ذرا نم ہو تو…

09:12 AM, 4 May, 2025

22 اپریل کو پہلگام، مقبوضہ جموں و کشمیر میں سیاحوں پر حملے میں 26 ہلاکتیں اور کئی مزید زخمی ہونے کے واقعے نے عالمی دگرگوں حالات میں ایک اور اضافہ کر دیا۔ غزہ پر ایک جنونی و حشی مسلط، تقریباً ڈیڑھ سال سے خون کی ندیاں بہانے میں دن رات ایک کر رہا تھا۔ دنیا تو فکر مند ہو گئی کہ بھارت نے ذرا دم نہ لیا اور بلا تحقیق، بلا ثبوت الزام پاکستان پر جڑ دیا۔ مودی دوڑا بھاگا ،سعودی عرب کا دورہ ادھورا چھوڑ کر۔ کشمیر پر اپنے سارے مظالم اور مسلط کردہ 8 لاکھ فوج، بھوک، قتل، قید و بند، بے روزگاری بھلا کر، پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرا دیا۔ دو ایٹمی طاقتوں کے مابین سینگ لڑانے کی اب گنجائش کہاں۔ ایسے میں جب گلوبل چوہدری ٹرمپ سے صحافیوں نے اس بارے سوال کیا تو ٹرمپ نے دنیا کی معلومات میں حیران کن انکشافات کر کے اضافہ کیا!فرمایا کہ ’ہاں کشمیر میں ان کے مابین ایک ہزار سال پرانا تنا زعہ ہے۔ میں بھارت اور پاکستان کے بہت قریب ہوں۔ اس سرحد پر 1500 سال سے تناؤ ہے۔میں یقین رکھتا ہوں کہ وہ اسے کسی نہ کسی طرح سلجھا لیں گے! کمال تو یہ ہے کہ کسی رپورٹر، صحافی نے اس کی تصحیح نہ کی! شاید اس خوف سے کہ ٹرمپ کوئی مزید پھل جھڑی چھوڑ کر رہی سہی عزت بھی نہ گنوا دے۔ قوموں مابین تنازعات بڑی طاقتیں یا بین الاقوامی ادارے حل کیا کرتے ہیں۔ ایسے میں ٹرمپ کی یہ گفتگو اس کی کج فہمی اور لاعلمی کی عکاس ہے۔ ’احمق کی طاقت ‘کے عنوان سے نومبر 2024 ء میں ہملٹن نولان نے 'In These Times'میںلکھا: ٹرمپ ایک لا علم، حد سے زیادہ پر اعتماد، نرگسیت کا مارا احمق شخص ہے۔ وہ زبردست طاقت اور احساسِ ذمہ داری سے نا آشنا ہونے کی دوہری زہریلی خصوصیات کا حامل ہے۔ اس کے احمقانہ فیصلے اس کے مخالفین کے سر پر ہتھوڑے کی ضرب کا سا اثر رکھتے ہیں۔ مثالیں دیتے کہتا ہے کہ کس طرح دنیا ، طاقتور ترین قوم میں ’فوکس نیوز‘ کے میزبان کو سیکرٹری دفاع کے مقام پر نامزد دیکھتی ہے۔ عجیب و غریب، ویکسین میں یقین نہ رکھنے والا شخص صحت کے امور کا ذمہ دار بنا دیا جاتا ہے۔ فراڈ ٹیلی وژن ڈاکٹر میڈی کیٹر سنبھال بیٹھتا ہے۔ جنس زدہ عجب کردار اٹارنی جنرل بنا دیا جاتا ہے۔ وغیرہ وغیرہ ۔سو آج سرتا پا دنیا، نتین یا ہو، ٹرمپ، مودی کے ہاتھوں جھٹکے کھا رہی ہے۔ عقل ودانش کا کہیں گزر نہیں!
 تینوں کردار صرف اپنی کرسی کی خاطر دنیا زیر وزبر کرنے پر تلے بیٹھے ہیں۔ ایٹمی بٹن تین دیوانوں کے ہاتھ میں ہے! بھارت خود ہندوتوا ہنگاموں سے ہٹ کر دیکھیے تو کئی ریاستوں میں آزادی کی تحریکوں، باہمی الجھاؤ و شورشوں کا شکار ہے۔ بھارت پاکستان کشیدگی روز اول سے چلی آرہی ہے جو مودی تک پہنچتے خونخوار ہو 
گئی ہے سارے قاعدے قانون توڑ کر!
