ایران امریکہ کشیدگی اور پروپیگنڈا کی لہر

09:09 AM, 4 Mar, 2026

مشرقِ وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے جہاں عالمی سیاست کو ایک نازک موڑ پر کھڑا کر دیا ہے، وہاں سوشل میڈیا اور پروپیگنڈا کے اس دور میں عام پاکستانی کے ذہن میں یہ سوال بھی جنم لے رہا ہے ’’کیا اگلا نشانہ پاکستان ہے؟‘‘ یہ خوف فطری تو ہو سکتا ہے، لیکن حقائق کی روشنی میں یہ سراسر بے بنیاد ہے۔ پاکستانی قوم کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ان کی ریاست نہ صرف بیدار ہے بلکہ ہر قسم کے عالمی دباؤ اور چیلنجز سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔
پاکستان کی بنیادیں کسی حادثے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک عظیم مقصد کی مرہونِ منت ہیں۔ اگر ہم ماضی قریب پر نظر دوڑائیں تو نائن الیون کے بعد کی طویل جنگ اس کا سب سے بڑا ثبوت ہے۔ جب دنیا کی بڑی بڑی طاقتیں دہشت گردی کے عفریت کے سامنے بے بس ہو رہی تھیں، اس وقت پاکستان نے تنِ تنہا وہ جنگ لڑی جو ہماری سرحدوں سے زیادہ ہمارے اندرونی استحکام کے خلاف تھی۔ ہم نے اس طویل جنگ میں جانی اور مالی قربانیاں دیں، لیکن آج دنیا اعتراف کرتی ہے کہ پاکستان نے جس مہارت اور جرأت سے اس فتنے کو کچلا، اس کی مثال جدید جنگی تاریخ میں نہیں ملتی۔ جو قوم اپنی گلیوں اور بازاروں میں لڑی جانے والی جنگ جیت سکتی ہے، وہ بیرونی خطرات سے نمٹنا بخوبی جانتی ہے۔
پاکستان کا محل وقوع کوئی عام جغرافیہ نہیں ہے۔ ہم اس خطے کے دل ہیں جہاں سے دنیا کی تجارت اور سیاست کے راستے گزرتے ہیں۔ پاکستان کے بغیر دنیا کا نقشہ نہ صرف ادھورا ہے بلکہ عالمی توازنِ قوت بھی برقرار نہیں رہ سکتا۔ ہم چین، روس، وسطی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان ایک پْل کی حیثیت رکھتے ہیں۔ دنیا کی کوئی بھی طاقت پاکستان کو نظر انداز کرنے یا اسے غیر مستحکم کرنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی کیونکہ پاکستان کا عدم استحکام پورے خطے اور عالمی معیشت کے لیے ایک ایسا بحران پیدا کر دے گا جسے سنبھالنا کسی کے بس میں نہیں ہوگا۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری تنازع بلاشبہ پریشان کن ہے، لیکن پاکستان کی خارجہ پالیسی ہمیشہ ’’توازن اور امن‘‘ پر مبنی رہی ہے۔ ہم نے ہمیشہ برادر اسلامی ممالک کے مفادات اور عالمی امن کے درمیان ایک بہترین توازن برقرار رکھا ہے۔ ہماری ریاست کے پاس وہ سفارتی بصیرت موجود ہے جو ہمیں کسی کی جنگ کا ایندھن بننے سے روکتی ہے۔ پاکستان کی ایٹمی طاقت اور جدید ترین میزائل ٹیکنالوجی وہ ’’ڈیٹرنس‘‘ (Deterrence) فراہم کرتی ہے جو کسی بھی دشمن کو پاکستان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے سے پہلے ہزار بار سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔
قوم کو یہ یقین رکھنا چاہیے کہ ان کی ریاست کے ادارے اور محافظ دن رات سرحدوں کی حفاظت کر رہے ہیں۔ ہماری انٹیلی جنس ایجنسیاں اور مسلح افواج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہیں جن کا کام ہی خطرات کو آنے سے پہلے بھانپنا اور انہیں جڑ سے ختم کرنا ہے۔ پاکستان کی طرف اٹھنے والا ہر قدم روکنے کے لیے ریاست مکمل طور پر تیار ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) دشمن کا پہلا ہتھیار ہوتی ہے، جس کا مقصد عوام میں مایوسی اور بے یقینی پھیلانا ہے۔
اللہ کریم اس سرزمین کا نگہبان ہے اور تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک پر مشکل وقت آیا، یہ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو کر ابھرا۔ پاکستان محض ایک ملک نہیں، ایک نظریہ ہے اور نظریے کبھی ختم نہیں ہوتے۔ ہم ان شا اللہ نہ صرف موجودہ عالمی بحرانوں سے محفوظ نکلیں گے بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک معاشی اور دفاعی قوت بن کر مزید چمکیں گے۔ یہ ملک رہتی دنیا تک قائم و دائم رہنے کے لیے بنا ہے اور اس کے محافظوں کے ہاتھ اتنے ہی مضبوط ہیں جتنا آپ کا ایمان۔
گھبرانے کی ضرورت نہیں، صرف متحد رہنے اور اپنی ریاست پر بھروسہ کرنے کی ضرورت ہے۔

مزیدخبریں