات معمول کے مطابق کام کر رہے ہیں، اس کے ساتھ ہی انہیں آگاہ کیا گیا کہ یہ شاید حملہ تھا، خدشہ ہے کہ ایسا سائبر حملہ اسی جہاز پر اور عین گھمسان کے رن میں بحری بیڑے میں شامل دیگر جہازوں پر بھی ہو سکتا ہے۔ ٹرمپ ابھی حیرت اور خوف کی ملی جلی کیفیت سے باہر نہ آئے تھے کہ انہیں بتایا گیا یہ ٹیکنالوجی نئی نہیں بلکہ بہت پرانی ہے۔ 2016ءمیں ایک امریکی لڑاکا طیارہ ”ریڈسی“ پر پرواز کرتے ہوئے چینی حدود سے قدرے قریب ہوا تو اس کا تمام الیکٹرانک نظام جام ہو گیا اور ہر پرزے نے کام کرنا چوڑ دیا، بس وہ صرف پرواز کر رہا تھا۔ دیگر تمام آلات ساکت تھے، جہاز اندھا ہو چکا تھا، اس کا کنٹرول سے کوئی رابطہ نہ تھا۔ وہ ریڈار پر نظر بھی نہیں آرہا تھا، اسی کیفیت میں پرواز کرتے ہوئے آدھ گھنٹہ بعد اچانک اس کا الیکٹرانک نظام بحال ہو گیا تو اسے چین کی طرف سے پیغام موصول ہوا۔ آپ ہماری خلائی فضائی حدود کو چھو رہے تھے۔ آئندہ محتاط رہیں۔ یہ واقعہ سن کر امریکی صدر کے پسینے چھوٹ گئے۔ وہ اپنی نشست سے اٹھنا چاہتے کہ ایک جرنیل نے ان سے مزید چند منٹ بیٹھنے کی درخواست کی وہ بیٹھ گئے۔ امریکی جرنیل نے انہیں یاد کرایا کہ آپ کو پاکستان اور بھارت کی ائیرفورس کے درمیان پندرہ منٹ کی فضائی جنگ کو ایک مرتبہ سٹڈی کرنا چاہئے۔ انہوں نے یاد رہائی کے لئے اس کی تفصیل ڈونلڈٹرمپ کو سنائی اور بتایا کہ پاکستان نے اسی چینی ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے بھارت کے متعدد لڑاکا رافیل طیارے فضا میں حملے سے قبل ہی تباہ کر دئیے تھے، جن کی تفصیل آپ گاہے گاہے دنیا کے سامنے رکھتے رہے ہیں۔ ٹرمپ کو ایک لمحے میں سب کچھ یاد آ گیا پھر انہیں خیال آیا ہو گا کہ آخری حملے کے بعد نریندر مودی ان کے لڑاکا جہازوں اور تباہ ہونے والے بحری جہازوں کی گنتی شروع کر کے انہیں اور امریکہ کو دنیا بھر میں رسوا کر سکتے ہیں۔ ایران کے ساتھ ساتھ عالم اسلام کو بھی ایران کی فتح مبارک ہو۔ ایران نے مسلمانوں کو ایک مرتبہ پھر سر اٹھا کر چلنے کا موقع دیا ہے۔ ایران کی سول اور ملٹری قیادت ایرانی عوام کو فتح مبارک، انہیں ڈھیروں سلام، اسرائیل اور امریکہ کو اعتراف شکست مبارک۔

مزیدخبریں