ڈیجیٹل جنگ کا نیا دور: جب الگورتھم نے ٹریگر دبایا

09:10 AM, 4 Mar, 2026

دنیا کی عسکری تاریخ میں ایسے موڑ کم ہی آتے ہیں جہاں طاقت کا مفہوم اچانک بدل جائے۔ کبھی بارود نے تلوار کو شکست دی، کبھی ایٹم نے توپوں کو غیر مؤثر بنا دیا، مگر اب ایک ایسا عہد سر اٹھا رہا ہے جس میں فیصلہ کن قوت نہ انسانی بازو میں ہے اور نہ ہی دھاتی ہتھیار میں، بلکہ اْن الگورتھمز میں پوشیدہ ہے جو خاموشی سے ڈیٹا کے سمندر میں تیرتے ہوئے نتائج اخذ کرتے ہیں۔ حالیہ دنوں سامنے آنے والی اطلاعات جنہیں امریکی اخباروال سٹریٹ جرنل نے ایک چونکا دینے والی رپورٹ کے طور پر پیش کیا اسی نئے عہد کی جھلک دکھاتی ہیں، جہاں جنگی حکمت عملی اور مصنوعی ذہانت کے امتزاج نے اخلاقیات، سیاست اور اقتدار کے مروجہ تصورات کو چیلنج کر دیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنانے والے مبینہ آپریشن میں سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے خلاف کارروائی کی منصوبہ بندی میں انسانی فیصلہ سازی کے بجائے مصنوعی ذہانت نے مرکزی کردار ادا کیا۔ اگر یہ دعویٰ درست مان لیا جائے تو یہ انسانی تاریخ کا پہلا ایسا لمحہ قرار دیا جا سکتا ہے جب کسی ہائی پروفائل عسکری ہدف کے انتخاب، وقت اور حملے کے زاویے تک کا تعین ایک خودکار ڈیجیٹل نظام نے کیا۔ اس نظام کے پس منظر میں امریکی اے آئی کمپنی Anthropic کا تیار کردہ ماڈل Claude AI بتایا جا رہا ہے، جسے عمومی طور پر محفوظ اور اخلاقی مصنوعی ذہانت کے نظریات سے وابستہ سمجھا جاتا رہا ہے۔
یہ معاملہ مزید پیچیدہ اس وقت ہو جاتا ہے جب سیاسی تضادات اس کہانی میں شامل ہوتے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے قومی سلامتی کے خدشات کا حوالہ دیتے ہوئے سرکاری اداروں میں بعض اے آئی نظاموں کے استعمال پر تحفظات ظاہر کیے اور متبادل ٹیکنالوجیز، خصوصاً OpenAI کے ماڈلز کو ترجیح دینے کی بات کی۔ مگر عسکری ادارے اکثر سیاسی بیانات سے زیادہ زمینی ضرورتوں کے تابع ہوتے ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ جیسے ادارے اگر کسی ٹیکنالوجی کو اپنے دفاعی ڈھانچے میں ضم کر لیں تو اسے فوری طور پر نکال دینا محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں رہتا بلکہ عملی طور پر ناممکن ہو جاتا ہے۔
جدید جنگ اب گولی چلانے سے پہلے معلومات اکٹھی کرنے کا نام بن چکی ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ڈیٹا کمپنی Palantir Technologies جیسے اداروں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ اربوں سگنلز، سیٹلائٹ تصاویر، شہری نقل و حرکت کے پیٹرنز اور سکیورٹی پروٹوکولز کو ایک ہی فریم میں جمع کرنا انسانی دماغ کے لیے تقریباً ناممکن ہے، مگر مصنوعی ذہانت کے لیے یہ چند لمحوں کا عمل ہے۔ مشین لرننگ ماڈلز انسانی عادات کو ریاضیاتی امکانات میں تبدیل کر دیتے ہیں۔ کون کب کہاں جاتا ہے، کس راستے سے گزرتا ہے، کون سی عمارت کب مصروف ہوتی ہے یہ سب محض رویے نہیں بلکہ ڈیٹا پوائنٹس بن جاتے ہیں۔
اسی ڈیجیٹل زنجیر کی دوسری اہم کڑی خلائی رابطہ نظام تھا جسے ایلون مسک کی کمپنی SpaceX کے عسکری منصوبے Starshield سے جوڑا جاتا ہے۔ جدید جنگ میں سب سے بڑی رکاوٹ تاخیر یعنی لیٹنسی ہوتی ہے؛ انسان سوچتا ہے، حکم دیتا ہے، اور پھر ہتھیار حرکت میں آتے ہیں۔ مگر جب مصنوعی ذہانت براہِ راست سیٹلائٹ نیٹ ورک سے جڑی ہو تو فیصلہ اور عمل تقریباً ایک ہی لمحے میں وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ اس صورت میں جنگ کا میدان ہزاروں میل دور نہیں رہتا بلکہ ایک ڈیجیٹل سکرین پر سمٹ آتا ہے۔
