جنگ کا ماحول اور ۔۔ وزیر خارجہ اسحق ڈار کے رابطے

09:15 AM, 4 May, 2025

بھارت اپنی بھول بھلیّوں میں ایک مرتبہ پھر منہ کی کھا بیٹھا اور چند ہی دنوں میں اس کا گھمنڈ خاک میں مل کر نیست و نابود ہو گیا ۔ابھی کل ہی کی بات لگتی ہے جب ابھی نندن کو چند چپیڑیں مار کر بھارت کے حوالے کر دیا گیا تھا کہ یہ جا کر بتائے کہ پاکستان ہر دو طرح کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ چاہے تو دشمن کو آن واحد میں دبوچ کر اس کا علاج بھی کرسکتا ہے اور چاہے تو چائے پلا کر خیرسگالی کے جذبے کے تحت معاف کر کے چھوڑ بھی دیتا ہے۔ بھارتی ہٹ دھرمی اپنی جگہ مگر اس کی بے وقوفی ہی کہیئے کہ اس نے ایک مرتبہ پھر بیٹھے بیٹھے گھٹیا پن کرنے کی ٹھانی ۔ پہلے تو جھوٹا واقعہ گھڑنے کی خاطر اپنے ہی بندے مارے ، ان کی جعلی ایف آئی آر اس قدر جلدی میں درج کروائی کہ ان گنت سوالات ہنوز جواب طلب ہیں۔ کچھ ایسی بے ترتیبی ہوئی کہ اپنی پرانی روایت اورگھِسے پٹے اسکرپٹ کے عین مطابق پہلگام کا ڈرامہ ابھی پوری طرح آن ائیر بھی نہیں ہوا تھا کہ اس کا سارا فیتہ پھیتی پھیتی ہو گیا ۔ یہ تو ہم سب جانتے ہیں کہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے مگر یہ پہلی مرتبہ دیکھا سنا اور سمجھا کہ جھوٹ اور جھوٹے بیانئے کی ہنڈیا تمام تر ہوشیاری، مکاری اور چالاکی کے باوجود جب بیچ چوراہے پھوٹتی ہے تو مارے شرم کے چُلو بھر پانی میں ڈوب مرنے کا منظر کیسا ہو تا ہے ۔جیسا کہ ہندوستان کا چالباز اور رنگباز وزیراعظم مودی جو چلا تھا پاکستان کا پانی بند کرنے اور اپنا ناطقہ بند کروا بیٹھا ۔ سندھ طاس معاہدے کی معطلی اور پانی بند کرنے کا خواب دیکھنے والابے چارہ مودی صرف چند پاکستانی یوٹیوب چینلز اور سوشل میڈیا اکائونٹس ہی بند کر سکا اسے زیادہ کچھ نہیں ۔ بھلا ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ فلاپ ڈرامہ رچا کر ایک ملک کسی دوسرے ملک کیساتھ کیا ہوا بین الاقوامی معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم کرنے کا اعلان کر دے ۔ اگر سندھ طاس ایک معاہدہ ہے تو شملہ معاہدہ بھی تو ہے جس کو محض یاد کر کے ہندوستانی خفت و سبکی نمایاں ہو جاتی ہے۔ یہ بات تو طے ہے بھارت پاکستان کا ازلی دشمن ہے اور دشمن بھی ایسا گھٹیا کہ کچھ بھی کر سکتا ہے ، کسی حد تک بھی جا سکتا ہے ۔ ہندتوا کے خمار نے مودی قصائی کی ایسی مت ماری کہ وہ یہ بھی نہ بھانپ سکا یہ 2019 ء نہیں کہ جب اس کی کسی بھی موذی حرکت کا جواب جمعہ جمعہ آدھا گھنٹہ خاموش کھڑے ہو کردیا جائے گا اور بس ۔ بیک جنبش قلم کشمیر کی آئینی حیثیت ہی تبدیل کر دی جائے، کشمیریوں کیلئے زمین مزید تنگ کر دی جائے ۔ اگر کوئی جوابی حکمت عملی تیار کرنے کا کہے تو مہان خان فرمائیں کہ ـ ـ’’ کیا اب ہندوستان پر حملہ کر دوں ؟ ‘‘ ۔مطلب مجھ سے نہیں ہوتا یہ کام ۔ خیر! اب کی بات کریں تو مودی اور مودیئے سب جان چکے ہیں کہ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت رب ذوالجلال نے ایک حافظ کے سپرد کر رکھی ہے ۔