سیکرٹری ڈاکٹر احسان بھٹہ کی ولولہ انگیز قیادت میں اصلاحات، ترقی اور شفافیت کی نئی مثال محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب نے گزشتہ تین ماہ کے دوران اصلاحات، مالی شفافیت اور ترقیاتی منصوبوں کی تیز رفتار تکمیل کے حوالے سے نمایاں اور عملی پیش رفت کی ہے۔ سیکرٹری / چیف ایڈمنسٹریٹر اوقاف و مذہبی امور پنجاب ڈاکٹر احسان بھٹہ نے 8 دسمبر 2025 کو محکمہ کا چارج سنبھالنے کے بعد ادارے کو فعال، شفاف اور نتیجہ خیز بنانے کے لیے ایک جامع اور طویل المدتی اصلاحاتی ایجنڈا پر عمل درآمد شروع کیا۔ ان کی ولولہ انگیز قیادت، شبانہ روز محنت اور مربوط حکمت عملی کے نتیجے میں مختصر مدت میں نمایاں اور قابل ذکر نتائج سامنے آئے ہیں۔ یہ تمام اقدامات ڈپٹی پرائم منسٹر اسحاق ڈار کی براہ راست سرپرستی، وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کے واضح وژن اور چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی مسلسل نگرانی کے تحت آگے بڑھ رہے ہیں، جس سے زیر التوا منصوبوں کو نئی رفتار اور عملی سمت ملی ہے اور ادارہ جاتی فیصلوں میں تیزی اور شفافیت آئی ہے۔ صوبے کے روحانی اور تاریخی ورثے کے تحفظ کو ترجیح دیتے ہوئے داتا دربار کے 6.3 ارب روپے کے توسیعی منصوبے کو عملی طور پر متحرک کیا گیا۔ اضافی فنڈز کے اجرا کے لیے مؤثر پیروی کی گئی اور متعلقہ محکموں اور اداروں کے ساتھ مسلسل رابطے کے ذریعے تعمیراتی سرگرمیوں کا باقاعدہ آغاز یقینی بنایا گیا۔ اس منصوبے کا مقصد زائرین کو جدید سہولیات فراہم کرنا، عبادتی مقامات کو وسیع اور محفوظ بنانا اور مجموعی انفراسٹرکچر کو بین الاقوامی معیار کے مطابق ڈھالنا ہے۔ ہائیڈرولک چھتریوں کے منصوبے میں درپیش تکنیکی اور مالی رکاوٹوں کو اعلیٰ سطح پر سنجیدہ پیروی کے ذریعے حل کیا گیا، جس سے یہ اہم سہولت دوبارہ فعال ہوئی اور زائرین کو موسمی اثرات سے تحفظ فراہم کرنے کا مؤثر نظام مضبوط ہوا۔ اسی طرح بی بی پاک دامن، حضرت بابا فرید الدین گنج شکر کے مزار اور حضرت بابا بلھے شاہ کے مزار کے ترقیاتی منصوبوں پر بھی خصوصی توجہ دی گئی۔ ان منصوبوں کے لیے فنڈز جاری کیے گئے، کام کی رفتار کو تیز کیا گیا اور تکمیل کے لیے واضح ٹائم لائن مقرر کی گئی تاکہ شفافیت کے ساتھ بروقت نتائج حاصل کیے جا سکیں اور منصوبے محض اعلانات تک محدود نہ رہیں بلکہ عملی صورت اختیار کریں۔ سالانہ ترقیاتی پروگرام 2025-26 میں شامل مجموعی 38 منصوبوں کے عملی احکامات فوری طور پر جاری کیے گئے اور ان پر فیلڈ سطح پر عملدرآمد کو یقینی بنایا گیا۔ ان منصوبوں کی باقاعدہ مانیٹرنگ کے نتیجے میں بجٹ کے استعمال کی شرح جو پہلے تقریباً 12 فیصد تھی، بڑھ کر 63 فیصد تک پہنچ گئی، جو غیر معمولی پیش رفت کی علامت ہے۔ یہ اضافہ بہتر منصوبہ بندی، بروقت فنڈز کے اجرا، مؤثر فالو اپ اور زمینی حقائق کی بنیاد پر فیصلہ سازی کا نتیجہ ہے۔ ترقیاتی عمل کو محض کاغذی کارروائی تک محدود رکھنے کے بجائے عملی بنیادوں پر آگے بڑھایا گیا تاکہ عوام کو حقیقی اور نظر آنے والے فوائد حاصل ہوں اور سرکاری وسائل کا مؤثر استعمال یقینی بنایا جا سکے۔ انتظامی اور مالی شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے مزارات کے گلہ جات کی مرکزی نگرانی کا مؤثر اور مربوط نظام نافذ کیا گیا۔ اس نظام کے تحت تمام نقد وصولیوں کی مانیٹرنگ کو ڈیجیٹل اور مرکزی سطح پر منظم کیا گیا تاکہ آمدن کا مکمل ریکارڈ محفوظ، قابل تصدیق اور شفاف ہو۔ اس اقدام کے نتیجے میں داتا دربار سمیت دیگر مزارات کی آمدن میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ بالخصوص داتا دربار پر طویل عرصہ سے تعینات سٹاف اور عملے میں تبدیلی کے بعد میرٹ کی بنیاد پر نئی تعیناتیاں عمل میں لائی گئیں۔ اس انتظامی تبدیلی کے بعد کیش آمدن میں واضح اور خاطر خواہ اضافہ سامنے آیا، جو شفاف نظام، مؤثر نگرانی اور احتساب کے مضبوط ڈھانچے کا عملی ثبوت ہے۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ کی اس مثبت اور جرأت مندانہ کارروائی کو نہ صرف دینی و مذہبی حلقوں نے سراہا بلکہ انتظامی اور سماجی سطح پر بھی اسے ایک ضروری اور تاریخی اصلاح قرار دیا جا رہا ہے۔ مالی شفافیت کے اس ماڈل کو دیگر مزارات تک بھی وسعت دینے کا عمل جاری ہے تاکہ تمام مقدس مقامات پر آمدن کا نظام مکمل نگرانی، آڈٹ اور شفاف طریقہ کار کے تحت چل سکے اور کسی بھی سطح پر بدعنوانی یا بے ضابطگی کا امکان نہ رہے۔ ڈاکٹر احسان بھٹہ کی مؤثر مانیٹرنگ اور فعال نگرانی کے باعث محکمہ کے اندر طویل عرصہ سے زیر التوا پنشن کیسز اور محکمانہ انکوائریوں کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹایا گیا ہے۔ ریٹائرڈ ملازمین اور بیوگان کے واجبات کی ادائیگی کو یقینی بنایا گیا تاکہ انہیں مالی مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ اپنے قانونی حقوق بروقت حاصل کر سکیں۔ ملازمین کے لیے 20 فیصد اوقاف الانس کی منظوری دی گئی، جس سے ان کی مالی حوصلہ افزائی اور کارکردگی میں نمایاں بہتری آئی۔ اس فیصلے نے ملازمین میں اعتماد پیدا کیا اور انہیں بہتر کارکردگی دکھانے کا حوصلہ ملا۔ میرٹ پر تقرریوں اور تبادلوں کے نظام کو مزید مضبوط اور شفاف بنایا گیا تاکہ ادارے کے انتظامی ڈھانچے میں پیشہ ورانہ صلاحیت، جوابدہی اور شفافیت کو فروغ دیا جا سکے۔ سفارش اور غیر شفاف طریقہ کار کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے قابل، اہل اور تجربہ کار افراد کو ذمہ داریاں سونپی گئیں، جس کے نتیجے میں ادارہ مزید فعال اور متحرک ہوا ہے۔ ادارہ جاتی استحکام کے لیے قانونی اصلاحات بھی اہم سنگِ میل ثابت ہوئیں۔ پنجاب وقف املاک آرڈیننس 1979 میں اہم ترمیم کرتے ہوئے سیکرٹری اوقاف کو چیف ایڈمنسٹریٹر مقرر کیا گیا، جس سے فیصلہ سازی کے عمل کو مضبوط قانونی بنیاد فراہم ہوئی اور انتظامی اختیارات کو واضح اور مربوط انداز میں منظم کیا گیا۔ اس اصلاح کے ذریعے سرکاری اور وقف املاک کے تحفظ اور بہتر انتظام کو یقینی بنانے کے لیے ایک مؤثر قانونی اور انتظامی ڈھانچہ قائم ہوا۔ اوقاف املاک کی برقی ریکارڈ سازی اور خودکار نظام کے منصوبے کو بھی تیز کیا گیا تاکہ تمام جائیدادوں، لیز معاہدوں، کرایہ جات اور ملکیتی دستاویزات کا مکمل ڈیجیٹل ریکارڈ تیار ہو سکے۔ اس ڈیجیٹلائزیشن کے عمل سے شفافیت میں اضافہ ہو گا، ریکارڈ کی دستیابی آسان ہو گی اور غیر قانونی قبضوں یا مالی بے ضابطگیوں کی بروقت روک تھام ممکن ہو گی۔ بند عمارات اور غیر فعال سہولیات کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے گئے۔ جن عمارات اور املاک سے عرصہ دراز تک کوئی آمدن حاصل نہیں ہو رہی تھی، انہیں بحال کر کے عوامی اور تجارتی استعمال کے قابل بنایا جا رہا ہے۔ اس پالیسی کا مقصد نہ صرف ادارے کی آمدن میں اضافہ کرنا ہے بلکہ وقف املاک کے وسائل کو مؤثر، منظم اور شفاف طریقے سے استعمال میں لانا بھی ہے تاکہ یہ اثاثے قومی مفاد اور عوامی خدمت میں بہتر کردار ادا کر سکیں۔ مذہبی سیاحت کے فروغ کے لیے بادشاہی مسجد اور دیگر اہم مذہبی مقامات پر تزئین و آرائش، صفائی ستھرائی اور زائرین کی سہولیات میں بہتری کے اقدامات کیے گئے ہیں۔ وضو خانوں، بیٹھنے کی جگہوں، پارکنگ اور بنیادی انفراسٹرکچر کو بہتر بنایا گیا تاکہ آنے والے زائرین کو باوقار، محفوظ اور آرام دہ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ان تین ماہ کے دوران اختیار کی گئی پالیسیوں کا بنیادی مقصد محکمہ اوقاف کو روایتی انتظامی انداز سے نکال کر جدید، شفاف اور ڈیجیٹل نظام پر استوار کرنا ہے۔ آمدن کے ذرائع کو مضبوط بنانے، خرچ کو مؤثر بنانے اور وسائل کو عوامی فلاح اور ادارہ جاتی ترقی پر خرچ کرنے کے لیے واضح اور جامع حکمت عملی اپنائی گئی ہے۔ اعلیٰ حکومتی قیادت کی سرپرستی، مسلسل نگرانی اور بروقت رہنمائی نے ان اصلاحات کو عملی شکل دینے میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں نہ صرف ادارے کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے بلکہ عوامی اعتماد بھی بحال اور مضبوط ہوا ہے، جس سے محکمہ کی ساکھ اور شفافیت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مستقبل میں بھی اسی رفتار سے اصلاحات کو جاری رکھنے، مالی نظم و ضبط کو مزید مضبوط بنانے، ڈیجیٹل نظام کو مکمل طور پر نافذ کرنے اور ترقیاتی منصوبوں کو مقررہ مدت میں مکمل کرنے کا عزم ظاہر کیا گیا ہے۔ محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب اپنے وسائل کو شفاف، مؤثر اور جوابدہ انداز میں استعمال کرتے ہوئے ایک ماڈل ادارے کے طور پر اپنی ذمہ داریاں احسن طریقے سے ادا کرنے کی سمت میں گامزن ہے۔ ان تین ماہ کی کارکردگی اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ اگر نیت درست ہو، قیادت مضبوط ہو اور نظام شفاف ہو تو مختصر عرصے میں بھی بڑے اور مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں، اور یہی اصلاحی سفر آئندہ بھی جاری رکھنے کا پختہ عزم ہے۔
محکمہ اوقاف و مذہبی امور پنجاب کی تین ماہ کی کارکردگی رپورٹ
09:11 AM, 4 Mar, 2026