اقتصادی جنگ کو ترجیح بنائیں

09:11 AM, 4 May, 2025

ویسے تو پاک بھارت تعلقات کبھی بھی آئیڈیل نہیں رہے اوراس کشیدگی میں وقتاً فوقتاً خاطر خواہ اضافہ بھی ہو جاتا ہے۔ بھارت کی ہٹ دھرمی اور بھر پور ڈھٹائی پسند رویے کی وجہ سے گزشتہ کچھ ہفتوں سے ایک مرتبہ پھر سے دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی اپنے عروج پر ہے۔ اس کشیدگی کی زد میں کچھ معاملات تو براہ راست آ جاتے ہیں لیکن بے شمار معاملات ایسے بھی ہیں کہ جن کا اس کشیدگی یا جنگی صورتحال سے براہ راست تعلق نہ ہونے کے باوجود وہ متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ اس میں ایک سٹاک ایکسچینج بھی ہے۔ باہر سے دیکھنے والے کو تو لگتا ہے کہ کسی بھی بارڈر ٹینشن سے اس شعبہ کا کیا لینا دینا ہو سکتا ہے لیکن حقیقت میں سٹاک ایکسچینج ایک ایسا حسا س شعبہ ہے جو کسی بھی ملکی یا بین لاقوامی صورتحال کا اثر فوری طور پر اور کافی گہرائی سے لیتا ہے۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ سرمایہ کار بہت محتاط رویے اختیار کر تاہے بلکہ اگر یہ کہا جائے تو زیادہ غلط نہ ہو گا کہ وہ بزدلی کی حد تک محتاط ہوتا ہے۔ 
حالیہ پاک بھارت بارڈر ٹینشن میں پاکستانی سرمایہ کار نے تو روائتی طرزعمل ہی اپنایا ہے اور اس کشیدگی کے بعد پاکستان کی سٹاک مارکیٹ میں مستقل ہلچل لے اور یہ غوطے کھا رہی ہے، لیکن حیرت انگیز طور پر بھارت کا سرمایہ کار اس صورتحال کے خلاف ڈٹ کے کھڑا دکھائی دے رہا ہے۔ پاکستان اور بھارت کی سٹاک مارکیٹس اپنی معیشتوں، سرمایہ کاروں کے جذبات اور جغرافیائی سیاسی موقف میں بنیادی طاقتوں اور کمزوریوں کو ظاہر کرتی ہیں۔ اگرچہ موجودہ حالات میں دونوں ممالک ایک ہی جیسی صورتحال سے دوچار ہیں لیکن اسٹاک مارکیٹ کے ردعمل میں فرق حیران کن ہے ۔ پاکستان کے معاملے میں، اسٹاک ایکسچینج میں گراوٹ کو اندرونی اور بیرونی خطرات کا ایک کارکٹیل قرار دیا جا سکتا ہے جو بارڈر کی کشیدگی کے ردعمل میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے۔
اس میں تو کسی کو کوئی شک و شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان کی معیشت کا بنیادی ڈھانچہ انتہائی کمزور ہے، مالیاتی خسارے،زرمبادلہ کے ذخائر میں کمی، بیرونی قرضے پر انحصار اور افراط ز میں اضافے جیسے مسائل کی وجہ سے پاکستان کی معیشت ہر وقت ہانپتی رہتی ہے۔ اس وقت ملک ایک آئی ایم ایف پروگرام کے زیر اثربھی ہے جو سخت مالیاتی اور انتظامی پالیسیاں نافذ کرتا ہے، جس میں سبسڈی میں کٹوتی، یوٹیلٹی بلوں میں اضافہ اور سود کی شرح میں اضافے شامل ہیں۔اس قسم کی صورتحال میں پہلے ہی سے نازک کاروباری ماحول پر دباؤ مزید بڑھ جاتا ہے۔ 
 جغرافیائی اور سیاسی تناؤ کے ماحول میں، مارکیٹیں عام طور پر غیر یقینی صورتحال کے باعث منفی رد عمل ظاہر کرتی ہیں، اور پاکستان کے معاملے میںتو، یہ غیر یقینی صورتحال نہ صرف بیرونی ہے بلکہ اس کے داخلی معاملات بھی کوئی آئیڈیل نہیں ہیں۔اگرچہ پاکستان سٹاک ایکسچینج نے ماضی قریب میں غیر معمولی کارکردگی دکھائی ہے اور سرمایہ کاروں نے یہاں سے خوب مال بھی کمایا ہے لیکن اسے حکومتی پالیسیوں کی ناکامی ہی کہیں گے کہ آج سرمایہ کاروںکے خوف اور خدشات کو رفع کرنے کے لیے کوئی بھی خاطر خواہ اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ اس کے بالکل برعکس، ہندوستانی اسٹاک ایکسچینج نے قابل ذکر لچک دکھائی ہے اور شائد یہ استحکام ہی بھارتی حکومت کی حد سے زیادہ اکڑ کا سبب ہے۔لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ صورتحال بھارت کے مضبوط بنیادوں پر کھڑے ہوئے معاشی نظام پر پر عالمی سرمایہ کاروں کے اعتماد کی وجہ سے ہے۔