مقامی مسلم آبادی اور مقبوضہ کشمیراس روز افزوں مبنی بر نفرت ظلم و جبر کا نشانہ بنتے ہیں۔ پہلگام سے پہلے بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو نشانہ بنانے کے لیے بار بار کئی ڈرامے رچائے گئے۔ بھارتی عوام کی اکثریت نے پہلگام کو رد کیا ہے اور عالمی ردِ عمل بھی مودی سرکار کی توقعات کے بر عکس رہا۔ بلا جواز بہانے تلاش کرتے بھارتی مسلمانوں اور کشمیریوں کے گھروں، دکانوں، مساجد کو اسرائیلی طرز پر بلڈوز کرنا بھارت میں معمول بن چکا ہے۔
 پاکستان ،بھاری بھر کم جذباتی بیانات سے بڑھ کر مدبرانہ، حقیقت پسندانہ سفارت کاری سے اس مسئلے کو حل کرے۔ جس طرح اسرائیل کی حقیقت غزہ پر حملوں کے نتیجے میں دنیا کے کونے کونے تک پہنچانے میںہر فلسطینی نے زبردست کردار ادا کیا۔ کشمیر کے 77 سال سے رستے زخم عین اسی طرح اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔ ہماری سفارت کاری اور ہر پاکستانی جو دنیا کے کسی بھی گوشے میں ہے، بھارت کی حقیقت سے دنیا کو آگاہ کرے۔ خود کشمیری، فلسطینیوں کی مانند متحد و متحرک ہوں۔تاکہ اقوام متحدہ میں منجمد پڑی قرار دادیں حقیقت کا روپ دھاریں اور آزادیٔ کشمیر کی راہ ہموار ہو۔ 
افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ!
 پاکستان کو بہ حیثیت قوم بیدار، متحد اور ہوش مند ہونا ہوگا۔ ’جنگ کھیڈ نئیں ہوندی کرکٹ دی!‘ پوری نوجوان نسل اور پھر سیاست کو بھی کرکٹ میں جھونک دیا۔ امریکہ کی عالمی دہشت گردی کی جنگ کا حصہ بن کر لا منتہا تنازعات اپنے ملک میں مول لے لیے۔ بلوچستان کا مسئلہ گھمبیر ہوا چلا جا رہا ہے۔ آنے والے وقت بے پناہ چیلنج لیے آ رہے ہیں۔ نظریں چراتے رہیے مگر احادیث میں نبی صادق صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشین گوئیاں (جن کا منبع وحیٔ خفی ہے) پوری ہو رہی ہیں۔ صیہونی یہودی و عیسائی قدم بہ قدم ان ہی کے مطابق چل رہے ہیں۔ یہ محض اتفاق نہیں ہے کہ ٹرمپ نے نائب صدارت پر ہند و امریکی وینس کو بٹھارکھا ہے۔ پہلگام پر حملے کے وقت وینس اپنی ہندو بیوی، ہندو بچوں کوہندو مذہبی زیار تیں کروانے بھارت میں بیٹھا تھا۔ وہیں سے بھارت کو پچکار نے، ہمت دلانے کا کام بھی کیا! غزہ جنگ میں بھارتیوںکی براہ راست اور بالواسطہ شرکت رہی۔ ہندو فوجی بھی لڑے۔ فلسطینی فیکٹری ملازمین اور مزدوروں کی کمی بھی بھارتیوں نے پوری کی۔ غزوۂ ہند ہم سے بڑھ کر (ہندوتوا کے پس منظر میں) ہندوؤں کے لاشعور میں پیوست ہے۔ بنگلہ دیش میں بیداری، بھارت سے شدید بیزاری، پاکستان سے ہمدردی اور محبت کی لہر بلا سبب نہیں۔ مگر اس کے لیے ایک قوم، یک جان یک جہت ہونا ہوتا ہے جو اس وقت بنگلہ دیش کی کیفیت ہے! ہمیں سیکولر ازم کا دھتورہ پلا کر اپنی شناخت بھلا دی گئی گزشتہ بیس بائیس سالوں میں۔ 