پاک سرزمین اب دشمن کے ناپاک عزائم و ارادوں سے مکمل طور پر آگاہ و محفوظ ہے ۔افواج پاکستان کے اک ایک سپاہی اور جوان سے لیکر سپہ سالار حافظ سید عاصم منیر تک پوری کی پوری چین آف کمانڈ نہایت مستعدی اور پیشہ وارانہ صلاحیتوں کیساتھ ہر دم تیار ہے ۔ دفاعی صلاحیت اور فوجی مہارت کے ساتھ ساتھ ایک اور خوش آئند بلکہ حوصلہ افزا عمل یہ ہوا کہ پاکستان کے موجودہ وزیرخارجہ و ڈپٹی وزیراعظم اسحق ڈار نے شبانہ روز مسلسل رابطوں کے ذریعے عالمی سطح پر پاکستانی مؤقف بروقت اور جاندار انداز میں پیش کیا ۔ کہا جا رہا ہے کہ انہوں نے تین دنوں 63 اہم رہنمائوں یاممالک سے رابطے کئے ۔ سب سے بات کی ، انہیں بھارتی فالس فلیگ آپریشن کی حقیقت سے آگاہ کیا ، شفاف ، غیرجانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ دہرایا اور ان تمام ممالک اور عالمی رہنمائوں کو یہ باور کروایا کہ پاکستان دو دہائیوں سے دہشت گردوں سے نبرد آزما ہے۔ دہشت گردی کے عفریت کے خاتمے کیلئے پاکستان کی قربانیاں خود گواہ ہیں کہ پاکستان ایسی کسی مذموم حرکت کی ہرگز حمایت نہیں کر سکتا ۔ دنیا بھر میں پاکستان کے دوست اور برادر ممالک نے توانا ، طاقتوراور کھلی حمایت کا عندیہ دیا۔ کئی برادر ممالک کے سفرا نے وزیراعظم محمد شہباز شریف سے ملاقات کر کے مشکل وقت میں ساتھ کھڑے ہونے کی عظیم مثال پیش کی ۔ اسحق ڈار ایک منجھے ہوئے تجربہ کار سیاسی مدبر اور زیرک شخص ہو نے کے باوصف خاموشی اور محنت سے بھارتی پراپیگنڈہ کا توڑ کر رہے تھے جبکہ عین انہی لمحات میں اندرون و بیرون ملک سے مودیئے کی پیڈ وارئیرزخود اپنے ہاتھوں کی انگلیوں سے اپنے وطن کی بنیادوں کو کھوکھلا کرنے کا قبیح عمل بخوشی سرانجام دے رہے تھے ۔ ڈپٹی وزیراعظم نے پوری کابینہ ، حکومت اور اداروں کا مینڈیٹ لیکر جس سرعت اور اعتماد کیساتھ پاکستان کا مؤقف بین الاقوامی سطح پر اجاگر کیا اس کو دیکھ کر بجا طور پر کہا جا سکتا ہے کہ مضبوط اور بہترین سفارتکاری کے ذریعے ریاست کا دفاع کرنے میں کامیاب رہے یا یوں کہہ لیجئے کہ جنگ سے پہلے کے مرحلے میں پاکستان کو فتح حاصل ہوئی ۔ یہ بات ذہن نشین رکھنی چاہئے کہ سوشل میڈیا میمز بنانے اور مزاح کی حد تک تو اہمیت رکھتا ہے، یہاں ایک دوسرے کا توا تو لگایا جا سکتا ہے ، بے پر کی تو اڑائی جا سکتی ہیں لیکن سنجیدگی کیساتھ مشکل کا سامنا کرنا اور اس مشکل وقت کو اپنے لئے قوت کا ذریعہ بنا لینا واقعی جان جوکھوں کا کام ہے ۔ یہ ہر کسی کے بس کی بات نہیںہوتی ۔ بیان دینے ، بیان داغنے اور زبانی جمع خرچ سے کہیں زیادہ اہم ہے کہ آپ کے پاس یہ صلاحیت ہو کہ آپ ہر محاذ پر اپنے وطن اور اس کی سا  لمیت کا تحفظ کر سکیں۔ میری ذاتی معلومات اور انتہائی معتبر و باوثوق ذرائع کے مطابق ڈپٹی وزیراعظم و وزیرخارجہ اسحق ڈار نے یہ کام بحسن و خوبی سرانجام دیاجس پر پوری ریاست پاکستان اور عوام پاکستان کو ان پر فخر ہے ۔    

مزیدخبریں