پلوامہ کے بعد پہلگام ڈرامہ، مودی سرکار کا زوال ناگزیر

09:16 AM, 4 May, 2025

مودی سرکار کے زیر سایہ بھارت میں پروان چڑھنے والی جنگی فلموں،جذباتی قوم پرستی اور میڈیا کے ذریعے تخلیق کیے گئے بیانیوں کی فہرست میں ایک اور جھوٹی قسط کا اضافہ ہو چکا ہے۔۔۔۔ پلوامہ کے خود ساختہ ڈرامے کے بعد اب پہلگام حملہ بھی اسی سکرپٹ کا تسلسل معلوم ہوتا ہے۔۔۔۔ حملے کی نوعیت،متاثرین کی فہرست اور پس منظر میں پھیلی سیاسی فضا۔۔۔یہ سب مل کر ایک ایسی مکروہ سازش کی طرف اشارہ کرتے ہیں جو صرف پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنے اور مودی سرکار کو داخلی طور پر مظلوم ظاہر کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔۔۔۔پہلگام حملے کے متاثرین میں بھارت کی 14 سے زائد ریاستوں سے تعلق رکھنے والے افراد شامل ہیں۔۔۔۔نیپال جیسے غیر ملکی شہری کا بھی نام اس فہرست میں پایا جانا حیرت کا باعث نہیں۔۔۔۔۔۔یہ دراصل اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹارگٹ کا انتخاب بے ترتیبی سے نہیں بلکہ نہایت سوچ سمجھ کر کیا گیا ہے۔۔۔۔۔جدید ٹیکنالوجی خاص طور پر 2021 ء میں اسرائیلی جاسوسی سافٹ ویئر پیگاسس کی خریداری اب بھارتی حکومت کے لیے عوام کی نقل و حرکت،رابطوں اور حساس معلومات تک رسائی کا ایک طاقتور ذریعہ بن چکی ہے۔۔۔۔۔ ایسے میں اتنے متنوع علاقوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جانا ہرگز حادثاتی نہیں ہو سکتا۔۔۔۔بلکہ یہ خود اپنی جگہ ایک چیخ چیخ کر بولتا ہوا ثبوت ہے کہ بھارت اپنے ہی شہریوں کو جنگی نفسیات اور سیاسی ضرورتوں کے تحت قربانی کے بکرے بنانے سے گریز نہیں کرتا۔
پلوامہ میں جان بوجھ کر نچلی ذات کے ہندو فوجیوں کو نشانہ بنایا گیا۔۔۔۔۔اس اقدام کا مقصد ایک تیر سے کئی شکار کرنا تھا۔۔۔ایک طرف ہندو ووٹرز کو انتقام کے جذبات سے گرمانا،دوسری طرف رافیل سکینڈل کی بڑھتی ہوئی آگ پر پانی ڈالنا اور تیسری اور سب سے خطرناک چال یہ تھی کہ اس حملے کو پاکستان کے کھاتے میں ڈال کر دنیا کے سامنے اپنے آپ کو مظلوم ظاہر کیا جائے۔۔۔۔۔اسی پالیسی کے تحت ابھی نندن کا مگ 27 طیارہ دانستہ پاکستانی حدود میں داخل کرایا گیا تاکہ پاکستان کی طرف سے جوابی کارروائی کا جواز پیدا کیا جا سکے۔
نریندر مودی نے اْسی شام یہ بیان دیا تھا کہ ’’اگر رافیل ہوتے تو نتیجہ کچھ اور ہوتا‘‘ یہ بیان خود اس سازش کو بے نقاب کرنے کے لیے کافی ہے کہ پورا واقعہ دراصل رافیل طیاروں کی کمی کا جواز اور اس ڈیل کو جائز قرار دینے کے لیے تیار کیا گیا ایک سیاسی شو تھا۔۔۔۔مگر حقیقت یہ ہے کہ بھارت نے رافیل ڈیل کے ذریعے نہ صرف مالی بدعنوانی کی ایک تاریخ رقم کی بلکہ فرانس کے ساتھ ایک ایسی جنگی سودا بازی کی،جو نہ ٹیکنالوجی کے لحاظ سے بھارت کے دفاع کو تقویت دے سکی اور نہ میدان جنگ میں بھارت کی کارکردگی بہتر کر سکی۔
