چودہویں پارے  کا خلاصہ  سورۃ الحجر

09:11 AM, 4 Mar, 2026

چودہویں پارے کے شروع میں کفار کی ایک تمنا کو ذکر کیا جا رہا ہے موت اور حشر کے بعد جب مسلمان کو جنت میں مقامات ملیں گے اور کافر کو جہنم میں عذاب ملے گا اور ہر آئے دن اس کے کسی خاص کفر کی وجہ سے عذاب میں ترقی ہو گی تو پھر ہر موقع پر کافر یہ تمنا کریں گے کہ اے کاش! ہم بھی مسلمان ہوتے۔ پھر حفاظت ِ قرآن کی ذمہ داری کو بیان کیا اللہ رب العزت نے فرمایا کہ قرآن مجید ہم نے ہی نازل کیا ہے اور اس قرآن کریم کی حفاظت بھی ہم ہی کریں گے۔ قرآن کریم کے علاوہ دیگر کتب کی حفاظت کی ذمہ داری اللہ تعالیٰ نے نہیں لی بلکہ علماء توراۃ وانجیل کو دی تو وہ کتب محفوظ نہ رہ سکیں۔ قرآن کے الفاظ ومعانی دونوں کے اللہ تعالیٰ خود محافظ ہیں۔ اس لیے قرآن کے الفاظ ومعانی قیامت تک محفوظ رہیں گے۔ اس کے بعد تخلیقِ آدم علیہ السلام کا قصہ ذکر کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالی نے آدم علیہ السلام کو اپنے دست قدرت سے پیدا فرمایا پھر ان میں روح کو ڈالا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے شیطان کے غرور اور گمراہی کو بیان فرمانے کے بعد شیطان اور ان کے پیروکاروں کے انجام بد کو بیان فرمایا۔ گزشتہ آیات میں اہل جہنم کاذکر تھا اب اہل جنت اور ان کے لیے انعامات کا ذکرفرمایا کہ وہ جنت میں باغات اور چشموں میں رہیں گے۔ اہل جنت کے سینوں میں باہم جو کچھ رنجش ہوگی وہ نکال دی جائے گی اور وہ بھائی بھائی بن کر رہیں گے۔ پھر آگے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے ان مہمان فرشتوں کاذکر فرمایا جو انہیں بیٹے کی خوشخبری دینے اور قوم لوط علیہ السلام کو برباد کرنے کیلیے انسانی شکل میں تشریف لائے تھے۔ اس کے بعد اصحاب الحجر کا ذکر کیا وادی حجر میں قوم ثمود آباد تھی۔ ان کی طرف حضرت صالح علیہ السلام کو پیغمبر بنا کر بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے اپنی قوم کو دعوت دی لیکن قوم نے آپ کو جھٹلایا جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے اس قوم کو ایک ہیبت ناک آواز کے ذریعے ہلاک کر دیا۔ سورۃ فاتحہ کو قرآن عظیم کہنے کی وجہ کو بیان کیا ہے اے پیغمبر! ہم نے آپ کو ایسی سورۃ عطا کی جو بار بار پڑھی جاتی ہے۔ ''قرآن عظیم'' سے مراد سورۃ الفاتحہ ہے۔ گویا ایک طرح سے فاتحہ بھی پورا قرآن ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جو اہم اور بنیادی مضامین پورے قرآن میں بیان فرمائے ہیں ان کا خلاصہ اور نچوڑ سورۃ الفاتحہ میں ذکر کردیا ہے۔ توحید، رسالت، قیامت، احکامات،  ماننے والے اور نہ ماننے والے۔ پھر علیٰ الاعلان تبلیغ کا حکم دیا اس حکم  کے نازل ہونے سے پہلے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام ؓپوشیدہ طور پر عبادت کیا کرتے تھے۔ اسی طرح تبلیغ کا سلسلہ بھی پوشیدہ ہوا کرتاتھا۔ اس کے بعد  اعلانیہ طور پر عبادات اور تبلیغ کرنے کا حکم دیاگیاہے۔ اس سورۃ کے آخر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پوری زندگی عبادت کرنے کا حکم دیا گیا ہے کہ اے پیغمبر! آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی پوری زندگی عبادت کریں یہاں تک اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو اپنے پاس بلالیں۔ اس عبادت سے مراد تکلیفی عبادت ہے جس کے کرنے پر اجر وثواب ملتاہے۔ ایک عبادت قبر والی ہے جس کا ذکر حدیث پاک میں ہے۔ یہ تلذذی عبادت ہے اس پر اجروثواب نہیں۔ توقرآن کریم کی یہ آیت؛ حدیث پاک اور قبر والی عبادت کے خلاف نہیں ہے۔ 
   سورۃالنحل