بھارت کے مقابلے کے لیے اسلام ہی واحد بنیادِ بقا ہے۔ اس کا فہم بکھری قوم کو یک جا کر سکتا ہے ہم نے انگریز اور ہندو کو دانت کچکچاتے چھوڑ کر پاکستان بننے کا معجزہ ہوتے دیکھا۔ اس کی وجہ، واللہ نظریۂ پاکستان پر اقبال اور جناح کی یکسوئی اور مسلمانوںکا صرف اسلام کی بنیاد پر ’پاکستان‘ کے حصول کا مرکز و محور ہونا تھا۔ اسی کی خاطر ہجرت ہوئی۔ یہ وہ حقیقت ہے جیسے جھٹلانا پاکستان دشمنی ہے۔
 جان لیجیے کہ پاکستانی فطرتاً جذباتی قوم ہے۔ لاشعور میں، بے عملی کے باوجود، ایمان باللہ، ایمان بالرسالت اور ایمان بالآخرۃ موجود ہے۔ جانتے ہیں کہ موت برحق ہے۔ شہادت پر ایمان کا یہ عالم ہے کہ کھینچ تان کر مرنے والوں کو کسی نہ کسی طور ’شہید‘ قرار دنیا ضروری ہے! ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی! (فلسفۂ شہادت پر تو ہندو کی بھی رال ٹپکتی ہے، اپنے مرداروں کو شہید کہہ گزرتے ہیں!) غزہ نے زندگی اور موت کی حقیقت اور شہادت کی عظمت دنیا کو پڑھا دی ہے۔ ان کے صبرو ثبات، بے مثل استقامت کے پس پردہ شہادت کے ذریعے دائمی زندگی کی راحتوں پر ایمان نے مغرب میں قبولیت اسلام کے دروازے کھول دیئے۔ ملک کو معاشی بحالی کی طرف فوری لائیے تا کہ کفر (آئی ایم ایف، ورلڈ بینک، امریکہ) کی محتاجی سے نجات پائیں۔ ہنگامی بنیادوں پر قومی اموال کی بچت لازم ہے۔ بھاری بھر کم تنخواہیں (لاکھوں میں) اور مراعات میں کٹوتی کریں۔ ای لون مسک سے بچت پالیسی کا کچھ حصہ مستعار لیا جا سکتا ہے۔ ورنہ افغان حکومتی اہل کاروں، وزراء کی تنخواہوںکا ایمان افروز پیمانہ تو موجود ہے ہی۔ (مگر ا مریکہ نے ہمیں ان سے لڑنے کی راہ پر ڈال دیا ہے!) بھارت سے جنگ کی صورت میں، وہ یہ خوب جانتا ہے کہ مسلمان کمزور ترین ایمانی حالت میں بھی تکبیر بلند کرکے سینے پر گولی کھا کر جان دینا اپنی سعادتِ عظمیٰ سمجھتا ہے۔شہادت ہے مطلوب و مقصود مومن! بھارت یہ حماقت مول نہیں لے گا۔ ابھی نندن کا واقعہ زیادہ پرانا تو نہیں! اہل غزہ سے یک جہتی پر ملک گیر ہڑتال اس پر دلیل ہے کہ قوم ابھی زندہ ہے۔ جماعت اسلامی کے ووٹر تو گنتی کے ہوں گے مگر فلسطین پر دکھی دل گنتی شمار سے باہر ہیں۔’ نہیں اقبال ناامید اپنی کشت ویراں سے!‘امریکہ اندرونی طور پر شدید انتشار کا شکار ہے، اس سے امید باندھنی چھوڑ کر اللہ کی طرف پلیٹیں۔ اگر بھارت نے میلی آنکھ سے دیکھا تو اہل دین کو قوم کی بیداری سونپ دیں۔ ’اٹھ باندھ کمر کیا ڈرتا ہے، پھر دیکھ خدا کیا کرتا ہے‘۔ واسع المغفرۃ اور رحمۃ واسعۃ ( مغفرت اور رحمت دونوں کے خزانوں کا مالک)، کے وعدوں والا رب ہمارے لیے کافی ہے۔ فلسطینیوں سے حسبنا اللہ و نعم الوکیل کہنا سیکھیے۔ سیاسی پارٹیوں نے حکومتوں اور اربوں روپے کے مزے لوٹے ہیں۔فلسطین پر تو سیاسی جماعتیں گنگ رہیں!اب فرض کی طرف آئیے جو آپ پر قرض ہے!۔

مزیدخبریں