تہران : ایران نے مشرق وسطیٰ میں امریکا کے فوجی اڈوں پر حملوں میں 160 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا ہے، جب کہ 650 مزید زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔ ایرانی فوج نے ان حملوں کو خلیج میں امریکا کی اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کا حصہ قرار دیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے بحر ہند میں ایک ایندھن بھرنے والے امریکی جہاز پر بھی میزائل سے حملہ کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی، ایران نے اسرائیل کے خلاف میزائل اور ڈرونز سے تازہ حملوں کا آغاز کیا ہے اور آپریشن وعدہ صادق 4 کی 16ویں لہر کی بھی اعلان کیا ہے۔ ایرانی حکام کے مطابق، اس آپریشن کے تحت اسرائیل کی اہم عسکری اور سٹریٹیجک تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
دبئی میں امریکی قونصل خانے پر بھی ڈرون حملہ کیا گیا، جس کے نتیجے میں عمارت کے کچھ حصوں میں آگ لگ گئی اور آسمان پر سیاہ دھواں پھیل گیا۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکے کی آواز دور تک سنائی دی، جس سے علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔
اسرائیل میں ایران کے حملوں کے بعد شدید اضطراب ہے، اور اسرائیلی فوج نے ملک بھر میں الرٹ جاری کرتے ہوئے شہریوں کو بنکرز میں پناہ لینے کی ہدایت کی ہے۔ اسرائیل کے مختلف علاقوں، خاص طور پر مقبوضہ رام اللہ اور بیت شیمش میں ایرانی میزائلوں کے ملبے سے عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جس سے اسرائیل میں مزید خوف و ہراس کی فضا پیدا ہو گئی ہے۔