 ''نحل'' شہد کی مکھی کو کہتے ہیں۔ اس سورۃ میں شہد کی مکھی کا ذکر ہے اس لیے اس سورۃ کا نام ہی سورۃ النحل رکھ دیا گیا ہے۔ اس سورۃ میں بنیادی طور پر دوچیزیں بیان کی گئی ہیں: انسان کے فائدے کیلئے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کاذکرکرکے مشرکین کو توحید کی دعوت دی گئی ہے اور شریعت ِاسلامیہ کے چند ایک احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ اس سورۃ کے شروع میں انسان کی اصلیت اور اسکی ناشکری کو بیان کیا کہ انسان کو ایک حقیر وذلیل اور بے قدر نطفے سے پیدا کیا گیا لیکن جب اسے قوتِ گویائی اور دیگر صلاحتیں دے دی گئیں تو جس ذات نے اسے ایک ناپاک اور بے وقعت قطرے سے پیدا کیا؛ اسی کی ذات اور مخصوص صفات میں شریک ٹھہرا کر جھگڑا کرنے لگا۔ اس کے بعد  اللہ تعالیٰ ان نعمتوں کوبیان فرمارہے ہیں جو انسانوں کے فائدے کیلئے پیدا کی گئی ہیں جیسے جانور؛ ان کی اون سے کپڑے بنائے جاتے ہیں، کھال سے پوستین وغیرہ بناتے ہیں جو انسان کو سردی سے محفوظ رکھتے ہیں۔ مزید یہ کہ جانور انسان کے لیے بطور غذا بھی کام آتے ہیں، ذبح کرکے گوشت کھایاجاتاہے، دودھ پیاجاتاہے۔ ان پر بوجھ لاداجاتاہے جسے وہ ایسے مقام تک لے جاتے ہیں جہاں تک انسان بغیر سخت مشقت کے نہیں لے جاسکتا۔ اسی طرح انسان ہی کے فائدے کیلیے گھوڑے، خچر اور گدھے پیدا فرمائے تاکہ یہ انسان کی سواری کے کام آئیں اور انسان کے لیے زینت کاسامان بھی بن جائیں۔ نزول قرآن کے بعد بھی مزید اللہ تعالیٰ ایسی چیزیں پیدافرمائیں گے جن کا انسان کو علم بھی نہیں۔ موجودہ دور کی نوایجاد گاڑیاں جیسے بسیں، ریل اور جہاز وغیرہ۔ ترقی کے ساتھ ساتھ جتنی بھی جدید اور نئی گاڑیاں قیامت تک دریافت/ایجاد ہوتی جائیں گی وہ سب اس آیت کے مفہوم میں داخل رہیں گی۔ ان انعامات کو بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان ان نعمتوں سے فائدہ حاصل کریں اورپھر ان پر اللہ تعالی کا شکر ادا کریں۔ پھر سمندر کے فوائد کو بیان کیا کہ وہی ذات ہے جس نے سمندر تمہارے لیے مسخر کر دیے ہیں یعنی تمہارے کام پر لگا دیے ہیں تاکہ تم اس میں سے تازہ گوشت کھاؤ اس سے مراد مچھلی ہے۔ اور اس میں سے زیورات نکالو جنہیں تم پہنتے ہو۔ پھر کشتیوں اور بحری جہازوں کا ذکر کیا جن سے تجارت ہوتی ہے اور دیگر فوائد ملتے ہیں۔ اسی طرح زمین، اس میں راستے، دریا، آسمان کے ستارے اور دیگر نعمتوں کا ذکر فرما کر ان نعمتوں پر شکر کی ترغیب دی۔ پھر متکبرین سے کئے جانے والے سوال کو ذکر کیا متکبرین سے جب سوال کیا جائے کہ تمہارے پروردگار نے کیا بات نازل کی ہے؟ تو وہ کہتے ہیں کہ یہ پہلے لوگوں کی من گھڑت کہانیاں اور افسانے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرمارہے ہیں کہ ان باتوں کا نتیجہ یہ ہے کہ قیامت کے دن یہ لوگ خود اپنے گناہوں کے پورے پورے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور ان لوگوں کے بوجھ بھی جن کو یہ بغیر علم کے گمراہ کررہے ہیں اور یہ بوجھ بہت ہی برا ہے جس کو یہ اٹھارہے ہیں۔ پھر  یہی سوال  متقین سے پوچھا جارہاہے کہ تمہارے پروردگار نے کیابات نازل فرمائی ہے؟ تو وہ اپنے تقویٰ کی روشنی میں یوں جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے خیر کی بات اتاری ہے۔ آگے ان کے نتیجے کو بیان کیا کہ ان کیلئے دنیا میں بھی بہتری ہے اور آخرت کا گھر تو ہے ہی سراپابہتری جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔اس کے بعد منکرین رسالت کے شبہ کا جواب دیا جا رہا ہے منکرین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت کا انکار اس وجہ سے کررہے تھے کہ آپ بشر اور انسان ہیں۔ ان کے خیال کے مطابق کسی انسان وبشر کو رسول نہیں ہوناچاہیے۔ انہیں بات سمجھائی کہ ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جتنے بھی انبیاء بھیجے ہیں وہ سب بشر اور انسان ہی تھے۔ اے منکرو! اگر تمہارے پاس علم نہیں ہے تو اہلِ علم سے پوچھ لو۔ 
