لینڈ مافیا کی غضب کہانی

09:06 AM, 4 May, 2026

آج کی تحریر میں قارئین کے لیے پاکستان میں لینڈ مافیا کی ایک غضب کہانی ان کے بہترین ذوق کی نذر کر رہے ہیں۔ پاکستان میں ناجائز کمائی کے ذرائع کی کمی نہیں بس آپ میں حوصلہ ہونا چاہیے اور ساتھ میں جو سب سے زیادہ ضروری بات ہے وہ یہ کہ آپ کے پاس ضمیر نام کی جو ایک بے کار سی چیز ہے اسے آپ اس کے اصل کام سے ہٹا کر کچھ فضول کاموں میں الجھا کر رکھیں تاکہ اس کو اس کے اصل کام کی طرف توجہ دینے کی فرصت ہی نہ مل سکے۔ آپ تھوڑا سا حوصلہ پکڑیں کیونکہ جو بھی ہو اس میں رسوائی کے امکانات تو ہر وقت موجود رہتے ہیں تو اس رسوائی پر پردہ ڈالنے کے لیے آپ دھوکہ، فریب اور جرم کی دنیا سے جو بھی ناجائز کمائی کریں اسے دنیا کی نظروں میںجائز بنانے کے لیے آپ اپنی ناجائز کمائی میں سے لوگوں کی مدد کرنا شروع کر دیں لیکن یاد رکھیں کہ آپ کو رابن ہڈ بننے کی کوئی ضرورت نہیں اس لیے کہ اگر رابن ہڈ بن کر ساری کمائی کمی کمین غریب غربا پر ہی خرچ کرنی ہے تو پھر یہ سب کرنے کا کیا فائدہ بلکہ صرف پانچ سے دس فیصد اچھے اچھے کاموں میں خرچ کر دیں اور اگر مذہبی گروہوں کو کچھ چندے دینے کا کام شروع کر دیں تو یقین کریں کہ کسی کے باپ کی جرا¿ت نہیں کہ وہ آپ کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھ بھی سکے بلکہ جن لوگوں کو آپ کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے وہ اپنی خیریت نیک مطلوب رکھنے کے لیے آپ کے در دولت پر آ کر آپ کی آشیر باد کے لیے حاضریاں دینا شروع دیں گے لیکن کچھ ایسے بھی ہیں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ضمیر کو ان فضول کاموں میں الجھانے کا نہ تو کوئی فائدہ ہے اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے بلکہ اپنی ناجائز کمائی کا ایک حصہ افسر شاہی میں بانٹ دو تو پھر فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا۔
بات شروع ہوئی تھی کرپشن کی غضب کہانی سے تو واپس اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں۔ ون کانسٹی ٹیوشن ایونیو سکینڈل۔ سرکاری اراضی کا استحصال اور اشرافیہ کا حصار۔ سی ڈی اے نے سال 2005 میں جناح کنونشن سینٹر کے قریب 13.5 ایکڑ کی بیش قیمت سرکاری زمین ایک ’5 سٹار ہوٹل‘ کی تعمیر کے لیے لیز پر دی تھی۔ 4.882 ارب روپے کی سب سے بڑی بولی دے کر یہ منصوبہ حاصل کیا، مگر ابتدا سے ہی ضوابط کی خلاف ورزیوں کا بازار گرم رہا۔ ڈویلپر کو محض 15 فیصد ابتدائی ادائیگی پر زمین کا قبضہ دے دیا گیا، جس کے بعد کمپنی نے نہ صرف واجبات کی ادائیگی میں مسلسل ڈیفالٹ کیا بلکہ بار بار ری شیڈولنگ کی مراعات بھی حاصل کیں۔ ہوٹل کے لیے مختص جگہ پر غیر قانونی طور پر 263 لگژری فلیٹس تعمیر کیے گئے، جہاں ایک فلیٹ کی قیمت 7.5 کروڑ روپے سے شروع ہوتی ہے، جو اب ملک کی طاقتور ترین اشرافیہ کا مسکن بن چکے ہیں۔ یہ عمارت محض 50 سے 60 بااثر خاندانوں کی ملکیت ہے، جو پاکستان کے امیر ترین اور مقتدر ترین طبقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان فلیٹس کے مالکان میں ملک کی معروف سیاسی اور غیر سیاسی شخصیات کے نام شامل ہیں، جبکہ کئی نامعلوم بااثر افراد بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہے ہیں۔ ماضی میں مختلف ججوں نے اس منصوبے کو غیر قانونی تحفظ فراہم کیا اور مبینہ طور پر اس کے عوض بھاری مالی فوائد سمیٹے۔ منصوبے میں اپارٹمنٹس اور کمرشل حصوں کی غیر قانونی فروخت اور سب لیزنگ کی وجہ سے تھرڈ پارٹی کلیمز اور پیچیدہ قانونی مسائل پیدا ہوئے۔ سپریم کورٹ نے 9 جنوری 2019 کو لیز اس شرط پر بحال کی تھی کہ بلڈر سابقہ ادائیگیاں منہا کر کے 17.5 ارب روپے قومی خزانے میں جمع کرائے گی۔ عدالتی حکم کے باوجود ڈویلپر نے اب تک صرف 2.916 ارب روپے ادا کیے، جبکہ 14.583 ارب روپے کے بھاری واجبات تاحال قومی خزانے کو منتقل نہیں کیے گئے۔ کمپنی کی 1.689 ارب روپے کی بینک گارنٹی بھی ختم ہو چکی تھی، جسے مطلوبہ قانونی حد تک تجدید کرانے میں مجرمانہ غفلت برتی گئی۔ سی ڈی اے نے دسمبر 2022 میں حتمی نوٹس جاری کیے اور بالآخر 8 مارچ 2023 کو مسلسل وعدہ خلافیوں اور عدم ادائیگی کی بنیاد پر لیز منسوخ کر دی۔ بلڈر کی جانب سے واجبات کو کمرشل جگہ کے بدلے ایڈجسٹ کرنے کی تجویز مسترد کر دی گئی، کیونکہ سرکاری ادارہ کسی نجی ڈویلپر کے ساتھ ایسی ’بک ایڈجسٹمنٹ‘ کا مجاز ہی نہیں ہے۔ ایسی کسی بھی تجویز کو قبول کرنا دیگر ڈیفالٹرز کے لیے ایک خطرناک اور غیر قانونی راستہ کھولنے کے مترادف ہوتا۔ پبلک اکا¶نٹس کمیٹی نے بھی عوامی مفاد کے تحفظ کے لیے اس عمارت کو سیل کرنے اور سرکاری قبضے میں لینے کی واضح ہدایات جاری کیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے 30 اپریل 2026 کو بلڈر اور بینک آف پنجاب سمیت تمام فریقین کی قانونی درخواستیں خارج کر کے سی ڈی اے کے مو¿قف پر مہر تصدیق ثبت کر دی۔ اس وقت زرد صحافت کے کچھ علمبرداروں کو اس ایلیٹ مافیا کے حق میں لانچ کیا جا رہا ہے جو اس منصوبے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا کر اصل حقائق کو مسخ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
پاکستان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ یہ ’ایلیٹ مافیا‘ ہے، جسے جب تک قانون کے کٹہرے میں نہیں لایا جاتا، ملک معاشی دلدل سے نہیں نکل سکتا۔ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری کا خیر مقدم ہے، لیکن سرکاری زمین کا استحصال اور عوامی واجبات میں خورد برد کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی۔ وزیراعظم کو اس پیچیدہ اور حساس معاملے کو انتہائی تدبر اور ہمت کے ساتھ قانون کی حکمرانی کے تحت حل کرنے پر سلام پیش کرتے ہیں۔1

مزیدخبریں