ایک خبر کے مطابق پاکستان سٹاک ایکسچینج کو ایک ہفتہ کے دوران 4316پوائنٹس کا نقصان ہوا ہے جبکہ بھارت کی سٹاک مارکیٹ میں خاصہ مثبت رجحان رہا ہے۔ ویسے تو کسی بھی قسم کی جنگی صورتحال تباہی کا پیغام ہی لاتی ہے لیکن پاکستان اس صورتحال کا اس طرح سے فائدہ اٹھا سکتا ہے کہ وہ سنجیدگی سے غور کرے کہ وہ کن لائنوں پر کام کرتے ہوئے اپنی اقتصادی صورتحال کو بہتر بنائے اور اپنے سرمایا کار کو تحفظ دے۔ کیونکہ یہ بات سمجھنے کی ہے کہ دور حاضر کی جنگیں اور ٹینکوں، توپوں اور جنگی جہازوں سے نہیں بلکہ اقتصادی پالسیوں کے ذریعے لڑی اور جیتی جائیں گی۔ 
ا گر تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ماضی میں تو صرف عسکری طاقت کو ہی قوت اور سیکیورٹی کے ساتھ مربوط کیا جاتا تھا اور اسلحے کے ڈھیر کو ہی جارحیت اور قومی طاقت کے مظہر کے طور پر دیکھا جاتاتھا۔ تاہم، جدید دنیا میں، اقتصادی استحکام نے طویل مدتی قومی خوشحالی اور عالمی اثر و رسوخ کے لیے ایک زیادہ پائیدار اور فائدہ مند بنیاد فراہم کی ہے۔ لامحدود عسکری توسیع کے بجائے اقتصادی استحکام نہ صرف ایک قوم کی سرحدوں کے اندر امن کو فروغ دے سکتا ہے بلکہ بین الاقوامی تعلقات کے استحکام میں بھی ایک کردار ادا کرسکتا ہے۔ ایک مضبوط معیشت روزر گار کے مواقعے فراہم کرتی ہے، زندگی کے معیار کو بہتر بناتی ہے، عدم مساوات کو کم کرتی ہے، اور صحت کی دیکھ بھال اور تعلیم تک رسائی بڑھاتی ہے۔ جب لوگوں کی بنیادی ضروریات پوری کی جاتی ہیں اور اوپر کی طرف بڑھنے کی امید ہوتی ہے، تو معاشرے کا سماجی ڈھانچہ مضبوط ہوتا ہے، اس طرح ایک طرف تو داخلی کشیدگی یا خانہ جنگی کے امکانات کم ہوتے ہیں تو دوسری طرف عسکری اخراجات کی وجہ سے عوام کو سہولیات مہیا کرنے میں رکاوٹ کو دور کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی بڑی مشکل یہ ہے کہ ایک طرف تو اسے ان قوتوں کا سامنا ہے جو نہیں چاہتیں کہ دنیا ، بالخصوص تیسری دنیا ،میں امن ہو، تاکہ وہ ان ممالک کی بنیاد پر اپنے اسلحہ بنانے والے کارخانوں کو منافع بخش بنا سکیں اور انہیں قرضوں کے چنگل میں پھنسائے رکھیں، دوسری طرف بھارت جیسا ہٹ دھرم ہمسایہ موجود ہے جو دہشت گردی، سازشوں اور دیگر منفی ہتھکنڈوں سے پاکستان کا امن برباد کرنے اور اس کی اقتصادی ترقی کو بریک لگانے کی کوششوں میں لگا رہتا ہے۔ ان دو عناصر سے نمنٹنا تو کسی نہ کسی طور ممکن ہے لیکن جو لو گ اندر سے پاکستان کی جڑیں کھوکھلی کرنے کے درپے رہتے ہیں ان سے نمٹنا خاصا مشکل ہے۔ 
اس جنگی صورتحال اور اس کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اقتصادی صورتحال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہم اس وقت بیرونی دشمنوں کے ساتھ ساتھ اندونی دشمنوں کی بھی نشاندھی کریں اور جس جوش جذبہ کے ساتھ بھارت سے مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں اسی جذبہ سے ملک کے اندرونی دشمنوں، غربت، بے روزگاری ، لاقانونیت اور جہالت کے خلاف بھی اعلان جنگ کر دیں۔ کیونکہ پاکستان کی ترقی اسی وقت ممکن ہے کہ جب ہم بھارت جیسے دشمن کو نیچا دکھانے کے ساتھ ساتھ غربت، بیروزگاری، جہالت، لاقانونیت اور تفرقے بازی کو بدترین شکست دیں۔

مزیدخبریں