پہلے مشرکین کی بے انصافی بیان کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے لیے اولاد بھی مانتے ہیں لیکن وہ جنس(بیٹیاں) جسے خود قبول کرنے کیلیے تیار نہیں۔  اب ان کی ایک بری عادت کو بیان کیاجارہاہے کہ اگر ان کے ہاں لڑکا پیداہوتوخوش ہوتے ہیں اور جب ان میں سے کسی کے ہاں بیٹی کی پیدائش ہوتی تو ان کا چہرہ سیاہ ہوجاتااور اسے اتنابرا سمجھتے کہ لوگوں سے منہ چھپاتے پھرتے۔ اور سوچتے رہتے کہ ذلت برداشت کرکے اسے اپنے پاس رکھ لیں یا پھر زمین میں دبادیں۔ یہ کتنا برا فیصلہ ہے جو وہ کررہے ہیں۔ پھر کچھ آیات تک اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی نعمتوں کو بیان کیاجارہا ہے۔ ان میں سے دودھ  جو گوبر اور خون کے درمیان سے آتاہے اور بالکل صاف شفاف ہوتا ہے نہ تواس کے رنگ میں فرق آتاہے اور نہ ہی اس کے ذائقہ میں، پینے والوں کے لیے خوشگوار ہے۔ پھلوں میں سے بہترین پھل کھجوراور انگورکاذکر کیا جن کو کھایابھی جاتا ہے اور ان سے مشروب بھی بنایاجاتاہے۔ اور یہ پاکیزہ رزق ہے۔ تیسری نعمت شہد کاذکر کیا جس میں بہت زیادہ فائدے ہیں ان میں سے ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں لوگوں کیلئے شفا رکھی ہے۔ لیکن اس کے استعمال سے پہلے کسی ماہر سے یہ معلوم کرلینا چاہیے کہ اس کو کب استعمال کرنا ہے اور کس چیز کے ساتھ استعمال کرناہے؛ پھر اس کا پورا فائدہ ہوتا ہے۔ اور خاص طور پر شہد کی مکھی کے چھتے بنانے کی ترتیب کو بیان کیا جس میں وہ عجیب وغریب طریقے سے صنعت کاری کرتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا کہ اپنے چھتے کو زمین کی گندگی سے بچاکر پاک صاف اور بلند جگہ یعنی پہاڑوں یا درختوں پر بنائے۔ اللہ تعالیٰ کی ان نعمتوں میں ان لوگوں کیلئے نشانیاں ہیں جو ان میں غوروفکر کرتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ  نے اپنی صفتِ خاصہ علم ِ غیب کو بیان کیا آسمان وزمین کی تمام پوشیدہ باتیں صرف اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور کے علم میں نہیں ہیں۔ ان غیوبات میں سے ایک بڑی چیز قیامت کا معاملہ ہے جسے اللہ تعالیٰ آنکھ جھپکنے یا اس سے بھی پہلے پہلے ظاہر فرمادیں گے۔ اس کا علم بھی صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ 
اس پارے میں یہ بھی بیان کیا ہے کہ قیامت کے دن ہرامت میں سے ان پر انہی میں سے ایک گواہ کولائیں گے۔ مراد اس سے ہر امت کے نبی ہیں۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی لائیں گے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم سابقہ نافرمان امتوں کے خلاف اور سابقہ انبیاء  علیہم السلام کے حق میں گواہی دیں گے۔ اور ایک قول کے مطابق آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے اہل ایمان کے ایمان کی اور اہل کفر کے کفر کی گواہی دیں گے۔ حدیث پاک میں ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے امت کے اعمال پیش کیے جاتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اچھے اعمال پر اللہ تعالیٰ کا شکر اداکرتے ہیں اور برے اعمال پر اللہ تعالیٰ سے ان کے لیے استغفارکرتے ہیں۔اس کے بعد قرآن کریم کی جامع ترین آیت کو بیان کیا ہے۔ اس میں اللہ تعالیٰ نے تین چیزوں کے کرنیکا حکم دیاہے اور تین چیزوں سے منع فرمایاہے۔ اللہ تعالیٰ انصاف کرنے، بھلائی کرنے اورقریبی رشتے داروں کوان کے حقوق دینے کا حکم دے رہیں۔ اور بے حیائی، بدی اور ظلم وزیادتی کرنے سے منع فرما رہے ہیں۔ گویا اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے مختصراً پورے دین اسلام کوسمیٹ کر رکھ دیاہے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے قرآنی آیات میں نسخ پر ہونے والے شبہ اور اس کے جواب کو بیان کیا ہے اللہ تعالیٰ حکیم ذات ہیں اور کبھی کبھی اپنے احکامات میں تبدیلی فرماتے ہیں یعنی ایک حکم تبدیل کرکے اس کی جگہ دوسراحکم نازل فرمادیتے ہیں۔ مشرکین آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض کرتے ہوئے کہتے کہ احکامات کو تبدیل کیوں کیا جارہا ہے؟  اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہیں بلکہ آپﷺ اپنی طرف سے گھڑ کرلاتے ہیں۔ انہیں جواب دیاکہ یہ قرآن گھڑاہوا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف حق اور سچ ہے جسے حضرت جبرائیل امین علیہ السلام کے ذریعے نازل کیاگیاہے۔ 