اس کے بعد ہتھیار خود بھی بدل چکے ہیں۔ دفاعی ٹیکنالوجی کمپنی Anduril Industries کے تیار کردہ سافٹ ویئر ڈیفائنڈ نظاموں کو اکثر روایتی میزائلوں سے مختلف قرار دیا جاتا ہے۔ یہ ایسے پلیٹ فارم ہیں جو دورانِ پرواز معلومات حاصل کرتے ہیں، اپنے راستے بدلتے ہیں اور نئے اہداف منتخب کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر انہیں مصنوعی ذہانت کے ساتھ مکمل طور پر جوڑ دیا جائے تو وہ محض ہتھیار نہیں بلکہ خودکار فیصلہ ساز نظام بن سکتے ہیں۔
اصل سوال مگر ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اخلاقیات کا ہے۔ انسانی کمانڈر کے فیصلے میں خوف، سیاسی دباؤ، بین الاقوامی ردعمل اور انسانی ہمدردی جیسے عوامل شامل ہوتے ہیں۔ ایک مشین کے لیے یہ سب غیر متعلق متغیرات ہیں۔ اس کے لیے کامیابی کا مطلب صرف ہدف کا حصول اور نقصان کا کم سے کم ہونا ہے، چاہے اس کے سماجی یا سیاسی اثرات کتنے ہی پیچیدہ کیوں نہ ہوں۔ یہی وہ پہلو ہے جس نے عالمی سطح پر خودمختار ہتھیاروں کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے۔
ایران کی سیاسی قیادت میں اْس وقت کے صدر مسعود پزشکیان اور پاسدارانِ انقلاب کی اعلیٰ کمان کے ممکنہ متاثر ہونے کی خبریں اس بحث کو مزید حساس بنا دیتی ہیں۔ اگر کسی ریاست کی قیادت کو نشانہ بنانے کا اختیار الگورتھم کے سپرد کر دیا جائے تو عالمی سیاست میں عدم استحکام کا خطرہ کئی گنا بڑھ سکتا ہے۔ کیونکہ مشینیں سفارتی نتائج نہیں سمجھتیں، نہ ہی وہ جنگ اور امن کے درمیان باریک توازن کو محسوس کر سکتی ہیں۔
یہ معاملہ صرف عسکری حکمت عملی تک محدود نہیں رہتا بلکہ ٹیکنالوجی کمپنیوں کی ذمہ داری پر بھی سوال اٹھاتا ہے۔ جو ادارے خود کو’’سیفٹی فرسٹ‘‘ نظریے کے علمبردار کہتے رہے، وہ اگر ریاستی دباؤ یا معاشی مفادات کے تحت عسکری نظاموں کا حصہ بن جائیں تو اخلاقی سرحدیں کہاں قائم رہیں گی؟ امریکی محکمہ دفاع یعنی پینٹاگون کی ضروریات اکثر نظریاتی مباحث سے زیادہ طاقتور ثابت ہوتی ہیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں نجی شعبے اور ریاستی طاقت کا اتحاد ایک نئی حقیقت بن جاتا ہے۔
سیاسی سطح پر بھی اس کے اثرات نمایاں ہیں۔ صدر ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم Truth Social پر کامیابی کے دعوے کیے، مگر عالمی برادری کے لیے اصل مسئلہ کسی ایک کارروائی کی کامیابی نہیں بلکہ اس روایت کا آغاز ہے۔ اگر ایک ملک مصنوعی ذہانت کے ذریعے دشمن قیادت کو نشانہ بناتا ہے تو دوسرا ملک بھی یہی راستہ اختیار کرے گا۔ یوں جنگ کا میدان انسانی برداشت سے کہیں زیادہ تیز رفتار اور غیر متوقع ہو جائے گا۔
مصنوعی ذہانت کی جنگی صلاحیتیں بلاشبہ حیران کن ہیں۔ وہ دشمن کی اگلی حرکت کا اندازہ لگا سکتی ہے، وسائل کا بہترین استعمال تجویز کر سکتی ہے اور انسانی غلطیوں کو کم کر سکتی ہے۔ مگر اسی کے ساتھ یہ خطرہ بھی موجود ہے کہ انسان اپنی ہی تخلیق کے پیچھے کھڑا ایک غیر ضروری عنصر بن جائے۔ جب فیصلے ڈیٹا کے امکانات پر مبنی ہوں گے تو رحم، مفاہمت اور سیاسی حکمت جیسے انسانی اوصاف کہاں جگہ پائیں گے؟
شاید ہم اْس دہلیز پر کھڑے ہیں جہاں جنگ صرف میدانوں میں نہیں بلکہ سرور رومز میں لڑی جائے گی۔ طاقت کا مرکز اب بارود کے ذخائر نہیں بلکہ کمپیوٹنگ پاور اور الگورتھمز ہوں گے۔ سوال یہ نہیں کہ مصنوعی ذہانت جنگ کا حصہ بنے گی یا نہیں؛ سوال یہ ہے کہ کیا انسان اس کے فیصلوں پر آخری اختیار برقرار رکھ سکے گا۔ اگر نہیں، تو تاریخ پہلی بار ایسی جنگوں کی گواہ بن سکتی ہے جہاں فاتح بھی انسان ہوں گے اور شکست خوردہ بھی مگر فیصلہ کسی خاموش پروسیسر کی سرد منطق نے کیا ہوگا۔ 

مزیدخبریں