جدہ / اسلام آباد :تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کے ذیلی ادارے مستقل خودمختار انسانی حقوق کمیشن (IPHRC) نے بھارت میں اسلاموفوبیا کی خطرناک حد تک بڑھتی ہوئی لہر اور مقبوضہ جموں و کشمیر میں مسلمانوں کے خلاف ریاستی جبر پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔
ایک تفصیلی بیان میں کمیشن نے حالیہ پہلگام واقعے کے بعد مسلمانوں کو اجتماعی طور پر نشانہ بنانے کے واقعات کی شدید مذمت کی۔ کمیشن کے مطابق انتہا پسند عناصر مسلمانوں کو حملے کا ذمہ دار ٹھہرا کر منظم طریقے سے تشدد، نفرت انگیزی اور امتیازی سلوک کا نشانہ بنا رہے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔کمیشن نے واضح کیا کہ بھارت اقوامِ متحدہ کے جن انسانی حقوق معاہدوں کا دستخط کنندہ ہے، جن میں بین الاقوامی عہد نامہ برائے شہری و سیاسی حقوق (ICCPR)، معاہدہ برائے اقتصادی، سماجی و ثقافتی حقوق (ICESCR) اور نسلی امتیاز کے خاتمے کا کنونشن (ICERD) شامل ہیں، اُن کے تحت اقلیتوں کو تحفظ دینا بھارت کی ذمہ داری ہے۔بیان میں کہا گیا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف امتیازی سلوک، نفرت انگیز تقاریر، اور پُرتشدد حملے ان بین الاقوامی ذمہ داریوں کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
او آئی سی کمیشن نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کو مزید تشویشناک قرار دیتے ہوئے بھارت کے 5 اگست 2019 کے اقدامات کو مسترد کیا، جن کے ذریعے کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کی گئی اور علاقے میں آبادیاتی تبدیلی کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
کمیشن کے مطابق سیاسی قیدیوں کی طویل نظربندی، میڈیا پر قدغن، اور عام شہریوں کے خلاف اجتماعی سزائیں انسانی حقوق کے عالمی اصولوں کے خلاف ہیں۔
او آئی سی-IPHRC نے بھارت سے درج ذیل اقدامات کا فوری مطالبہ کیا، اس میں مقبوضہ کشمیر میں تمام بنیادی شہری آزادیوں کی بحالی،سیاسی و انسانی حقوق کے کارکنان سمیت تمام قیدیوں کی رہائی،اقوام متحدہ اور او آئی سی کے مبصرین کو فوری اور غیر مشروط رسائی اور کشمیری عوام کو ان کے حقِ خودارادیت کے لیے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق آزادانہ رائے شماری کا موقع دیناشامل ہیں۔
بیان میں عالمی اداروں، خصوصاً اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کو متحرک کرنے کی اپیل کی گئی ہے، تاکہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف مظالم کی بین الاقوامی نگرانی ممکن بنائی جا سکے۔او آئی سی نے خبردار کیا کہ اگر بھارت کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر جوابدہ نہ بنایا گیا تو نہ صرف علاقائی امن کو خطرہ لاحق ہو گا بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے نظام کو بھی شدید نقصان پہنچے گا۔
او آئی سی کا بھارت میں اسلاموفوبیا اور مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر سخت اظہارِ تشویش
06:59 PM, 4 May, 2025