رافیل طیارے جب بھارت لائے گئے تو میڈیا پر جشن منایا گیا،انہیں آسمان کی فتح کا علمبردار کہا گیا مگر سچ یہ ہے کہ یہ طیارے بھی بھارتی فضائیہ کی دیگر ناکام کوششوں کی طرح صرف ایک ’’شو پیس‘‘ بن کر رہ گئے۔۔۔۔۔پاکستان کے ایف 16، جے ایف 17 تھنڈر اور دیگر دفاعی نظام کے سامنے رافیل کی کوئی خاص برتری ثابت نہ ہو سکی۔۔۔۔۔ابھی نندن کے واقعے کے بعد بھارت نے نہ صرف فضائی طور پر شکست کھائی بلکہ عالمی سطح پر اپنی سبکی بھی برداشت کی۔۔۔۔۔ ایف 16 گرانے کا دعویٰ جھوٹا نکلا اور دنیا نے دیکھا کہ کس طرح ایک مگ 27 طیارہ پاکستان نے زمین بوس کیا اور اس کا پائلٹ چائے پی رہا تھا۔۔۔۔رافیل طیاروں کا حقیقی امتحان اْس وقت ہونا تھا جب بھارت نے بالا کوٹ پر سرجیکل سٹرائیک کا ڈھونگ رچایا مگر اس ’’سرجیکل‘‘ کارروائی میں نہ تو کوئی عسکری کامیابی حاصل ہوئی،نہ ہی کوئی ہدف واضح ہوا۔۔۔۔۔ایک ’’کوے‘‘ اور ’’چند درختوں‘‘ کے سوا بھارت کی بمباری کا کوئی ثبوت سامنے نہ آ سکا۔۔۔ پاکستانی دفاعی ماہرین نے جب زمینی معائنہ کیا تو صاف ظاہر ہو گیا کہ بھارت صرف میڈیا کی حد تک حملہ آور ہوا جبکہ عملی میدان میں ناکامی اس کا مقدر بنی۔۔۔۔۔ بھارت کی عسکری ٹیکنالوجی کا حال یہ ہے کہ اس کا اپنا ٹینک ’’ارجن‘‘ گرمی برداشت نہیں کر پاتا،بندوق’’انساس‘‘کی گولیاں اکثر خود پھنس جاتی ہیں اور بحریہ کے جدید ترین آبدوزیں دشمن سے چھپنے کی بجائے،شور مچاتی پائی جاتی ہیں۔۔۔۔۔۔چاند پر اترنے کی دعوے دار ریاست کا اپنا سٹیل پل تباہ ہو جاتا ہے اور فوج کے ہیلی کاپٹرز فنی خرابیوں کے باعث ہر کچھ عرصے بعد زمین بوس ہو جاتے ہیں۔
آج مودی سرکار جس طرح ہر داخلی ناکامی کو پاکستان دشمنی کے غلاف میں لپیٹ کر عوام کے سامنے پیش کرتی ہے، اس سے نہ صرف بھارت کے اندر عوامی شعور کا استحصال ہو رہا ہے بلکہ اس سے علاقائی امن کو بھی سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔۔۔۔میڈیا،فلم انڈسٹری اور کارپوریٹ مفادات کی ملی بھگت سے اب ہر دہشتگردی،ہر دھماکے اور ہر حملے کو پاکستان کی طرف منسوب کر کے سیاسی فائدہ اٹھانا بھارتی حکومت کی حکمتِ عملی بن چکی ہے۔۔۔۔پہلگام حملہ بھی اسی پالیسی کا حصہ ہے۔۔۔۔ایک ایسا واقعہ جو ناصرف جنوبی بھارت کے ناراض ووٹرز کو جذباتی طور پر مودی سرکار کے ساتھ جوڑنے کی کوشش ہے بلکہ پاکستان کو ایک بار پھر عالمی سطح پر بدنام کرنے کا ذریعہ بھی۔۔۔۔مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جس تیزی سے سچائی دبائی جاتی ہے،وہ اتنی ہی شدت سے ابھر کر سامنے آتی ہے۔۔۔۔پلوامہ کی حقیقت کھل چکی،ابھی نندن کا ڈرامہ ناکام ہو چکا،رافیل کی کمزوریاں بے نقاب ہو چکی ہیں۔۔۔اب پہلگام حملے کی حقیقت بھی جلد تاریخ کے اوراق پر رقم ہوگی۔ 
جب ریاستیں اپنے شہریوں کی لاشوں پر سیاست کرنے لگیں اور جدید ٹیکنالوجی کو انسانی جانوں کے خلاف استعمال کیا جائے تو ایسے نظام کا زوال ناگزیر ہوتا ہے۔۔۔۔مودی سرکار کی جھوٹی جنگی سکرپٹس کا ڈراپ سین قریب ہے،بس پردہ گرنے کی دیر ہے۔

مزیدخبریں