ایران بحران: واشنگٹن اور میڈرڈ میں ٹھن گئی، اسپین کا فوجی اڈے دینے سے انکار، ٹرمپ کی معاشی جنگ کی دھمکی

03:29 PM, 4 Mar, 2026

میڈرڈ / واشنگٹن : ایران پر ممکنہ امریکی حملے نے واشنگٹن اور اس کے دیرینہ یورپی اتحادی سپین کے درمیان ایک سنگین سفارتی بحران پیدا کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق اسپین نے امریکہ کو اپنی سرزمین اور مشترکہ فوجی اڈے ایران کے خلاف استعمال کرنے سے روک دیا ہے، جس کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات دہائیوں کی کم ترین سطح پر پہنچ گئے ہیں۔
ہسپانوی حکومت نے دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی کے لیے ہسپانوی اڈوں کا استعمال بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہو گا، لہٰذا میڈرڈ اس کا حصہ نہیں بنے گا۔ اسپین کے اس فیصلے نے نیٹو (NATO) اتحاد کے اندر پالیسی سازی کے سنگین اختلافات کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسپین کے اس انکار کو "بزدلی اور عدم تعاون" سے تعبیر کرتے ہوئے سخت تنقید کی ہے۔ صدر ٹرمپ نے میڈرڈ کو خبردار کیا کہ اگر اس نے امریکی فوجی مہم میں رکاوٹ ڈالی تو واشنگٹن اسپین کے ساتھ تمام تجارتی اور معاشی تعلقات منقطع کر دے گا۔
امریکی دھمکیوں کے جواب میں  سپین نے حیران کن طور پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ   سپین کسی بھی قسم کی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے اور اپنی معیشت کا دفاع کرنے کی پوری صلاحیت رکھتا ہے۔    واشنگٹن کو یاد رکھنا چاہیے کہ دوطرفہ معاہدے برابری کی بنیاد پر ہوتے ہیں، حکم کے تحت نہیں۔    عالمی استحکام کے لیے امریکہ کو بین الاقوامی ضابطوں کا احترام کرنا ہوگا۔

مزیدخبریں