اس پارے میں اسلام کے سب سے پہلے شہداء کے بارے میں آیت نازل فرمائی صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی جماعت وہ مقدس جماعت ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کیا ہے اور ان پر آزمائشیں بھی بہت آئی ہیں۔ یہ آیت حضرت عمار، حضرت یاسر اور حضرت سمیہ وغیرہ رضی اللہ عنہم کے متعلق ہے۔ کفار نے انہیں گرفتارکرکے کہا  یا تو کفر اختیار کرویا پھر قتل کر دیے جاؤ گے۔ حضرت یاسررضی اللہ عنہ نے کلمہ کفر نہ کہا یعنی رخصت چھوڑ کر عزیمت پر عمل کرکے جامِ شہادت نوش فرمالیا۔ حضرت سمیہ رضی اللہ عنہا نے بھی عزیمت پر عمل کیا تو دواونٹوں کے ذریعہ ان کے جسم کے دوحصے کر دیئے گئے۔ یہ دونوں بزرگ اسلام کے سب سے پہلے شہید ہیں۔ جبکہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ نے رخصت پر عمل کیا۔ دل ایمان پر مطمئن تھا صرف زبان سے کلمہ کفر کہہ دیا تھا۔ اور خدمت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جاکر اپنا واقعہ سنایا تو اس پر یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ دل ایمان پر مطمئن ہو تو زبان سے مجبوراً کلمہ کفر کہہ لینا کفر نہیں۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اخلاص اور للہیت کو بیان کیا حضرت ابراہیم علیہ السلام پیشوا تھے۔ آپ علیہ السلام نے ہر طرف سے یکسو ہو کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری اختیار کرلی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں جو نعمتیں دے رکھی تھیں ان پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے تھے۔ دنیا میں نعمتیں یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں مقتداء اور پیشوا بنادیا اور دنیاوی نعمتیں بھی عطا فرمائیں۔ امت کا ایک معنی یہ بھی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تنہا ایک فرد تھے لیکن پوری امت اور قوم کے کمالات و فضائل کے جامع تھے۔ اللہ تعالی نے آپ علیہ السلام کی نسل سے انبیاء علیہم السلام کا سلسلہ جاری فرمایا۔ آپ علیہ السلام کے صاحبزادے حضرت اسحاق علیہ السلام کی اولاد سے تقریباً چارہزار انبیاء علیہم السلام مبعوث ہوئے۔ دوسرے صاحبزادے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی نسل سے آپ علیہ السلام کی دعا کا ثمرہ امام الانبیائ، خاتم الانبیائ، سیدالاولین والآخرین حضرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے۔ آخرت کی نعمت یہ کہ آپ علیہ السلام صالحین میں سے ہوں گے۔ آگے اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کو ملت ابراہیمی کی اتباع کا حکم دیا۔اس پارے کے آخر میں اللہ پاک نے دعوت کی ترتیب بتائی ہے کہ جب دعوت دینی ہو تو تین طریقے استعمال کریں:1دلیل سے بات کریں۔ 2: فضائل اور تر غیب سے بات کریں۔ 3: اگر شبہات پیش کیے جائیں توان کو اچھے انداز سے رد بھی کریں۔ ان تین طریقوں کو میں اپنی زبان میں سمجھانے کے لیے دو جملے کہتا ہوں کہ ہمارے ذمے دو کام ہیں: امت کو ایمان واعمال پر لانااورامت کے ایمان واعمال کو بچانا۔ امت ایمان واعمال پر آتی ہے فضائل سے اور امت کاایمان واعمال بچتا ہے دلائل سے، شبہات کا رد کرنے سے؛ تبلیغ والوں کے ذمے لانا ہے اور ہمارے ذمے بچانا ہے۔

مزیدخبریں